سافٹ ویئر کی خرید و فروخت

    software ki khareed o farokht

    تاریخ: 13 اکتوبر، 2026
    مشاہدات: 51
    حوالہ: 1856

    سوال

    کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بکر ایک سافٹ ویئر ڈویلپر ہے۔ وہ ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام (سافٹ ویئر) تیار کر رہا ہے جو ابھی مکمل نہیں ہوا، بلکہ اس کی تیاری میں مزید تین ماہ درکار ہیں۔ اس لیے وہ مارکیٹ میں اس غیر مکمل سافٹ ویئر کی "ایڈوانس بکنگ (Pre-booking)" شروع کرتا ہے۔ خالد اس سافٹ ویئر کو خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ بکر سے انٹرنیٹ (ای میل اور واٹس ایپ) کے ذریعے رابطہ کرتا ہے۔ بکر اسے قیمت بتاتا ہے اور کہتا ہے: "میں تین ماہ بعد یہ سافٹ ویئر تمہیں دوں گا، تم پوری قیمت ابھی ایڈوانس جمع کروا دو۔"

    خالد یہ شرط قبول کر کے پوری رقم بکر کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیتا ہے۔

    شرعی نقطۂ نظر سے درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:

    1:۔کیا یہ معاملہ عقد سلم (Salam) کے تحت درست ہے؟ جبکہ سافٹ ویئر کوئی مادی یا وزنی چیز نہیں ہے بلکہ ایک ڈیجیٹل پروڈکٹ (حق مجرد یا منافع) ہے۔

    2:۔کیا اس معاملے کو استصناع (Manufacturing Contract) قرار دیا جا سکتا ہے؟ جبکہ سافٹ ویئر میں مادی خام مال (Raw (materialاستعمال نہیں ہوتا۔

    سائل : اسامہ بن طارق (کراچی)


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پہلے سوال کا جائزہ:

    یہ معاملہ سلم کے طور پر تو درست معلوم نہیں ہوتا جس کی متعدد وجوہات ہیں۔ چند اہم وجوہ ملاحظہ فرمائیں ۔

    پہلی وجہ مع تنقیح :

    جس کی ایک وجہ تو آپ نے بیان کی ہے کہ سلم ان چیزوں میں ہو سکتی ہے جن میں مسلم فیہ کی مقدار کا ضبط ممکن ہو اور یہ ضبط مکیلی ،موزونی اور عددی غیر متفاوت چیزوں میں ہی ہو سکتا ہے جبکہ سافٹ ویئر اس طرح کی چیز نہیں۔لیکن جہاں پر ڈیجیٹل مصنوعات اور مختلف غیر مادی حقوق Intangible Rights) )کی خرید وفروخت کا معاملہ سلم کے تحت ہو رہا ہواور شرائطِ سلم بھی پائی جائیں تو محض اس بنیاد پر انہیں خارج از سلم قرار نہیں دے سکتے کہ یہ مکیلی و موزونی نہیں بلکہ ان میں معرفت ِمقدار کا اعتبار مادی پیمائش سے نہیں بلکہ ان کے اپنے حساب سے ہو گا مثلاً سافٹ ویئر میں استعمال کی حدود، صارفین کی تعداد، لائسنس کی مدت، مطلوبہ آپریٹنگ سسٹم، اسٹوریج وغیرہا کے ذریعے اس کی حد بندی ہو گی۔یہ فرق اس لیے ضروری ہے کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ کے دور میں سلم کے معاملات بالعموم مادی اعیان (Tangible Goods) سے متعلق تھے،اور ان میں معرفت مقدار کا اعتبار کیل وزن یا عددی متقارب کے ذریعے ہی ممکن تھا جبکہ اب مقدارکی معرفت کے معاملات وسعت آ چکی ہے ۔

    سلم ان اشیا میں ہو سکتی ہے جو مکیلی و موزونی یا عددی متقارب ہوں امام قدوری (المتوفی: 428ھ) لکھتے ہیں:"السلم جائز في المكيلات والموزونات والمعدودات التي لا تتفاوت كالجوز والبيض وفي المذروعات ولا يجوز السلم في الحيوان ولا في أطرافه ولا في الجلود عددا ولا في الحطب حزما ولا في الرطبة جرزا"ترجمہ: سلم مکیلات، موزونات اور ایسی معدودات میں جائز ہے جن میں تفاوت نہ ہو، جیسے اخروٹ اور انڈے، اور مذروعات میں بھی جائز ہے۔ اور حیوان میں، نہ اس کے اعضاء میں، نہ کھالوں میں عدد کے اعتبار سے، نہ لکڑی کے گٹھوں میں اور نہ تر سبزی کے گٹھیوں میں سلم جائز ہے۔(مختصر القدوري، ص 88)

