سوال
آج سے پہلے نو سال قبل میرا اپنی بیوی کے ساتھ تنازعہ ہوا میں نے اسے ایک طلاق دی ،اس واقعہ کے تقریبا سات سال بعد یعنی اب سے ایک سال قبل میرا بیوی کے بھائی کے ساتھ تنازعہ ہوا اس نے مجھے مارا تو میں نے یہ قسم کھائی کہ اگر میں نے اس سے بدلہ نہ لیا(نہ مارا)تو مجھ پرطلاق واقع ہوگئی ،میں نے وقت کا کوئی تعین نہیں کیا تھا چند روز بعد میری بیوی کے والدین اپنے بیٹے کی طرف سے معافی مانگنے آئے جس کے ساتھ تنازعہ ہوا وہ نہیں آیا ،تو پھر میں نےدرگزر کرتے ہوئے معاف کر دیا ،اب سے تقریبا ایک ماہ قبل میں نے اپنی بیوی پرقسم کھا ئی کہ اگر تو میری اجازت کے بغیر گھر سے نکلی تو میری طرف سے فیصلہ ہوگا (اس سےطلا ق مرادلی )بیوی کو یہ بات کہتے وقت میری نیت یہ تھی کہ جب اس کو یہ دھمکی دو نگا تو وہ گھر سے باہر نہیں نکلے گی ،چند روز بعد وہ بیٹے کو سودا سلف لینے کے لیے بلا رہی تھی تو وہ بجائے والدہ کے پاس آنے کے گھر سے باہر نکل گیا ،وہ بیٹے کے پیچھے پیسےدینےکے لیے بھاگتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی اور بیٹے کو پکڑ کر اس کو یپسے دیے کہ وہ سودا سلف لے آئے جب میری بیوی سے میری بیٹی نے پوچھا کہ ابو نے جو قسم اٹھائی تھی توتو گھر سے باہر کیوں نکلی ؟ اس نے کہا مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اتنا بڑا نقصان ہو جائے گابرائے مہربانی اس کا شرعی حل بتائیں۔سائل : نجیب اللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ جب نو سال قبل بیوی سے تنازعہ کی وجہ سےایک طلاق دی تو ایک طلاق واقع ہوگئی، پھر اکھٹے رہنے لگے یعنی رجوع کر لیا اب مرد کو دو طلاقوں کا حق حاصل ہے ،پھر جب یہ قسم کھائی کہ اگر میں نے بدلہ نہ لیا تو مجھ پرطلاق واقع ہوگئی، توان الفاظ میں بیوی کی طرف طلاق کی نسبت تو نہیں کی لیکن عرفا ایسے الفاظ بول کر بیوی کو طلاق دینا مرادلیا جاتا ہے ،تو اس طلاق کو بدلہ نہ لینے کے ساتھ معلق کیا اور کوئی وقت متعین بھی نہیں کیا تو ابھی شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے طلا ق واقع نہ ہوئی ،لیکن وہ شخص جس کے بارے قسم اٹھائی اگر طبعی موت مر گیا تو محل کے فوت ہونے سے طلاق واقع ہوجائے گی ،پھرجب یہ قسم کھائی کہ اگر تو گھر سے بغیر اجازت باہر نکلی تو میری طرف سے فیصلہ ہوگا تو یہ الفاظ کہ میری طرف سے فیصلہ ہوگا اگرچہ کنایہ ہیں ،کہ طلاق اور غیر طلاق دونوں کا احتمال رکھتےہیں لیکن شوہر نے طلاق کی نیت سے بولا تو جب بیوی گھر سے باہر نکل گئی لہذا شرط کے پائے جانے کی وجہ سے طلاق بائن واقع ہوگئی،تواب دو طلاقیں بائن واقع ہو چکی ہیں ،بائن سے نکاح ختم ہو گیا،تو دوران عدت یا عدت گزارنے کے بعد اگر فریقین دوبارہ گھر بسانا چاہیں توبغیر تحلیل شرعی کے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے رہ سکتے ہیں اس کے بعد مرد کو ایک طلاق کا حق حاصل ہوگا ،اور اگردوسرے مرد سے نکاح کرنا چاہے تو عدت گزارنے کے بعد نکاح کر سکتی ہے ۔
