سوال
میں حافظ محمد رحمت علی نے کم و بیش پندرہ سال قبل ایک زمین کو خریدا جس کی مکمل رقم میں نے ادا کی جب مکان کو ٹرانسفر کرانے کی باری آئی تو میرے شناختی کارڈ کا مسئلہ تھا جس کی وجہ سے عارضی طور پر کاغذات میں والدہ کا نام لکھا گیا جبکہ میری والدہ حلفیہ یہ اقرار کرچکی ہے کئی لوگوں کے درمیان جسکی ویڈیو بھی موجود ہے والدہ نے یہ اقرار کیا کہ یہ گھر رحمت کا تھا رحمت کا ہے رحمت کا رہے گا میرے نام پر یہ مکان اس لئے خریدا کیونکہ میرے بیٹے رحمت کے شناختی کارڈ کامسئلہ تھا ۔
جناب مفتی صاحب میری والدہ نےکئی مرتبہ مجھ سے کہا کہ زندگی موت کابھروسہ نہیں جتنی جلدی ممکن ہو تم یہ مکان کاغذی طور پر بھی اپنے نام کروالو ۔مجھے اپنے بھائی بہنوں پر مکمل اعتماد تھا کہ وہ کبھی بھی خیانت نہیں کرینگے اور آج تک میرے کسی بھائی بہن نے خیانت نہیں کی مگر افسوس کچھ عرصہ قبل مولانا غلام مصطفیٰ جو کہ میرے بہنوئی ہے انہوں نے مجھے واٹس ایپ وائس کیا کہ شرعی اور قانونی طور پر یہ گھر والدہ کا ہے جبکہ والدہ غلام مصطفی کے اس دعوے کے خلاف ہے ۔غلام مصطفی کا دعوے پر دلیل یہ ہے کہ آپ یہ گھر اپنی والدہ کو ہبہ کر چکے ہیں لہٰذا ہبہ کرنے کے بعد اس گھر کو واپس نہیں لیا جاسکتا
جناب مفتی صاحب کیا شرعًا غلام مصطفی صاحب درست فرمارہے ہیں اس مسئلہ کو ہبہ کے حکم میں لیاجائیگا جبکہ ہبہ کامعاملہ میری طرف سے منسوب ہے کہ میں نے ہبہ کیا حالانکہ میں ہبہ کیا ہی نہیں بلکہ وہ مجبوری کی وجہ عارضی طور پر والدہ کے نام کیا گیا اور والدہ بھی اس بات کی دعویدار نہیں کہ یہ گھر مجھے ہبہ کیا گیا ہے۔
جناب مفتی صاحب ! کیا مذکورہ صورت میں غلام مصطفی ٰصاحب حق بجانب ہے ؟اگر غلام مصطفی حق بجانب نہیں ہے تو مجھے انکے دعوے سے شدید قلبی طور پر تکلیف ہوئی توکیا غلام مصطفی صاحب کو شرعًا اس پر معافی مانگنی چاہئے یا نہیں ؟کیامصطفی صاحب کو اس ہبہ کا حکم لگانے سے قبل ہبہ کرنے والے سے بحیثیت عالم ہونے کے معولم کرنا چاہئیے تھا یا نہیں ؟
سائل :حافظ رحمت علی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں اس گھر کے مالک آپ(حافظ رحمت علی)ہیں،غلام مصطفی صاحب کا دعوی درست نہیں ہے ۔ جہاں تک معافی کا تعلق ہے تو وہ ضروری نہیں بنتی کہ یہ محض ایک دعوی ہے جو کہ شبہ کی بنیاد پر پیدا ہوا ہے ۔آپ کو چاہیے کہ جلد از جلد اس مکان کو اپنے نام پر ٹرانسفر کر لیں تا کہ مزید کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ حافظ رحمت علی نے یہ زمین اصیل ہونے کی حیثیت سے خریدی نہ کہ والدہ کی جانب سے وکیل ہونے کی حیثیت سے پھر خریدتے وقت اضافت بھی اپنی جانب کی، والدہ کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا کہ یہ زمین میں والدہ کے لیے خریدتا ہوں تو بس اتنے سے معاملہ سےمعلوم ہو گیا یہ خریداری حافظ رحمت کی جانب سے ہوئی تو مالک بھی وہی ہوئے ۔ پھر حافظ رحمت صاحب نے اس پر مکان تعمیر کیا ۔
اب حافظ رحمت صاحب کی ملکیت سے والدہ کی ملکیت میں بطور ہبہ مکان منتقل ہونے کے لیے الفاظ ِ ہبہ یا دلالتِ ہبہ ضروری تھی نیز تکمیلِ ہبہ کے لیے دیگر شرائط مثلا قبضہ کاملہ کا تحقق بھی ضروری تھا جبکہ بقول حافظ رحمت ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا ۔
جہاں تک نام کرنے مسئلہ ہے تو اس حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض اوقات مکان خریدنے کے بعد ، انتقالِ رجسٹری مشتری کی بجائے کسی اور کے نام کر دی جاتی ہے جس سے مقصود تملیک نہیں ہوتی بلکہ یہ ضرورت کے پیشِ نظر ہوتا ہے جیسا کہ مانحن فیہ مسئلہ میں شناختی کارڈ میں خرابی کی وجہ سے ایسا کیا گیا ۔اسی طرح کبھی یہ قانونی مصلحت کےپیش نظر بھی ہوتا ہے جسے ہر ذی شعور جانتا ،سمجھتا ہے اس پر واضحہ قرینہ یہ ہوتا ہے کہ فرضی نام والے کو مکان کا قبضہ نہیں دیا جاتا ،اور اگر مکان حوالے کر بھی دیا جائے تو یہ قبضہ ،ہبہ کے لیے نہیں بلکہ اجارہ یا عاریت کے طور پر دیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ اگر ہبہ کی نیت سے بھی مکان نام کیا جائے تو پھر بھی ہبہ اس وقت تک تمام نہیں ہوتا جب تک کہ قبضہ نہ ہو جائے ۔