    دوسری وجہ :

    سلم میں مسلم فیہ کا تعلق دین فی الذمہ یا دین موصوف فی الذمہ سے ہوتا ہے کہ مطلوبہ اوصاف کی حامل کوئی بھی چیز مشتری کے حوالہ کرنا ہوتی ہے اس میں مبیع متعین نہیں ہوتی کہ بعینہ و ہی مسلم فیہ میں دینی قرار پائے بلکہ جہاں پر تعیین آ جائے فقہائے کرام اسے سلم کے طور پر جائز نہیں سمجھتے جیسے غلے کی بیع سلم میں مخصوص علاقہ کے غلے کی قید لگانا یا مخصوص زمین کی فصل کی قید لگا نا ،یہ تعیین کی وجہ سےجائز نہیں جبکہ مذکورہ سافٹ ویئر دین موصوف فی الذمہ نہیں بلکہ عین مصنوع (متعین ) فی الذمہ ہے کہ عقد خاص اسی پر وارد ہو رہا ہےاور وہی متعین سافٹ ویئر دینا ہو گا۔

    سلم میں مسلم فیہ دین فی الذمہ ہوتی ہے الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:"لأن المسلم فيه دين في الذمة"ترجمہ: کیونکہ مسلم فیہ ذمے میں دین ہوتا ہے۔(الموسوعة الفقهية الكويتية، 11/319)

    سلم میں مخصوص جگہ یا مخصوص درخت کی پیداوار متعین کرنا جائز نہیں امام قدوری (المتوفی: 428ھ) لکھتے ہیں:"ولا في طعام قرية بعينها ولا ثمرة نخلة بعينها"ترجمہ: اور کسی معین بستی کے غلے میں سلم جائز نہیں، اور نہ کسی معین کھجور کے درخت کے پھل میں۔(مختصر القدوري، ص 88)

    سلم میں مبیع کی حیثیت ڈاکٹر وہبہ زحیلی (المتوفی: 1436ھ) لکھتے ہیں:"إن المبيع في السلم دين (هو ما ثبت في الذمة تحتمله الذمة)"ترجمہ: بے شک سلم میں مبیع دین ہوتا ہے، اور دین وہ ہے جو ذمے میں ثابت ہو اور ذمہ اسے برداشت کر سکے۔ (الفقه الإسلامي وأدلته، 5/3653)

    تیسری وجہ :

    سلم میں مسلم فیہ کا وقتِ عقد سے لیکر سپرد ہونے تک بازار میں موجود ہو نا ضروری ہے جبکہ مذکورہ سافٹ ویئر کا بازار میں یوں دستیاب ہونا مشکل ہے ۔

    فائدہ :در اصل یہ توجیہ بھی مسلم فیہ کے دین فی الذمہ ہونے کی تفریع و تتمہ ہے تاکہ سپردگی میں آسانی ہو۔

    سلم کی درستی کے لیے مسلم فیہ کے وجود کے حوالے سے امام قدوری (المتوفی: 428ھ) فرماتے ہیں:"ولا يجوز السلم حتى يكون المسلم فيه موجودا من حين العقد إلى حين المحل :ترجمہ: اور سلم جائز نہیں یہاں تک کہ مسلم فیہ عقد کے وقت سے لے کر مدت پوری ہونے کے وقت تک موجود ہو ۔(مختصر القدوري، ص 88)

    دوسرے سوال کا جواب :

    اس معاملہ کا فقہی جائزہ استصناع کے تناظر میں لیا جائے تو بیع استصناع مکمل طور پر اس پر صادق آتی ہے ۔وہ یوں کہ:

    1:۔ استصناع میں عقد عینِ مصنوع (متعین ) فی الذمہ پر وارد ہوتا ہے اور وہ مستصنع کو وہی متعین چیز دینی ہوتی ہے جبکہ یہاں بھی معاملہ ایسا ہی ہے کہ مذکورہ سافٹ ویئر کی حیثیت بھی عین مصنوع (متعین ) کی ہے کہ صانع کا مستصنع کو وہی سافٹ ویئر دینا ہو گا اس جیسا کوئی اور نہیں ۔