دلائل وجزئیات :
اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہے:’’اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ.ترجمہ کنز الایمان : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (اچھے سلوک )کے ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔(البقرہ :۲۲۹)
ہدایہ میں ہے ''فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره''ترجمہ:پس صریح مرد کا قول کہ تو طلاق والی ہے یا مطلقہ ہے اور میں نےتجھے طلاق دی، پس ان الفاظ سے طلاق رجعی واقع ہوجاتی ہے کیونکہ یہ الفاظ طلاق میں استعمال ہوتے ہیں غیر طلاق میں نہیں ۔(الہدایۃ،کتاب الطلاق،باب ایقاع الطلاق،جلد:1،صفحۃ:225، دار احياء التراث العربي)
طلا ق کی نسبت بیوی کی طرف نہ کرے لیکن عرفا ایسے الفاظ سے سے بیوی کو طلاق لینا مراد لیا جاتا ہے اس بارے علامہ ابن عابدین رحمۃا للہ علیہ فرماتے ہیں "و من الفاظ المستعملة :الطلاق یلزمنی ،و الحرام یلزمنی ،و علی الطلاق ،وعلی الحرام فیقع بلا نیة للعرف"ترجمہ :عام طور پر استعمال ہونے والے الفاظ کہ طلاق مجھ کولازم ہے،حرام مجھ کولازم ہے،مجھ پر طلاق لازم ہے،مجھ پہ حرام لازم ہے ، پس عرف کی وجہ بغیر نیت کے طلاق واقع ہو جائے گی ۔(رد المحتار،كتاب االطلاق،باب الصريح الطلاق،جلد:٣،صفحه:٢٥٢،دارالفكر بيروت)
اس بارے اعلحضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "الثالث ان لا یشمل کلامه علی الاضافةو لا یکون خرج مخرج الجواب لکن یکون اللفظ خصه العرف بتطلیق المرأةفحیث یطلق یفهم منه ایقاع الطلا ق علی المرأة کقولهم : الطلاق یلزمنی ،و الحرام یلزمنی ،و علی الطلاق ،وعلی الحرام۔۔۔و ان لم تزکرالاضافة لفظا لکنها ثابته عرفا و المعهود عرفاکالموجود لفظا"ترجمہ :تیسری قسم کہ مرد کا کلام اضافت پر مشتمل نہ ہو اور نہ ہی جواب کے قائم ومقام ہو لیکن عرف نے اسے عورت کو طلاق دینے کے ساتھ خاص کیا پس جب بھی ان کو بولا جا تا ہےتو عورت پر طلاق کو کو واقع کرنا ہی سمجھا جاتاہے جیسا کہ ان کا کہنا کہ طلاق مجھ کو لازم و حرام مجھ کو لازم ،مجھ پہ طلاق لازم ،مجھ پہ حرام لازم ۔۔۔اگرچہ لفظا اضافت کو ذکر نہیں لیکن یہ عرفا ثابت ہے اور عرفا موجود ہونا لفظا موجود ہونے کی مثل ہے ۔
یمین مطلقہ میں جب تک حالف اور محلوف قائم ہیں حالف حانث نہیں ہوگا اس بارےابن نجیم المصري رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔'' كل فعل حلف أنه يفعله في المستقبل، وأطلقه، ولم يقيده بوقت لم يحنث حتى يقع الإياس عن البر مثل ليضربن زيدا أو ليعطين فلانة أو ليطلقن زوجته وتحقق اليأس عن البر يكون بفوت أحدهما فلذا قال في غاية البيان، وأصل هذا أن الحالف في اليمين المطلقة لا يحنث ما دام الحالف والمحلوف عليه قائمين لتصور البر