دو بیٹے ۔چھ بیٹیاں ۔اٹھاسی لاکھ کا مکان بیچا

    do betay chhe betiyan athasi lakh ka makan becha

    تاریخ: 16 اپریل، 2026
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 1138

    سوال

    میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے ،ان کا ایک مکان تھا جو کہ میں نے 88 لاکھ کا بیچ دیا ۔ پھر 66 لاکھ سے ایک دوسرا مکان لیا ۔ جو رقم میرے پاس بچی سے اس میں سے بچوں کو حصہ دینا ہے۔ میرے چھ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ۔ ایک بیٹی طلاق یافتہ ہے ، اسکی بیٹی بھی ساتھ رہتی ہے۔ کل ملاکر اب ہم ایک گھر میں یہ لوگ ہیں ۔ ایک میں خود ،ایک نواسی، دو بیٹے اور چھ بیٹیاں ۔ ہر ایک کا حساب کرکے بتادیں کہ کتنا حصہ ہوگا۔؟

    سائلہ:جنت خاتون : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)

    وہ مال اسکی وفات کے بعد اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے جو اسکی وفات کے وقت زندہ تھے ، اور اسکو ہی مال وراثت کہتے ہیں ،اسی کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔علامہ سید میر شریف جرجانی ترکہ کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه :ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہ ہو۔(التعریفات ص 42)

    اب آپ سے سوال کا جواب یہ ہے کہ 88 لاکھ کا مکان بیچ کو جو مکان خریدا اسکی موجودہ ویلیو نکلوائی جائے ، اور یہ مکان خریدنے کے بعد جو رقم 22 لاکھ بچی،اسکو بھی ملایا جائے۔

    اسکے بعد دیکھا جائے کہ ان پر کوئی قرض ہے تو وہ ادا کیا جائےگا، قرضہ جات ادا کرنے کے بعددیکھا جائے گا کہ اگر انہوں نے کوئی وصیت کی ہے تو باقی ماندہ کے ایک تہائی مال سے وصیت پوری کی جائے گی اسکے بعد جو کچھ بچے،وہ ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا ۔ تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے 80حصے کئے جائیں گے جس میں آپکو 10 حصے ملیں گے۔بیٹیوں میں سے ہر ایک کو الگ الگ07 حصے ملیں گے۔بیٹوں میں سے ہر ایک کو 14 حصے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔

    ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ مکان کو بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 80 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکومحفوظ کرلیں اسکے بعد محفوظ اعداد کو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05 رجب المرجب 1441 ھ/29 فروری 202 ء