    ڈاکٹر وہبہ زحیلی (المتوفی: 1436ھ) لکھتے ہیں:"هو ثبوت الملك للمستصنع في العين المصنوعة في الذمة"ترجمہ: یہ مستصنع کے لیے ذمے میں موجود تیار کی جانے والی عین میں ملکیت کا ثابت ہونا ہے۔(الفقه الإسلامي وأدلته، 5/3649، مكتبة رشيدية)

    ڈاکٹر وہبہ زحیلی (المتوفی: 1436ھ) مزید لکھتے ہیں:"أما المبيع في الاستصناع فهو عين (أي ما يتعين بالتعيين أو الشيء المعين المشخص بذاته أو المال الحاضر) لا دين"ترجمہ: لیکن استصناع میں مبیع عین ہے، یعنی وہ چیز جو تعیین کے ساتھ متعین ہوجاتی ہے، یا اپنی ذات کے اعتبار سے معین و مشخص چیز، یا موجود مال، نہ کہ دین۔(الفقه الإسلامي وأدلته، 5/3649، مكتبة رشيدية)

    2:۔استصناع میں مبیع مصنوع ہوتی ہے جس میں بندے کی صنعت /کاریگری کو دخل ہوتا ہے( خواہ یہ صنعت و کاریگری عقد سےپہلےہوچکی ہو یا بعد میں ہونی ہو اس سے فرق نہیں پڑتا )اور سافٹ ویئر میں بھی ایسا ہی ہے کہ اس کو بنایا جائے گا ۔

    3:۔ بیع سلم میں تو مبیع وقتِ عقد سے وصول یابی تک بازار میں میسر ہونا شرط ہے جیسا کہ قدوری کے حوالےسے گزر چکا جبکہ استصناع میں ایسی کوئی شرط نہیں ۔اور مذکورہ سافٹ ویئر اپنی مکمل خصوصیات کےساتھ بازار میں میسر ہو، ضروری نہیں ۔

    سافٹ ویئر کی بیع کے استصناع نہ ہونے پر پیش کردہ اشکال کا جواب :

    آپ نے کہا کہ بیع استصناع میں مادی خام مال (Raw material)استعمال ہوتا ہے جبکہ سافٹ ویئر میں نہیں ۔

    جوابِ اشکال :اولاً تو اس کی کہیں تصریح موجود نہیں کہ استصناع میں مادی خام مال کا استعمال ہونا شرط کے درجے میں ہے ۔اور اگر بالفرض شرط مان بھی لیں تو سافٹ ویئر کا خام مال اس کے اپنے غیر حسی وجود کے لحاظ سے ہو گا نا کہ مادی وجود کے اعتبار سے ۔

    اشکال:

    بیعِ استصناع کی وہی شرائط ہیں جو بیعِ سلم کی ہیں، سوائے ایک شرط کے، اور وہ یہ ہے کہ بیعِ سلم میں ثمن پیشگی دینا ضروری ہوتا ہے، جبکہ استصناع میں ایسا ضروری نہیں۔ چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:"تمام وہ شرائط جو بیعِ سلم میں مذکور ہوئے اُن کی مراعات کی جائے، یہاں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کے بنوانے کا چلن اور رواج مسلمانوں میں ہے یا نہیں، بلکہ صرف یہ دیکھیں گے کہ اس میں سلم جائز ہے یا نہیں، اگر مدت ہی نہ ہو یا ایک ماہ سے کم کی مدت ہو تو استصناع ہے اور اس کے جواز کے لیے تعامل ضروری ہے۔" (بہار شریعت، حصہ 11، ص 808، مکتبۃ المدینہ)

    مذکورہ عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ استصناع میں بھی بیعِ سلم کی شرائط کا لحاظ کیا جاتا ہے، اور ان شرائط میں یہ بھی ہے کہ مبیع مثلی ہو، یعنی مکیلی، موزونی یا عددی متقارب ہو۔ تو پھر زیرِ بحث سافٹ ویئر کو کس بنیاد پر استصناع قرار دیا جائے، جبکہ سافٹ ویئر نہ مکیلی و موزونی ہے اور نہ عددی متقارب اشیاء میں سے ہے؟

    جواب :

    صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کی مذکورہ عبارت کا درست محمل یہ ہے کہ جب استصناع میں ایسی مدت ذکر کردی جائے جس کی وجہ سے وہ شرعاً بیعِ سلم کی صورت اختیار کرلے تو پھر اس میں بیعِ سلم کی تمام شرائط کا اعتبار ہوگاکیونکہ اس صورت میں وہ محض استصناع نہیں رہتا بلکہ بیعِ سلم بن جاتا ہے۔ لہٰذا مکیلی، موزونی یا عددی متقارب ہونے جیسی شرائط کا اعتبار بھی اسی صورت میں ہوگا۔ یہ عبارت در اصل در مختار سےمنقول ہےاور اس سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے ملاحظہ ہو :

    "والاستصناع هو طلب عمل الصنعة (بأجل) ذكر على سبيل الاستمهال لا الاستعجال فإنه لا يصير سلما (سلم) فتعتبر شرائطه (جرى فيه تعامل أم لا) وقالا: الأول استصناع (وبدونه) أي الأجل (فيما فيه تعامل) الناس (كخف وقمقمة وطست)"ترجمہ: استصناع صنعت کا کام طلب کرنا ہے، ایسی مدت کے ساتھ جو مہلت طلب کرنے کے طور پر ذکر کی جائے، جلدی طلب کرنے کے طور پر نہیں؛ کیونکہ اگر اس طرح ہو تو وہ سلم ہوجاتا ہے، لہٰذا اس میں سلم کی شرائط معتبر ہوں گی، خواہ اس میں لوگوں کا تعامل جاری ہو یا نہ ہو۔ اور صاحبین رحمہما اللہ نے فرمایا کہ پہلی صورت بھی استصناع ہی ہے۔ اور مدت کے بغیر ان چیزوں میں جن میں لوگوں کا تعامل ہو، جیسے موزہ، قمقما اور طشت۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ط الحلبي، 5/224، ملخصاً)

    علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ (المتوفیٰ: 1252ھ) نے بھی اس کے تحت اس محمل کی صراحت فرمائی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:"وأن لا يكون مؤجلا وإلا كان سلما وعندهما المؤجل استصناع إلا إذا كان مما لا يجوز فيه الاستصناع، فينقلب سلما في قولهم جميعا ... (قوله سلم) أي فلا يبقى استصناعا كما في التتارخانية، فلذا قال الشارح فتعتبر شرائطه أي شرائط السلم، ولهذا لم يكن فيه خيار مع أن الاستصناع فيه خيار لكونه عقدا غير لازم كما يأتي تحريره"ترجمہ: استصناع کی شرط یہ ہے کہ وہ مؤجل نہ ہو، ورنہ وہ سلم ہوگا، جبکہ صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک مؤجل صورت بھی استصناع ہے، مگر جب وہ ایسی چیز ہو جس میں استصناع جائز نہیں تو سب کے نزدیک وہ سلم میں تبدیل ہوجائے گا۔ مصنف کا قول: "سلم"، یعنی وہ استصناع باقی نہیں رہتا، جیسا کہ تتارخانیہ میں ہے۔ اسی لیے شارح نے فرمایا کہ اس میں اس کی شرائط معتبر ہوں گی، یعنی شرائطِ سلم کی۔ اسی وجہ سے اس میں خیار بھی نہیں ہوگا، حالانکہ استصناع میں خیار ہوتا ہے، کیونکہ استصناع غیر لازم عقد ہے۔(رد المحتار، ط الحلبي، 5/224، ملخصاً)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے استصناع میں سلم کی شرائط کےحوالے سے لکھتے ہیں:" اور اس میں بیع سلم کی شرطیں مثلاً روپیہ پیشگی اس جلسہ میں دے دینا یا اس کا بازار میں موجود رہنا یا مثلی ہونا کچھ ضرور نہیں ہوتا، مگر جب اس میں میعاد ایک مہینہ یا زائد کی لگادی جائے تو وہ عقد بعینہٖ بیع سلم ہوجاتا ہے اور اس وقت تمام شرائط بیع سلم کا متحقق ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی رہ گئی عقد فاسد ہوگیا۔"(فتاویٰ رضویہ، ج 10، ص 597-598، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    لہٰذا صدر الشریعہ کی مذکورہ عبارت میں "تمام وہ شرائط جو بیعِ سلم میں مذکور ہوئے اُن کی مراعات کی جائے’’کا مطلب ‘‘ہر صورت کے استصناع میں بعینہٖ تمام شرائطِ سلم کا لازم ہونا نہیں، بلکہ اس کا تعلق اس صورت سے ہے جس میں مدت وغیرہ کی وجہ سے معاملہ بیعِ سلم کے حکم میں آجاتا ہے۔ اسی لیے عبارت کے آگے خود یہ تفصیل موجود ہے کہ اگر مدت نہ ہو یا ایک ماہ سے کم ہو تو استصناع کا حکم ہوگا۔

