kuch Wurasa Pehle Inteqal Kar Jayein To Unki Aulaad Ka Hissa
سوال
جناب اعلٰی درج ذیل صورت حال کے مطابق وراثت کے حصے بتادیں۔
والد ۔میت ۔تاریخ وفات، 2015-3-17 (عبدالقدیر انصاری)
انکے ایک بیٹےاور دو بیٹیوں کا انتقال پہلے ہی ہوگیا تھا ، بیٹے کا 2009-04-11اور بیٹیوں میں سے پہلی کا2010-11-29 اور دوسری کا 2014- 12 -31 ، اسکے بعد انکی زوجہ کا وصال 2016-01-16 کو ہوا۔ اب اس وقت جبکہ وراثت تقسیم کرنا چاہتے ہیں چار بیٹے اور ایک بیٹی حیات ہے۔ عبدالقدیر کے والدین اور انکی زوجہ بسم اللہ خاتون کے والدین ان دونوں سے پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔ ہر ایک کا کیا حصہ ہوگا نیز مرحوم بیٹیوں کا وراثت میں کوئی حق ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی مسئلے کا حل تحریری طور پر عطا فرمائیں۔
سائل: محمد نذراقبال:بہادر آباد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں کل جائیداد کے 9 حصے کیے جائیں گے، جس میں سے ہر بیٹے کو 2 حصے اور بیٹی کو ایک حصہ دیا جائیگا۔ اور وہ ورثاء جن کا انتقال پہلے ہی ہوگیا تھا، انکی اولاد کو وراثت سے حصہ نہیں ملے گا الا یہ کہ تمام موجودہ ورثاء اپنی طرف سے بطور احسان کچھ دے دیں تو باعث اجر و ثواب ہے۔
ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه:ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سےپہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے۔ (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)
یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت: أي وقت الحكم بالموت:تر جمہ اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)
لیکن اگر آپ چاہیں تو اپنے بھائی کے بچوں کو وراثت سے کچھ دے سکتے ہیں ، کہ یہ آپ کی طرف سے انکے لیے احسان ہوگا ،اور احسان کرنے والوں کو اللہ کریم پسند فرماتا ہے۔قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔(البقرہ:195)
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے۔ قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء:11)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین :ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 جمادی الاول 1440 ھ/26 جنوری 2019 ء