سوال
اگر کسی شخص نے حرام کمائی کی ہوئی تھی، پھروہ حرام رقم مضاربت میں لگا دی بطور انویسٹمنٹ کے اور جس کاروبار میں انویسٹ کی وہ حلال ہے تو کیا اب رب المال اور مضارب کے لیے اس مضاربت سے حاصل شدہ نفع حلال ہوگا کہ نہیں ؟
سائل :مولانا علی اشرف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اس شخص پر لازم تھا کہ یہ مال حرام جس سے حاصل کیا اسے واپس کرتاوہ نہ ہو تو اس کے ورثا کو دے دیتا ورنہ اسے تصدق کر تا کہ اسے اپنے استعمال میں لانا یا اس کا کاروبار کرنا جائز نہیں تھا ۔اسی طرح مضارب کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ مالِ حرام کا علم ہوتے ہوئے ایسے روپے مضاربت میں لے ۔تاہم نفع کے طیب و خبیث ہونے کے لحاظ سے تفصیل ہے کہ:
اگر مضارب نے ان حرام روپوں سے اس طرح تجارت کی عقد و نقد جمع ہو گئے مثلا یہ روپے دیکھا کر کوئی چیزی خریدی پھر وہی روپے دیے یا یہ کہ وہ حرام روپے پہلے بائع کو دیے پھر ان سے کوئی چیز خریدی تو ایسی صورت نفع حلال نہیں ہو گا ۔
اگر عقد و نقد جمع نہیں ہوئے مثلاً:
1:۔عقد تو حرام روپوں پر ہوئی لیکن مضارب کوحلال روپے دیے ۔
2:۔عقد مطلقًا ہوا اور مضارب کو حرام روپے دیے ۔
3:۔ عقدِ حلال روپوں پر ہوا لیکن مضارب کو حلال کی بجائے حرام روپے دیے ۔
تو ان تینوں صورتوں میں امام کرخی کے مفتی بہ قول کے مطابق نفع حلال ہو گا ۔تاہم تقوی یہ ہے کہ جن صورتوں میں نفع لینا حلال ہے ان میں بھی نفع تصدق کیا جائے ۔
تفصیلی حکم:
مانحن فیہ مسئلہ کے جواب میں ہم نے بساط کے مطابق صریح جزئیہ تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ہمیں نہیں مل سکا پھر بامر مجبوری ہمیں اسی ضابطے کو مقیس علیہ بنانا پڑا جو تارتاخانیہ کے حوالے سے کتبِ فقہ میں پایا جاتا ہے۔( اس کی تفصیل آگے آئے گی ) لیکن اس کی تنقیح میں مسئلہ تھا کہ مقیس عقدِ مضاربت کو بنایا جائے یاعقدِ مضاربت کے بعد مضارب کی تجارت کو؟تو اس سلسلہ میں مقیس و مقیس علیہ کی علل ،باہمی ربط ونظائر میں غور و خوض اور بحث و تمحیص کے بعدیہی واضح ہوا کہ مقیس، مضارب کی تجارت بنے گی نہ کہ عقد ِمضاربت ۔چناچہ اس حوالے سے تنقیحی امور درج ذیل ہیں :
1:۔عقد و نقد کی بحث کا تعلق نفع سے ہےکہ کن صورتوں میں نفع طیب ہو گااور کن میں خبیث ۔اورمضاربت میں نفع کا حصول عقدِ مضاربت کے بعد مضارب کے تجارت کرنے سےہوتا ہے کام سے پہلےمحض عقد کرتے وقت نہیں ۔
2:۔جب مضارب رب المال سے راس المال حاصل کر لے تو اس وقت اس کی حیثیت مودع (امین)کی اور راس المال کی ودیعت (امانت)کی ہوتی ہے۔
3:۔اور جب مضارب تجارت کرے تو اس وقت وہ وکیل بالتجارہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے جس کے نتیجے میں رب المال(مؤکل)کی وکالت میں عقود انجام دیتا ہے۔
علامہ کاسانی علیہ الرحمہ بدائع الصنائع میں مضارب کی فقہی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : أما الذي يرجع إلى حال المضارب في عقد المضاربة فهو أن رأس المال قبل أن يشتري المضارب به شيئاً أمانة في يده بمنزلة الوديعة، لأنه قبضه بإذن المالك لا على وجه البدل والوثيقة، فإذا اشترى به شيئاً صار بمنزلة الوكيل بالشراء والبيع، لأنه تصرف في مال الغير بأمره وهو معنى الوكيل۔ترجمہ:رہا وہ حکم جو عقدِ مضاربہ میں مضارب کی حالت سے متعلق ہے، تو وہ یہ ہے کہ مضارب کے ہاتھ میں سرمایہ، خریداری سے پہلے، امانت کے حکم میں ہے ، کیونکہ اس نے اسے مالک کی اجازت سے قبضے میں لیا ہے، نہ کہ بطور بدل یا ضمانت کے۔ لیکن جب وہ اس سرمایہ سے کوئی چیز خرید لیتا ہے، تو وہ وکیل کے مانند ہو جاتا ہے جو خرید و فروخت کرتا ہے، کیونکہ وہ مالک کے مال میں اس کے حکم کے مطابق تصرف کر رہا ہوتا ہے، اور یہی وکالت کا مطلب ہے۔(بدائع الصنائع،کتاب المضاربۃ، جلد 05صفحہ 112،مکتبہ رشیدیہ)
جب یہ واضح ہو گیا کہ مضارب کی حیثیت وکیل بالتجارہ (تجارت کے وکیل) کی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مضارب کا خرید و فروخت کرنا درحقیقت مؤکل کا خرید و فروخت کرنا ہے یعنی مؤکل مضارب کے ذریعے خود تجارت کرتا ہے۔ چونکہ نفع کا تعلق بھی تجارت سے ہے، اس لیے عقد (معاہدہ) اور نقد (ادائیگی) کا اطلاق تجارت کے وقت ہوگا، نہ کہ اس سے پہلے عقدِ مضاربت کے وقت ۔
علامہ سید ابن عابدین الشامی علیہ الرحمہ عقد ونقد کی صورتوں کے متعلق تاتارخانیہ کےحوالے سے لکھتے ہیں: توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام."۔ترجمہ: مسئلہ کی وضاحت "التتارخانية" میں اس طرح کی گئی ہے: ایک آدمی نے حرام مال کمایا اور پھر اس سے خرید و فروخت کی تو اس کی پانچ صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ اگر اس نے وہ درہم (حرام مال) پہلے بائع کو دیے اور پھر اس سے خریداری کی، یا اس نے خریداری پہلے کی اور بعد میں وہی درہم دیے، یا خریداری پہلے کی اور کوئی اور درہم دیے، یا مطلقاً خریداری کی اور پھر وہی درہم دیے، یا دوسرے درہم سے خریداری کی اور پھر وہی درہم دیے۔ ابو نصر نے کہا کہ اس کے لیے حلال ہو جاتا ہے اور صدقہ کرنا واجب نہیں سوائے پہلی صورت کے، اور اسی کی طرف فقیہ ابو اللیث گئے ہیں، لیکن یہ ظاہر الروایہ کے خلاف ہے، کیونکہ "الجامع الصغير" میں نص ہے کہ اگر کسی نے ہزار درہم غصب کیے اور ان سے لونڈی خریدی اور اسے دو ہزار میں بیچا تو اس منافع کو صدقہ کرنا ہوگا۔ کرخی نے کہا کہ پہلی اور دوسری صورت میں حلال نہیں ہوتا، اور باقی تین صورتوں میں حلال ہوتا ہے، جبکہ ابو بکر نے کہا کہ کسی بھی صورت میں حلال نہیں ہوتا۔ لیکن آج کل فتویٰ کرخی کے قول پر دیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو مشقت سے بچایا جا سکے۔ "الولوالجية" میں کہا گیا کہ بعض علماء کے نزدیک کسی بھی صورت میں حلال نہیں ہوتا اور یہی مختار قول ہے، لیکن آج کل فتویٰ کرخی کے قول پر دیا جاتا ہے تاکہ حرام مال کی کثرت کی وجہ سے لوگوں پر سختی نہ ہو۔(باب المتفرقات من أبوابها، مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشترى فهو على خمسة أوجه،جلد :5، صفحہ:235،)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :مغصوب یا ودِیعت اگر معین چیز ہو اسے بیچ کر نفع حاصل کیا تو اس نفع کو صدقہ کر دینا واجب ہے مثلاًایک چیز کی قیمت سو روپے تھی اور غاصب نے اسے سوا سومیں بیچا سو روپے تاوان کے دینے ہوں گے اور پچیس روپے کو صدقہ کر دینا ہوگا اور اگر وہ چیز غیر متعین یعنی از قبیل نقود ہو (سونے چاندی روپے)تو اس میں چار صورتیں ہیں۔ (۱) عقد و نقد دونوں اسی حرام مال پر مجتمع ہوں مثلاً یوں کہا کہ اس روپیہ کی فلاں چیز دو پھر وہی روپیہ اسے دے دیا تو یہ چیز جو خریدی ہے یہ بھی حرام ہے یا بائع کو پہلے سے وہ حرام روپیہ دے دیا تھا پھر اس سے چیز خریدی یہ چیز حرام ہے۔ (۲) عقد ہو نقد نہ ہو یعنی حرام روپیہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس کی فلاں چیز دو مگر بائع کو یہ روپیہ نہیں دیا بلکہ دوسرا دیا۔ (۳)عقد نہ ہو نقد ہو بائع سے حرام کی طرف اشارہ کر کے نہیں کہا کہ اس روپیہ کی چیز دو بلکہ مطلقاً کہا کہ ایک روپیہ کی چیز دو مگر ثمن میں یہی حرام روپیہ دیا۔ (۴)حلال روپیہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس کی چیز دو مگر ثمن میں حرام روپیہ ادا کیا ان تین صورتوں میں تصدق واجب نہیں ہے اور بعض فقہا ان صورتوں میں بھی تصدق کو واجب کہتے ہیں اور یہ قول بھی باقوت ہے مگر زمانہ کی حالت دیکھتے ہوئے کہ حرام سے بچنا بہت دشوار ہوگیا قول اول پر بعض علماء نے فتوےٰدیا ہے۔ (بہار شریعت حصہ 15،صفحہ 215 مکتبۃ المدینہ کراچی)
مضاربت میں چونکہ راس المال (سرمایہ) کا نقدی ہونا ضروری ہے، اور نقدی چیزیں (مثلاً روپے یا درہم) معاہدے میں متعین نہیں ہوتیں جب تک کہ معاہدہ اور ادائیگی (عقد و نقد) دونوں ایک ساتھ نہ ہوں۔ جہاں ان کی تعیین نہ ہو، وہاں حرام مال کی خباثت (ناپاکی) دوسرے مال میں منتقل نہیں ہوتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام نے ایسے مال سے خریدی گئی چیز سے انتفاع کو حلال قرار دیا ہےجیسا کہ سیدی اعلی حضرت فرماتے ہیں: لان الدراھم لاتتعین فی العقود فاذا لم یجتمع علیھا العقد والنقد لم یسر الخبث الی البدل کما ھو قول الامام الکرخی وعلیہ الفتوی۔ترجمہ:اس لئے کہ عقد کے معاملات میں دراہم متعین نہیں ہوتے، پھر جب اُن پر عقد اور نقد جمع نہ ہوں تو خباثت بدل کی طرف سرایت نہیں کرتی، جیسا کہ امام کرخی علیہ الرحمۃ کا ارشاد ہے۔ اور اسی پر فتوٰی ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 23 ،صفحہ561،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:11جمادی الاول 1446 ھ/14نومبر2024ھ