    حکم شرعی :

    سافٹ ویئر ایک غیر مادی حق مجرد( عن العین الحسی) ہے، اور یہ ایسا حق جوکسی شخص کو اصالۃً حاصل ہو، محض دفعِ ضرر کے لیے نہ ہو اور شریعت کی رو سے اسے دوسرے شخص کی طرف منتقل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو، ایسے حق کی بیع یا اس کے عوض مال لینا علمائے محققین کے نزدیک جائز ہے۔ لہٰذا مذکورہ سافٹ ویئر کو( اگر وہ عرفاً اور قانوناً قابلِ انتقال ہو ) ذکر کردہ اصول کی روشنی میں مال کے عوض آگے فروخت کرنا جائز ہے۔ نیز یہ بات بھی واضح ہے کہ سافٹ ویئر کو آرڈر پر تیار کروانے کا ہمارے ہاں ایک عام رواج ہے، فیلڈ سے وابستہ لوگ جس سے بخوبی واقف ہیں۔

    پس اگر بکر ایسا Software تیار کر کے اس کی ملکیت مکمل طور پر خالد کو منتقل کرتا ہےیوں کہ محضUsage Rights/License منتقل نہیں کرتا نہ ہی صرف Software کی ایک Copy فراہم کرنا مقصود ہو، بلکہ خود Software کے تمام قابلِ انتقال حقوقِ ملکیت خریدار کو منتقل کیے جائیں، تو یہ معاملہ بیعِ استصناع کے طور پر شرعاً درست ہے لیکن اس میں اس بات کا خاص خیال رکھا ئے کہ:

    سافٹ ویئر کی جنس، نوع، فصل، صفات، مطلوبہ خصوصیات اور مقدار اس طور پر متعین کر دی جائیں کہ کسی قسم کا جہالت اور نزاع باقی نہ رہے؛ مثلاً اس کے Features، Functions، Specifications، Compatibility، Operating System، Storage، Users کی تعداد، استعمال کی حدود اور دیگر مطلوبہ اوصاف پہلے سے واضح اور متعین کر دیے جائیں ۔

    سافٹ ویئر کے حق ہونے کے دلائل و جزئیات :

    علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ حقوق کی اقسام اور ان کے احکام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:حاصله: أن ثبوت حق الشفعة للشفيع، وحق القسم للزوجة وكذا حق الخيار في النكاح للمخيرة إنما هو لدفع الضرر عن الشفيع والمرأة، وما ثبت لذلك لا يصح الصلح عنه؛ لأن صاحب الحق لما رضي علم أنه لا يتضرر بذلك فلا يستحق شيئا أما حق الموصى له بالخدمة، فليس كذلك بل ثبت له على وجه البر والصلة فيكون ثابتا له أصالة فيصح الصلح عنه إذا نزل عنه لغيره، ومثله ما مر عن الأشباه من حق القصاص والنكاح والرق وحيث صح الاعتياض عنه؛ لأنه ثابت لصاحبه أصالة لا على وجه رفع الضرر عن صاحبه۔"ترجمہ: فقہاء کرام کی بحث کا حاصل یہ ہے کہ شفیع کے لیے حقِ شفعہ، زوجہ کے لیے حقِ قسم اور نکاح میں مخیرہ کے لیے حقِ اختیار، شفیع اور عورت سے ضرر دور کرنے کے لیے ثابت ہوتے ہیں، اس لیے ان کے بدلے عوض لینا جائز نہیں؛ کیونکہ جب صاحبِ حق اپنے حق سے دستبردار ہوگیا تو معلوم ہوا کہ اسے ضرر نہیں تھا، لہٰذا وہ کسی عوض کا مستحق نہیں۔ البتہ موصیٰ لہ بالخدمہ کا حق اس نوعیت کا نہیں، بلکہ حسنِ سلوک اور صلہ کے طور پر اصالۃً ثابت ہوتا ہے، اس لیے اس سے دستبرداری کے بدلے عوض لینا جائز ہے۔ اسی طرح قصاص، نکاح اور ملکیت وغیرہ کے حقوق بھی اصالۃً ثابت ہونے کی وجہ سے ان کے بدلے عوض لینا جائز ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار، 4/520، دار الفکر، بیروت)

