سوال
دو مہینے پہلے ہم میاں و بیوی میں لڑائی ہوئی اس میں ،میں نے غصے میں آکر یہ الفاظ بولے تھے کہ:’’ میں تجھے فیصلہ دیتا ہوں‘‘ مختلف ٹائم میں تین دفعہ۔ اب ہم میاں بیوی میں صلح ہو گئی ہے تو اس سلسلے میں معلومات کرنی ہےکہ ہمارے نکاح پر تو کوئی فرق نہیں آیا ،اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں۔سائل: محمد اقبال
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے تو صورت مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ ان الفاظ سے کہ ’’میں تجھے فیصلہ دیتا ہوں ‘‘ ایک طلاق بائن واقع ہو چکی ہے طلاق کے بعد بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہنا میاں بیوی والے معاملات کر نا سخت ناجائز اور حرام ہے ، اس بارے اللہ تبارک و تعالیٰ سے توبہ واستغفار کریں۔
اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ مرد نے جو الفاظ بولے کہ میں تمہیں فیصلہ دیتا ہوں یہ الفاظ کنایہ ہیں کہ طلاق اور غیر طلاق دونوں کا احتمال رکھتے ہیں جب مذاکرہ طلاق اور غصہ کی حالت نہ ہو تو نیت کی طرف محتاجی ہوتی ہے لیکن اس صورت میں مردنے جب یہ الفاظ کہے تو سوال میں خود اقرار کیا کہ غصے کی حالت میں کہے ہیں اور یہ الفاظ وہ ہے جو فقط جواب کا احتمال رکھتے ہیں؛لہذا بغیر نیت کے ان الفاظ سے ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی اگرچہ ان کو تین مرتبہ کہاں کیونکہ بائن ، بائن کو لاحق نہیں ہوتی۔
دلائل و جزئیات :
اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہےاَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕترجمہ کنز الایمان : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (اچھے سلوک )کے ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔(البقرہ :۲۲۹)
الفاظ کنایہ سے طلاق ہونے یا نہ ہو نے کے اعتبار سے علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب‘‘ ترجمہ :فقہاء کے نزدیک کنایہ وہ ہے جسے طلاق کے لیے وضع نہ کیا گیا ہوں ،طلاق اور غیر طلاق دونوں کا احتمال رکھے ،قضاءً کنایہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی سوائے نیت اور دلالت حال کے ساتھ اور دلالت حال مذاکرہ طلاق اور حالت غضب ہے ۔(رد المحتار،کتاب الطلاق ،باب الکنایة،جلد:4صفحہ:526،مکتبہ امدادیہ)
حالات اور الفاظ كنایہ کی اقسام كو بيان کرتے ہوئے علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’فَالْحَالَاتُ ثَلَاثٌ: رِضًا وَغَضَبٌ وَمُذَاكَرَةٌ وَالْكِنَايَاتُ ثَلَاثٌ مَا يَحْتَمِلُ الرَّدَّ أَوْ مَا يَصْلُحُ لِلسَّبِّ، أَوْ لَا وَلَا ‘‘۔ ترجمہ: حالات تین قسم کے ہیں: رضا ، غضب (غصہ)، اور مذاکرہ طلاق۔ اور کنایات بھی تین قسم کی ہیں: وہ جو رد کو محتمل ہو، وہ جو گالی دینے کے لائق ہو، اور وہ جو نہ رد کا محتمل ہو اور نہ ہی گالی کے لائق ہو۔ ۔(رد المحتار ،کتاب الطلاق ، باب الکنایات، جلد:4،صفحہ:519 ، قدیمی کتب خانہ )
اسی کے تحت علامہ شامی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ’’وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْأَوَّلَ يَتَوَقَّفُ عَلَى النِّيَّةِ فِي حَالَةِ الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَالْمُذَاكَرَةِ، وَالثَّانِي فِي حَالَةِ الرِّضَا وَالْغَضَبِ فَقَطْ وَيَقَعُ فِي حَالَةِ الْمُذَاكَرَةِ بِلَا نِيَّةٍ، وَالثَّالِثُ يَتَوَقَّفُ عَلَيْهَا فِي حَالَةِ الرِّضَا فَقَطْ، وَيَقَعُ حَالَةَ الْغَضَبِ وَالْمُذَاكَرَةِ بِلَا نِيَّةٍ ‘‘خلاصہ یہ ہے کہ پہلی قسم ، غصے اور مذاکر ہ طلاق کی حالت میں نیت پر موقوف ہوتی ہے ۔ دوسری قسم صرف غصے کی حالت میں نیت پر موقوف ہوتی ہے، لیکن مذاکر ہ طلاق کی حالت میں بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ تیسری قسم صرف رضا کی حالت میں نیت پر موقوف ہوتی ہے، لیکن غصے اور مذاکرہ طلاق کی حالت میں بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔(رد المحتار ،کتاب الطلاق ، باب الکنایات، جلد:4،صفحہ:522 ، قدیمی کتب خانہ ).
بائن بائن کو لا حق نہیں ہو تی اس بارے فتاوی ہندیہ میں ہے "وَالطَّلَاقُ الْبَائِنُ يَلْحَقُ الطَّلَاقَ الصَّرِيحَ بِأَنْ قَالَ لَهَا أَنْتِ طَالِقٌ ثُمَّ قَالَ لَهَا أَنْتِ بَائِنٌ تَقَعُ طَلْقَةٌ أُخْرَى وَلَا يَلْحَقُ الْبَائِنُ الْبَائِنَ"ترجمہ:اور طلاق بائن طلاق صریح کو لاحق ہو جاتی ہے باین طور کہ مرد بیوی کو کہے کہ تو طلاق والی ہے پھر کہا کہ تو بائنہ ہے تو دوسری طلاق واقع ہو جائے گی اور بائن بائن کو لاحق نہیں ہوگی ۔(فتاوی ہندیة،کتاب الطلاق ،الباب الخامس فی الکنایات فی الطلاق ،جلد:۱،صفحہ:۳۷۷)
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 24مصفر المظفر 1446 ھ/30اگست 2024ء