فإذا فات أحدهما فإنه يحنث'' ترجمہ:ہر وہ فعل جس کے کرنے کا اس نے حلف اٹھایا کہ وہ مستقبل میں کرے گا اور اس کو مطلق رکھا اور وقت کے ستھ اسے مقید نہیں کیا تو حالف اس میں حانث نہیں ہوگا حتی کہ قسم سے مایوسی کا تحقق واقع ہو ،مثلا حالف کہتا ہے کہ وہ اللہ کی قسم ضرور زید زید کو مارے گا یا ضرور فلانہ کو کوئی چیز دے گا یا ضرور اپنی بیوی کو طلاق دے گا اور قسم سے مایوسی کا تحقق دونوں میں سے ایک کے فوت ہونے سے ہوگا پس اسی وجہ سے غایۃ البیان میں ہے اور اصول اس کا یہ ہے کہ یمین مطلقہ میں حالف حانث نہیں ہوتا اس وقت تک جب تک حالف اور محلوف قائم رہیں کیونکہ قسم کا متصور ہونا ممکن ہے ، جب ان میں سے ایک فوت ہو جائے گا بے شک حالف حانث ہو جائے گا ۔(البحرالرائق ،ثلاث مسائل فی الحلف ،جلد :4،صفحة:338،دارالکتب العلمیة)
شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جائے گی اس بارے میں علامہ علاؤالدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "و تنحل الیمین بعد وجود الشرط مطلقالکن ان وجد فی الملک طلقت"ترجمہ :شرط کے پائے جانےکےبعدمطلقا قسم ثابت ہو جاتی ہے لیکن اگر ملک میں پائی جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔(در مختار،کتاب الطلاق،باب التعلیق،جلد:1،صفحہ:221،دار الکتب العلمیة)
اسی طرح ایک اور مقام پہ ہے "فیها (کلها )تنحل ای تبطل الیمین ببطلان التعلیق اذا وجد الشرط مرة" ان تمامی الفاظ شرط میں تعلیق کو باطل کرنے کے ساتھ یمین باطل ہو جاتی ہے جب ایک مرتبہ بھی شرط پائی جائے ۔ (رد المحتار ،کتاب الطلاق ،باب التعلیق ،ج:۴،ص:۶۰۵،مکتبہ امدادیہ )
فتاوی ہندیہ میں ہے '' وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق۔"ترجمہ:جب طلاق کی نسبت شرط کی طرف کرے تو شرط کےبعد اتفاقی طور پر طلاق واقع ہو جائے گی مثال کے طور پر مرد اپنی بیوی کو کہے کہ اگر تو گھر میں داخل ہو ئی تو طلاق والی ہوگی ۔(كتاب الطلاق ،الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه ،جلد:1صفحہ:420،دارالفکر بیروت)
صریح کے بعد بائن آئے تو بائن صریح کو لاحق ہو جاتی ہےاس بارے فتاوی ہندیہ میں ہے "وَالطَّلَاقُ الْبَائِنُ يَلْحَقُ الطَّلَاقَ الصَّرِيحَ بِأَنْ قَالَ لَهَا أَنْتِ طَالِقٌ ثُمَّ قَالَ لَهَا أَنْتِ بَائِنٌ تَقَعُ طَلْقَةٌ أُخْرَى وَلَا يَلْحَقُ الْبَائِنُ الْبَائِنَ"ترجمہ:اور طلاق بائن طلاق صریح کو لاحق ہو جاتی ہے باین طور کہ مرد بیوی کو کہے کہ تو طلاق والی ہے پھر کہا کہ تو بائنہ ہے تو دوسری طلاق واقع ہو جائے گی اور بائن بائن کو لاحق نہیں ہوگی ۔(فتاوی ہندیة،کتاب الطلاق ،الباب الخامس فی الکنایات فی الطلاق ،جلد:۱،صفحہ:۳۷۷)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدسجادسلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 12محر الحرام 1446 ھ/18جولائی 2024ء