بیوی کو ٹالنے کے لیے کہا چلو پھر طلاق دے دہی دیتا ہوں
    تاریخ: 7 فروری، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 749

    سوال

    ہم میاں بیوی کے درمیان لڑائی چل رہی تھی کہ بیو ی بار بار اصرار کر رہی تھی کہ مجھے اپنے والدین کے گھر جانا ہے اور بار بار مجھ سے کہہ رہی تھی کہ مجھے طلاق دے دیں ۔تو میں ٹالنے کے لیے کہا کہ چلو میں طلاق دے ہی دیتا ہوں !اوراس جملے سے نیت یہ تھی کہ ابھی رات کافی ہو چکی ہے صبح طلاق دے دوں گا ۔۔پھر صبح جب اٹھے تو سب نارمل ہو گیا تھا یہاں تک کہ میں نے بیوی کو طلاق نہیں دی ۔

    بیوی کا بیان :شوہر نے اس وقت یہ الفاط کہے تھے کہ چلو پھر میں طلاق دے ہی دیتا ہوں۔

    نوٹ: سائل نے درج بالا بیان حلفیہ تحریر کیا کہ اس جملہ سے میری مرادیہ تھی صبح طلاق دے دوں گا ۔ابھی کسی طرح یہ بہل جائے۔سائل نے اس سے پہلے زندگی میں کبھی طلاق نہیں دی ۔

    سائل:سید حسین المہروز


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگرمعاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا کہ شوہر کی اس جملہ سے نیت طلاق کی نہ تھی بلکہ مستقبل میں ارادۂِ طلاق کی تھی تو ایسی صورت میں اس جملہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی کہ ارادۂ طلاق طلاق نہیں لہذا مذکورہ خاتون بد ستور آپ (سید حسین )کے نکاح میں ہے۔

    فتاوی ہندیہ میں ہے:لوقال بالعربیۃ اطلق لایکون طلاقا الااذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا۔ترجمہ: گر عربی میں مضارع (اطلق)کہا تو طلاق نہ ہوگی، مگر جب یہ لفظ غالب طور پر حال کے لئے استعمال ہوتا ہو توطلاق ہوجائے گی۔( فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق جلد 1 صفحہ384)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22ربیع الاول ا1444 ھ/19اکتوبر 2022 ء