دس بہن بھائی اور وصیت

    das behn bhai aur wasiyat

    تاریخ: 16 اپریل، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 1136

    سوال

    مرحومہ بلقیس بائی کے دس بہن بھائی تھے جن میں سے 2 بھائیوں کا انتقال پہلے ہوگیا تھا۔ اور انکے والدین کا بھی انتقال پہلے ہوگیا اور خود انکا نکاح نہیں ہوا۔ اب 3 بھائی اور 4 بہنیں حیات ہیں ۔ مرحومہ نے کچھ رقم اور سامان چھوڑا ہے ۔

    انہوں نے وصیت یہ کی تھی کہ میرے پیسے میرے بیٹے بیٹیوں کو دے دینا۔( یاد رہے کہ مرحومہ اپنے بھتیجے،بھتیجیوں کو بیٹا بیٹی کہتی تھی)لیکن کسی کا تعین نہیں کیا ۔ اب وصیت تمام بھتیجوں اور بھانجوں میں جاری ہوگی یا مرحومہ کی بات کا جو غالب گمان ہے اس پر وصیت جاری ہوگی۔نیز مرحومہ نے یہ بھی کہا کہ جب تک میری فلاں بہن زندہ ہے میری رقم کو تقسیم نہ کیا جائے۔کیا معاملہ ارث میں اس قید کا عتبار ہوگا یا نہیں؟

    سائل:محمد علی :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)

    مذکورہ سوال کا جواب یہ ہے کہ

    1:سب سے پہلے مرحومہ کی وصیت کے مطابق تمام بھتیجے ،بھتیجیوں میں کل مال کا ایک تہائی تقسیم کیا جائے گاجس میں سے ہر ایک کو برابر برابر حصہ ملے گا۔

    پھر جو کچھ بچ جائے وہ تما مرحومہ کی وفات کے وقت موجود بہن اور بھائیوں میں تقسیم ہوگا ۔جن کا اتنقال مرحومہ سے پہلے ہوا وہ (انکی اولاد وغیرہ)وراثت کے حقدار نہیں ۔تقسیم کی تفصٰل یہ ہے کہ مابقی بعد الوصیت(وصیت کے بعد بچنے والے)کل مالِ وراثت کو 10 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جس میں سے ہر بھائی کو 2حصے اور ہر بہن کا ایک حصہ ملے گا۔

    نیز مرحومہ کے اس قول کا کوئی اعتبار نہیں کہ جب تک میری فلانی بہن زندہ ہے اس وقت تک تقسیم نہ کیا جائے کیونکہ یہ مال اب تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہوگیا جس کی تمام ورثاء کے مابین تقسیم لازم ہے۔

    وصیت کے بارے میں تنویر الابصار میں ہے :(وَتَجُوزُ بِالثُّلُثِ لِلْأَجْنَبِيِّ وَإِنْ لَمْ يُجِزْ الْوَارِثُ ذَلِكَ لَا الزِّيَادَةَ عَلَيْهِإلَّا أَنْ تُجِيزَ وَرَثَتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ)ترجمہ:اور ایک تہائی مال میں اجنبی شخص(جو وارث نہ بن رہا ہو)کے لئے وصیت جائز ہے، اگر چہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں ، اور ایک تہائی سے زائد کی جائز نہیں ہے مگر یہ کہ موصی(وصیت کرنے والے )کی موت کے بعد دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب ثلث سے زائد میں بھی جائز ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الوصایا جلد 6ص165)

    جن کا انتقال مرحومہ سے پہلے ہوا وہ مستحق وراثت نہیں جیساکہ الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت۔ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ)تھے ۔ ( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) : أي وقت الحكم بالموت۔ ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16 رمضان المبارک 1442 ھ/29 اپریل 2021 ء