    اعلی حضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: اب یہ کلام مسئلہ اعتیاض عن الوظائف کے طرف مجر ہوگا وہاں ہر چند علماء کواختلاف ہےاوریہ مبحث معرکۃ الآراء ہے مگر مرضی جماہیر فحول ونحاریر عدول صحت وقبول ہے اور وہی ہنگام اعتبار وملاحظہ نظائر ان شاء اﷲ تعالٰی اظہر، اگرچہ دوسرا پلہ بھی بہت ثقیل وگراں ہے،

    فی الدالمختار من الاشباہ المذہب عدم اعتبار العرف الخاص لکن افتٰی کثیر باعتبارہ وعلیہ فیفتی بجواز النزول من الوظائف بمال الخ قال العلامۃ السید احمد الطحطاوی فی حاشیتہ وقد تعارف ذٰلک الفقہاء عرفا قدیما رضیہ العلماء والحکام الی ان قال عن ابی السعود عن السید احمد الحموی من بعض الفضلاء عن العلامۃ بدرالدین العینی ان النزول عن الوضائف صحیح قیاسا علی ترک المرأۃ قسمہا لصاحبتہا لان کل منہما مجرد اسقاط لخ۔ترجمہ:درمختار میں بحوالہ اشباہ مذکور ہے کہ مذہب کہ عرف خاص کے عدم اعتبار کا ہے لیکن کثیر علماء نے اس کے اعتبار کرنے کا فتوٰی دیا اسی بنیاد پر مال کے بدلے وظائف سے دستبرداری کے جواز کا فتوٰی دیا گیا الخ علامہ سید احمد طحطاوی نے اپنے حاشیہ میں کہا کہ فقہاء نے اس کو عرف قدیم سمجھا اور علماء وحکام نے اس کو پسند کیا یہاں تک کہ علامہ طحطاوی نے کہا کہ ابوسعود نے بعض فضلاء کا قول بحوالہ علامہ بدرالدین عینی سید احمد حموی سے نقل کیا کہ وظائف سے دستبرداری صحیح ہے قیاس کرتے ہوئے عورت کے اپنی باری اپنی سوکن کے لئے چھوڑ دینے پر، کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک محض اسقاط ہے، الخ علامہ سید احمد حموی غمز عیون البصائر میں علامہ نورالدین علی مقدسی سے بعض فروع مبسوط سرخسی پر اس مسئلہ کا اعتبار اور صحت کا استظہار نقل کرکے فرماتے ہیں : فلیحفظ فانہ نفیس جدا (اس کو یادرکھنا چاہئے کیونکہ یہ بہت عمدہ ہے۔)

    خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی ردالمحتار میں کلام علامہ بیری شارح اشباہ سے اس کی تائید نقل اور حقوق موصی لہ بالخدمہ وقصاص ونکاح ورق کا حقوق شفعہ وقسم زوجہ وخیار مخیرہ فی النکاح سے بدیں وجہ کہ صور اولٰی میں حق اصالۃ ثابت ہے تو ان سے اعتیاض جائز بخلاف اخیرہ کے کہ وہاں ثبوت حق صرف بربنائے ضرر ہے جب صاحب حق اعتیاض پر راضی ہو ا معلوم ہوا مستضررنہ تھا راسا حق باطل ہوا یہ عوض کیسا فرق بیان کرکے فرماتے ہیں:ولایخفی ان صاحب الوظیفۃ ثبت لہ الحق فیہ بتقریر القاضی علی وجہ الاصالۃ لاعلی رفع الضرر (ینقل الی ماقال) و ان کان الاظہر فیہا ماقلنا ۔ترجمہ:اورمخفی نہ ر ہے کہ بیشک صاحب وظیفہ

    کے لئے حق قاضی کی تقریر سے بطور اصل ثابت ہوانہ کہ رفع ضرر کے طورپر(نقل کرتے ہوئے یہاں تک کہا) اگرچہ اس میں زیادہ ظاہر وہی ہے جوہم نے کہا۔

