داڑھی ایک مٹھی سے کم رکھنا
    تاریخ: 7 فروری، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 751

    سوال

    امام کے لیے شریعت نے داڑھی کی کیا حد مقرر کی ہے؟صحیح حد سے کم داڑھی رکھنے والا کیا امامت کروا سکتا ہے؟

    سائل:متخصص فی الفقہ علامہ ریحان صاحب


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تھوڑی کے نیچے چار انگل یعنی ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ جو شخص داڑھی بالکل نہ رکھے یا حدِمقرر سے بلا دلیل شرعی کم رکھے تو ایسا شخص فاسق معلن ہے۔اور فاسقِ معلن امامت کا اہل نہیں لہذا ایسے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ، نماز پڑھ لی تو اعادہ واجب ہو گا نیز جان بوجھ کر پڑھی تو گناہ بھی ہو گا ۔

    داڑھی سے متعلق بخاری شریف میں ہے:عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ“ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرکین کی مخالفت کرو ، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی ، اسے کاٹ دیتے تھے۔(صحیح البخاری، جلد 2،صفحہ 398 ، مطبوعہ لاهور)

    امام کمال الدین ابن ہمام علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:”واما الاخذ منھا وھی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد“ترجمہ : داڑھی ایک مٹھی سے کم کروانا جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں ، اسے کسی نے بھی مباح نہیں قرار دیا۔ (فتح القدیر ، جلد2 ، صفحہ 352 ، مطبوعہ کوئٹہ)

    حاشیۃ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے:والأخذ من اللحية وهو دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال لم يبحه أحد وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الإعاجم فتح ترجمہ: یعنی جب داڑھی ایک مشت سے کم ہو تو اس میں کچھ لینا جس طرح بعض مغربی اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیک حلال نہیں اور سب لے لینا ایرانی مجوسیوں اور یہودیوں اور ہندیوں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے۔( حاشیۃ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح جلد 1ص 681، الشاملہ)

    الدر المختار میں ہے:وَأَمَّا الْأَخْذُ مِنْهَا وَهِيَ دُونَ ذَلِكَ كَمَا يَفْعَلُهُ بَعْضُ الْمَغَارِبَةِ، وَمُخَنَّثَةُ الرِّجَالِ فَلَمْ يُبِحْهُ أَحَدٌ، وَأَخْذُ كُلِّهَا فِعْلُ يَهُودِ الْهِنْدِ وَمَجُوسِ الْأَعَاجِمِ فَتْحٌ.ترجمہ: بہرحال جب داڑھی ایک مشت سے کم ہو تو اس میں کچھ لینا جس طرح بعض مغربی اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیک حلال نہیں اور داڑھی بالکل منڈوانا ایرانی مجوسیوں اور یہودیوں اور ہندیوں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے۔( الدر المختار مع رد المحتار،باب ما یفسد الصوم جلد 2ص 418)

    شیخ عبد الحق محدث دہلوی شرح مشکوۃ میں لکھتے ہیں :حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج وہنود وجوالقیان کہ ایشاں راقلندریہ نیز گویند وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآں کہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دردین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت ست چنانکہ نماز عیدرا سنت گفتہ اند۔ترجمہ: داڑھی منڈانا حرام ہے، یہ افرنگیوں، ہندؤوں اور جوالقیوں کا طریقہ ہے جو قلندریہ بھی کہلاتے ہیں ۔ اور داڑھی بمقدار ایک مٹھی چھوڑنا واجب ہے اور داڑھی کے متعلق جو کہا جاتاہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین میں ایک جاری طریقہ ہے یا یہ وجہ ہے کہ اس کا ثبوت سنت کے ساتھ ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہتے ہیں۔( اشعۃ اللمعات ترجمہ مشکوٰۃ کتاب الطہارۃ باب السواک مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر جلد 1 ص 212)

    غُنیۃمیں ہے:”لَوْقَدَّمُوْافَاسِقاً یَأثِمُوْنَ بِنَاءً عَلیٰ أَنَّ کَرَاھَۃَ تَقْدِیْمِہٖ کَرَاھَۃٌ تحریمٌ“یعنی اگرکسی فاسق کومقدم کیاتووہ گناہگارہوں گےاس بناء پرکہ فاسق کومقدم کرنامکروہ تحریمی ہے۔ (غنیۃالمستملی،صفحہ 513)

    فتاویٰ رضویہ میں ہے:”داڑھی منڈانا اور کُتَروا کر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق باِلاِعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسقِ مُعلِن کی امامت ممنوع و گناہ ہے “(فتاویٰ رضویہ،جلد 6صفحہ 505،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29صفرالمظفر 1444 ھ/16ستمبر 2023 ھ