شرح مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:تنعقد الهبة بالإیجاب والقبول، وتتم بالقبض الکامل؛ لأنها من التبرعات، والتبرع لا یتم إلا بالقبض.ترجمہ:ہبہ ایجاب و قبول سے منعقد ہوتا ہے اور قبضہ کاملہ سے مکمل ہوتا ہے اس لیے کہ یہ تبرعات میں سے ہے اور تبرعات قبضسے ہی مکمل ہوتے ہیں ۔(شرح المجلة: رقم المادۃ: 837)
فتاوی ہندیہ میں ہے:لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار،هكذا في الفصول العمادية.ترجمہ (واہب کے لیے)موہوب لہ کی ملکیت قبضہ ہی سے ثابت ہو گی،یہی مختار قول ہے جیسا کہ فصول عمادیہ ہے۔(الفتاوی الھندیہ ،جلد 04،صفحہ :378، مطبوعہ: دار الفکر)
امام اہلسنت احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : بالجملہ عمرو جب تک اپنا قبضہ بالکلیہ اٹھا کر موہوب لہما کو قبض کامل نہ کرادے ھبہ ہرگز تمام نہ ہوگا اور موہوب ملک عمرو سے باہر نہ آئے گا، اسی طرح عمرو کا متعدد پیرایوں میں ملکیت بکرو خالد کا اقرار دیانۃ کچھ مفید نہیں کہ یہ اقرار صرف بربنائے ھبہ ہے کما لایخفٰی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ ت) اوربہ سبب ناتمامی یہ ھبہ شرعا مثبت ملک نہ ہوا تو عنداللہ اقرار غلط کہ شرعا وجہ صحت نہیں رکھتا اثبات ملک کے لئے کافی نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار لواقر کاذبالم یحل لہ لان الاقرار لیس سبب للملک نعم لوسلمہ برضاہ کان ابتداء ھبۃ وھو الاوجہ۔ بزازیۃ اھ، فی حاشیۃ الطحطاویۃ قولہ لم یحل لہ ای لایجوز لہ اخذہ جبرادیانۃ کاقرارہ لامرأتہ بجمیع مافی منزلہ ولیس لہا علیہ شیئ انتھی، واﷲ تعالٰی اعلم۔ درمختار میں ہے اگر مالک کسی کے لئے ھبہ کا جھوٹااقرار کرے تو مقرلہ کے لئے وہ حلال نہیں ہوگا کیونکہ اقرار دوسرے کی ملکیت کا سبب نہیں ہے ہاں اگر بعد میں اپنی رضا سے اس کو قبضہ دے دے تو یہ نیا ھبہ ہوگا، یہی وجہ قابل اعتبار ہے بزازیہ حاشیہ طحطاوی میں ہے ماتن کا قول ''مقرلہ کے لئے حلال نہیں'' یعنی اس کو دیانۃ جبرا قبضہ کا حق نہیں ہے۔ جیسے کوئی شخص گھر کے تمام سامان کو بیوی کے حق میں اقرار کرے حالانکہ بیوی کا کوئی حق خاوند کے ذمہ نہیں ہے، اھ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (فتاوی رضویہ جلد 19،صفحہ 180،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :او رپسر موہوب لہ اگر وقت ہبہ بالغ ہو تو خود اس کا اپنا قبضہ شرط ہے ورنہ باپ کا قبضہ اسی کا قبضہ ہے کل ذٰلک مصرح بہ فی الکتب الفقہیۃ عن اٰخرہا (یہ تمام بحث کتب فقہ میں تصریح شدہ ہے۔ ت) پس صورت مستفسرہ میں اگر شخص مذکور نے وہ جائداد اپنے پسر کو تحریری خواہ زبانی ہبہ کردی اور بشرائط ومعانی مذکورہ پسر کو قبضہ کاملہ دلا دیا تو وہ جائداد خاص اس پسر کی ملک ہوگئی دیگر ورثہ کا اس میں استحقاق نہ رہا، اور اگر ہبہ نہ تھا نرا اقرار ہی اقرار تھا کہ اسے دے دوں گا، یا ہبہ زبانی خواہ تحریری کیا مگر قبضہ نہ دیا تو وہ قبضہ کاملہ نہ تھا اگر چہ پسر نے بعد موت پدرقبضہ کاملہ کرلیا ہو تو ان صورتوں میں وہ جائداد بدستور ملک پدر پر باقی رہی تمام ورثہ حسب فرائض اس سے حصہ پائیں گے۔(فتاوی رضویہ جلد 19،صفحہ 219،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
قبضہ کاملہ کا معنی تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو (یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام) اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔ (فتاوی رضویہ جلد 19،صفحہ 219،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:23صفرالمظفر 1446 ھ/29اگست2024ھ