    (فتاوی رضویہ ،جلد:17،ص:110،111،112،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مفتی عبد الواجد قادری رحمہ اللہ اپنے فتاوی’’ فتاوی یورپ ‘‘میں لکھتے ہیں: جن حقوق یا جن چیزوں سے مالی منفعت وابسطہ و متعلق ہو اور اس کی خریدو فروخت نے عموم بلوی کی شکل اختیار کر لی ہو ،شرعاً اس کی خرید وفروخت درست ہے۔(فتاوی یورپ،کتاب البیوع،صفحہ:442،مطبوعہ شبیر برادرز)

    اس حق کے استصناع کے طور پر بیچنے کے دلائل و جزئیات

    استصناع کی لغوی اور شرعی تعریف بیان کرتے ہوئے علامہ عبد الرحمن شیخی زادہ (المتوفی: 1078ھ) لکھتے ہیں:"(والاستصناع) لغة طلب العمل، متعد إلى مفعولين وشرعا بيع ما يصنعه عينا فيطلب فيه من الصانع العمل والعين جميعا فلو كان العين من المستصنع كان إجارة لا استصناعا"ترجمہ: اور استصناع لغت میں کام طلب کرنے کو کہتے ہیں، اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ اور شرع میں استصناع اس چیز کی بیع ہے جسے بنانا ہو، پس اس میں کاریگر سے کام اور عین دونوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ پس اگر عین مستصنع کی طرف سے ہو تو وہ اجارہ ہوگا، استصناع نہیں ہوگا۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، 2/106)

    استصناع میں مبیع عین ہے یا صانع کا عمل، اس کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ عبد الرحمن شیخی زادہ (المتوفی: 1078ھ) لکھتے ہیں:"(والمبيع هو العين لا عمله) أي عمل الصانع.وقال البردعي: عمله نظرا إلى أن الاستصناع مشتق من الصنع وهو العمل، والأول أصح؛ لأن المقصود هو العين وذكر الصنعة لبيان الوصف والجنس ويكون المبيع هو العين - لأنه معطوف على ما بعد الفاء - لا العمل، وفرع على كونه العين بقوله (فلو أتى) الصانع (بما صنعه) قبل العقد (غيره أو بما صنعه هو قبل العقد فأخذه) أي المستصنع العين (صح) ولو كان المبيع عمله لما صح بيعه."ترجمہ: اور استصناع میں مبیع عین ہوتی ہے، صانع کا عمل نہیں ۔ بردعی نے کہا کہ: مبیع صانع کا عمل ہے، اس اعتبار سے کہ استصناع، صنع سے مشتق ہے اور صنع عمل کو کہتے ہیں، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے؛ کیونکہ مقصود عین ہے اور صنعت کا ذکر وصف اور جنس بیان کرنے کے لیے ہے، اور مبیع عین ہی ہوگی، کیونکہ وہ فاء کے بعد والی چیز پر معطوف ہے، عمل نہیں۔ اور مبیع کے عین ہونے پر یہ فرع بیان کی کہ اگر صانع وہ چیز لے آیا جو اس نے عقد سے پہلے کسی دوسرے سے بنوائی تھی، یا وہ چیز لے آیا جو اس نے خود عقد سے پہلے بنائی تھی، پھر مستصنع نے اس عین کو لے لیا تو یہ صحیح ہے۔ اور اگر مبیع صانع کا عمل ہوتا تو اس کی بیع صحیح نہ ہوتی۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، 2/107)

    استصناع کے جواز کی شرائط کے حوالے سے علامہ کاسانی (المتوفی: 587ھ) لکھتے ہیں:"وأما) شرائط جوازه.(فمنها) بيان جنس المستصنع ونوعه وقدره وصفته؛ لأنه مبيع فلا بد وأن يكون معلوما، والعلم إنما يحصل بأشياء.(منها) أن يكون ما للناس فيه تعامل كالقلنسوةوالخف والآنية ونحوها فلا يجوز فيما لا تعامل لهم فيه كما إذا أمر حائكا أن يحيك له ثوبا بغزل نفسه ونحو ذلك مما لم تجر عادات الناس بالتعامل فيه؛ لأن جوازه مع أن القياس يأباه ثبت بتعامل الناس فيختص بما لهم فيه تعامل، ويبقى الأمر فيها وراء ذلك موكولا إلى القياس."ترجمہ: اور اس کے جواز کی شرائط ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مستصنع کی جنس، نوع، مقدار اور صفت بیان کی جائے؛ کیونکہ وہ مبیع ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ معلوم ہو، اور علم چند چیزوں ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ایسی چیز ہو جس میں لوگوں کا تعامل ہو، جیسے قلنسوہ، موزہ، برتن اور ان جیسی چیزیں۔ پس ایسی چیز میں استصناع جائز نہیں جس میں لوگوں کا تعامل نہ ہو، جیسا کہ کسی جولاہے کو حکم دے کہ وہ اپنے دھاگے سے اس کے لیے کپڑا بنائے، اور اس جیسی دوسری چیزیں جن میں لوگوں کی عادت تعامل کرنے کی جاری نہ ہو؛ کیونکہ استصناع کا جواز، باوجود اس کے کہ قیاس اسے منع کرتا ہے، لوگوں کے تعامل کی وجہ سے ثابت ہوا ہے، لہذا وہ انہی چیزوں کے ساتھ خاص ہوگا جن میں لوگوں کا تعامل ہو، اور اس کے علاوہ معاملہ قیاس کے سپرد ہوگا۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، 5/209-210)

