دادا کی وراثت کا مسئلہ

    dada ki wirasat ka masla

    تاریخ: 16 اپریل، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1135

    سوال

    کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام کہ اگر دادا کاانتقال ہوگیا اور پھر بعد میں کوئی بیٹا انتقال کرگیا تو کیا اسکے بیوی بچوں کوداد کی وراثت سے حصہ ملے گا یا نہیں؟

    داد اکے جیتے جی جبکہ وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی اور دادا نے کسی کے لیے کوئی وصیت بھی نہیں کی تھی ،اور دادا سے پہلے کسی بیٹے یا بیٹی کا انتقال بھی نہیں ہوا اور دادا کی کوئی زوجہ بھی حیات نہیں ہیں اور نہ انکے والدین میں سے کوئی موجود اب کیا حکم شرع ہوگا ؟ بینوا و تؤجروا

    سائل: کامران عطاری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں جو بیٹا دادا کی وفات کے وقت زندہ تھا پھر وراثت تقسیم نہیں ہوئی کہ اسکا انتقال ہوگیا تواس بیٹے کا بھی وراثت میں حصہ ہوگا اور اسکا حصہ اسکے ورثاء بیوی بچوں میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا ۔

    الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424 میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه :ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367 میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) ش: أي وقت الحكم بالموت:ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اسکی موت کے وقت موجود ہوں۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی