قسط میں تاخیر کیوجہ سے موبائل بند کرنا کیسا

    Qist mein takheer ki wajah se mobile band karna kaisa

    تاریخ: 25 جولائی، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1652

    سوال

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ معزز علمائے کرام و مفتیان عظام! ہمارے ہاں کلر سیداں ضلع راولپنڈی میں قسطوں کا ایک جدید نظام متعارف ہوا ہے، اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ دوکاندار گاہک کو قسطوں پر موبائل فون دیتا ہے اس کی مکمل قیمت ادائیگی وغیرہ سب کچھ طے ہوتا ہے لیکن اس میں ایک کمپنی بھی شریک ہوتی ہے باقاعدہ طور پر ویڈیو کال کے ذریعے گاہک سے ساری تفصیل معلوم کر کے معاہدہ طے کرتی ہے کہ اگر آپ نے کوئی قسط نہ دی تو موبائل فون یہاں سے بند کر دیا جائے گا اور قسطوں کی ادائیگی بھی گاہک نے کمپنی کو کرنی ہوتی ہے... دوکاندار کو کمپنی اسی وقت یا ایک دن بعد ساری رقم بھیج دیتی ہے اور دوکاندار کا عمل دخل ختم ہو جاتا ہے صرف گاہک اور کمپنی کا معاہدہ جاری رہتا ہے... اب سوال یہ ہے کہ قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہونے یا نہ دینے کی وجہ سے کمپنی موبائل فون بند کر سکتی ہے یا نہیں...؟ کر سکتی ہے تو کس اصول کے تحت...؟ نہیں تو کمپنی کا نقصان کیسے پورا ہوگا...؟ خریدار جب تک قسط ادا نہیں کرے گا موبائل فون بند رہے گا اور وہ اسے بیچ بھی نہیں سکتا کیونکہ موبائل فون میں ایک لائن چلتی رہتی ہے کہ یہ کمپنی کی طرف سے لون پر لیا ہوا ہے جب تک وہ ساری اقساط ادا نہ کرے... اس کے علاوہ اور کسی قسم کا کوئی اضافہ وغیرہ نہیں ہے... المستفتی محمد عارف ضیاء الباروی مرکزِ اہلسنت پہر حالی کلر سیداں ضلع راولپنڈی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    قسطوں پر موبائل کی خرید و فروخت میں ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے موبائل کو عارضی طور پر بند کر دینا، جائز ہے۔اصلاً تو عقدِ بیع میں اگر قیمت کی ادائیگی کے لیے کوئی مدت مقرر کر دی جائے (یعنی تاجیل کی جائے) تو بائع کا حقِ حبس (مبیع کو روکنے کا اختیار) ختم ہو جاتا ہے اور اس پر مبیع مکمل طور پر مشتری کے سپرد کرنا لازم ہوتا ہے۔ تاہم، قسطوں کے کاروبار میں حقِ حبس ختم نہیں ہوتا، کہ یہاں اسے قسط کی ادائیگی سے مشروط کیا جاتا ہے، یعنی اس میں عرف رائج ہے، اور قاعدہ مشہور ہے کہ’’ والمعہود عرفا کالمشروط لفظا‘‘ (یعنی جو بات عرف میں طے شدہ ہو وہ لفظی شرط کی طرح ہی نافذ العمل ہوتی ہے)۔ نیز اس میں فریقین کی رضا مندی بھی شامل ہوتی ہے۔اور اسکی ضرورت بھی ہے کیونکہ اگر ایسانہ کیا جائے تو لوگ قسط ادا کرنا ہی ترک کردیں گے اسکے بعد انہیں کال کرنا ، انکے گھروں تک افراد بھیجنا تاکہ وہ قسط کی ادائیگی کریں ایک الگ، مشکل ، وقت طلب اور خرچ طلب امر ہے۔ لہذاعرف و ضرورت کیوجہ سے صورتِ مستفسرہ میں موبائل کو بند کردینا جائز و روا ہے اور یہ اسی حقِ حبس کی جدید صورت ہے، جو کہ جائز ہے۔بالخصوص اس صورت میں کیونکہ یہاں یہ شرط عقد کے مناسب و ملائم ہے اسکے مخالف نہیں جیساکہ بیع مین رہن کی شرط۔

    شرطِ متعارف کے استحساناً معتبر ہونے پر درر الحكام شرح مجلۃ الأحكام میں ہے: البيع بشرط متعارف يعني المرعي في عرف البلد صحيح والشرط معتبر... الشرط المتعارف ولو لم يكن من مقتضيات العقد جوز البيع معه استحسانا وصار معتبرا هندية ، انظر المواد 36 و 38 و 83 وجواز البيع معه خلاف القياس ؛ لأن فيه نفعا لأحد المتعاقدين ووجه الاستحسان العرف والتعامل ؛ لأن الشرط متى كان متعارفا فلا يكون باعثا على النزاع ويحصل الملك المقصود بغير خصام". ترجمہ: شرطِ متعارف یعنی شہر کے عرف میں جاری شرط کے ساتھ بیع کرنا صحیح ہے اور شرط معتبر ہےاور شرطِ متعارف اگرچہ مقتضیاتِ عقد میں سے نہ ہو، اس کے ساتھ بیع استحساناً جائز ہے اور وہ معتبر قرار پائی ہے ، (ہندیہ) دیکھیے مواد 36، 38 اور 83۔ اور اس کے ساتھ بیع کا جواز خلافِ قیاس ہے؛ کیونکہ اس میں عاقدین میں سے کسی ایک کا نفع ہے، اور استحسان کی وجہ عرف اور تعاملِ ناس ہے؛ کیونکہ شرط جب متعارف ہو تو وہ نزاع کا باعث نہیں بنتی اور مقصود ملك بغیر جھگڑے حاصل ہو جاتا ہے۔ (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة: 188، 1/137-138، دار الكتب العلمية، بيروت)

    عقد یعنی سودے کووہ شرطفاسد کردیتی ہےلوگوں کے درمیان جسکا عرف نہ ہو جیسا کہ فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: وان کان الشرط شرطا لم یعرف ورودالشرع بجوازہ فی صورۃ وھو لیس بمتعارف، ان کان لاحد المتعاقدین فیہ منفعۃ۔۔۔فالعقد فاسد ۔ترجمہ: اگر شرط ایسی ہو جو شریعت میں جائز نہ ہو اور نہ ہی لوگوں کے درمیان وہ معروف ہو ، اگر اس میں کسی ایک (یعنی فروخت کنندہ یا خریدار) کا فائدہ ہو، تو عقد فاسد ہوتا ہے۔(فتاوی تاتار خانیہ، جلد8، صفحہ410، ھند)۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    03 جمادی الاول 1448ھ/ 15 اکتوبر 2026 ء کو جاری کیا گیا