    استصناع میں ایک مہینہ یا مہینے سے زیادہ مدت مقرر کرنے سے امام اعظم کے نزدیک وہ سلم بن جاتی ہے جبکہ صاحبین کے نزدیک وہ استصناع ہی رہتی ہے ،فتوی بر بنائے ضرورت و تعامل صاحبین کے قول پر ہے۔

    بدائع الصنائع میں ہے: هَذَا إذَا اسْتَصْنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَضْرِبْ لَهُ أَجَلًا، فَأَمَّا إذَا ضَرَبَ لَهُ أَجَلًا فَإِنَّهُ يَنْقَلِبُ سَلَمًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ فَلَا يَجُوزُ إلَّا بِشَرَائِطِ السَّلَمِ، وَلَا خِيَارَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا كَمَا فِي السَّلَمِ وَعِنْدَهُمَا هُوَ عَلَى حَالِۃاسْتِصْنَاعٌ وَذِكْرُهُ الْأَجَلَ لِلتَّعْجِيلِ، وَلَوْ ضَرَبَ الْأَجَلَ فِيمَا لَا تَعَامُلَ فِيهِ يَنْقَلِبُ سَلَمًا بِالْإِجْمَاعِ۔ترجمہ:یہ بیع استصناع ہے جب وہ کوئی چیز بنائے اور اس کے لیے مدت مقرر نہ کرے ۔پس جب اس کے لیے مدت مقرر کرے تو امام اعظم کے نزدیک وہ سلم ہوجائے گی تو یہ بیع سلم کی شرائط کے ساتھ ہی جائز ہوگی ۔اور عاقدین میں سے کسی کو اختیار نہ ہوگا جیساکہ سلم میں ہوتاہے۔اور صاحبین کے نزدیک وہ استصناع پر برقرار رہےگی اور جو اس نےمدت ذکر کی ہے وہ جلدی کے لیے ہے۔اور اگر وہ مدت مقرر کرے ان چیز وں میں جن میں بیع استصناع کا تعامل نہیں ہے تو وہ بالاجماع سلم ہوجائے گی۔ (بدائع الصنائع،جلد:5،ص:210،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    اعلحضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: کسی سے کوئی چیز اس طرح بنوانا کہ وہ اپنے پاس سے اتنی قیمت کو بنادے یہ صورت استصناع کہلاتی ہے کہ اگر اس چیز کے یوں بنوانے کا عرف جاری ہے اوراس کی قسم وصفت وحال وپیمانہ وقیمت وغیرہا کی ایسی صاف تصریح ہوگئی ہے کہ کوئی جہالت آئندہ منازعت کے قابل نہ رہے اوراس میں کوئی میعاد مہلت دینے کے لئے ذکر نہ کی گئی تو یہ عقد شرعا جائز ہوتا ہے اور اس میں بیع سلم کی شرطیں مثلا روپیہ پیشگی اس جلسہ میں دے دینا یا اس کا بازار میں موجودرہنا یا مثلی ہونا کچھ ضرور نہیں ہوتا مگر جب اس میں میعاد ایک مہینہ یا زائد کی لگادی جائے تو وہ عقد بعینہٖ بیع سلم ہوجاتاہے اور اس وقت تمام شرائط بیع سلم کا متحقق ہونا ضروری ہوتاہے۔ اگرا یک بھی رہ گئی عقد فاسد ہوگیا۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:597،598،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد یونس انس القادری

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    23ربیع الثانی1448ء/06ستمبر2026ھ کو جاری کیا گیا