سوال
میری شادی کو دس ماہ ہو گئے ہیں،اور اس دوران میر ی بیوی کا رضائے الہی سےانتقال ہو گیا ہے۔اب اس کا جو سامان ہےاس کا کیا حل ہے ؟ وہ کس کو دیں ؟
سائل:جاوید،بمعرفت علامہ سید عبد الرؤوف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یاد رہے کہ ہمارے ہاں دلہن کو شادی کے موقع جو تحائف، سونا چاندی ، فرینیچر، کپڑے اور دیگر مال و متاع وغیرہ میکے یا سسرال والوں کی جانب سے دیا جاتا ہے اس کی حیثیت ہبہ کی ہے۔ ان چیزوں کی مالکہ دلہن ہی ہوتی ہے۔
رد المحتار میں ہے:فَإِنَّ كُلَّ أَحَدٍ يَعْلَمُ أَنَّ الْجِهَازَ مِلْكُ الْمَرْأَةِ وَأَنَّهُ إذَا طَلَّقَهَا تَأْخُذُهُ كُلَّهُ، وَإِذَا مَاتَتْ يُورَثُ عَنْهَا ترجمہ: ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اورجب شوہر اس کو طلاق دے دے وہ تمام جہیز لے لے گی، اور اگر عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا ۔( رد المحتار علی الدر المختار باب النفقۃ جلد 3صفحہ 585 ،دار الفکر بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں اسی طرح کا جواب ارشاد فرماتے ہیں :جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص مِلک زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں، طلاق ہُوئی تو کُل لے گئی، اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔(فتاوٰی رضویہ جلد12 ص 203 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
لہذا پوچھی گئی صورت میں مرحومہ جوبھی ترکہ چھوڑ کر گئی اس کے حقدار ورثا ہیں ،اور ورثا میں والدین کے ساتھ ساتھ اس کا شوہر بھی شامل ہے۔یہ تینوں (ماں باپ،اور شوہر) ایسے وراث ہیں جو کسی صورت بھی میراث سے کلی طور پر محروم نہیں ہوتے۔
تقسیمِ میراثِ مرحومہ:
کل مال وراثت کے 6 حصص کیے جائین گے جن میں سے ماں کو ایک حصہ اور باپ کو دو حصے جبکہ شوہر کو تین حصے دیے جائیں گے ۔
مسئلہ : 6
مــیــــــــــــــــــ ـــــــــــۃ
شوہر ماں باپ
3 1 2
درج بالا تقسیم اللہ تعالی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:
ماں کے حصے کے متعلق ہے:فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ: ترجمہ: اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو اس کی ماں کے لیےتہائی۔(النساء:11)
شوہر کے حصے کے بارے میں ارشاد ہے :وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌۚ:ترجمہ: اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو ۔(النساء:12)۔
السراجی فی المیراث میں ہے: والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال :ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54 مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:05رمضان المبارک 1443 ھ/07اپریل2022