char Sage Betay Paanch Sagi Betiyan Aur Do Sautelay Betay Aur Do Sauteli Betiya
سوال
میری دادی امۃ الدیان کی شادی کم عمری میں ہوئی اور وہ 19 سال کی عمر میں ہی بیوہ ہوگئی تھی۔ اس وقت انکے چار بیٹے تھے ۔ دو بیٹے(شارق، طارق) اور دو بیٹیاں(فرزانہ، شبانہ)۔پھر اسکے بعد انکی شادی حافظ شفاعت سے ہوئی ۔ حافظ شفاعت کی بھی یہ دوسری شادی تھی پہلی شادی سے انکے بھی چار بچے تھے دو بیٹے(کرامت،سعادت)اور دو بیٹیاں (مسرت،نزھت)۔پھر دونوں کی اس دوسری شادی سے پانچ بچے مزید پیدا ہوئے 2 بیٹے(شجاعت،مجاہد) اور تین بیٹیاں (عارفہ، عرفانہ،فرحانہ)۔
دادی کے شوہر حافظ شفاعت علی کا دادی سے پہلے انتقال ہوا اسکے بعد دادی کا انتقال ہوا۔ اس ساری صورتِ حال میں چند سوالات ہیں جن کا جواب دے کرمشکور ہوں۔
1:ان بچوں میں سے کس کس کو کتنا کتنا حصہ ملے گا۔
2:دادی کے انتقال کو کئی سال گزر چکے ہیں تو اب مکان قیمت کون سی قیمت کا اعتبار ہوگا سابقہ قیمت یا موجودہ قیمت ؟
3:اس مکان میں رہنے والوں نے اگر گھر میں کچھ کام کروایا ہے تو وہ منہا کیا جائے گا یا نہیں ؟
4:اگر ورثاء باہمی رضامندی سے ایک دوسرے حق میں دست بردار ہوجائیں تو کیا اس کا اعتبار کیا جائے گا۔
سائل:سید وجاہت علی: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
:مرحومہ کی وراثت سےصرف انکی سگی اولاد حصہ پائے گی ۔ جس میں چار بیٹے (شارق،طارق،شجاعت،مجاہد)اور پانچ بیٹیاں (فرزانہ،شبانہ، عارفہ، عرفانہ،فرحانہ) ہیں ۔تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مال وراثت کو 13 حصوں میں تقسیم کیا جائےگا جس میں سے ہر بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملے گا۔یعنی ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:اگر بیٹیوں کے ساتھ بیٹے بھی ہوں تو اب تقسیم للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت ہوگی۔ یعنی ہر بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملے گا۔ قال اللہ تعالیٰيُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
2:مکان کی موجودہ ویلیو لگواکر اس میں سے حصے تقسیم کئے جائیں گے۔
3: اگر کسی وارث نے مکان کی تعمیرات میں رقم لگوائی تو اس کی دو صورتیں ہیں اگر دیگر ورثاء کی اجازت سے لگوائی تو اتنی رقم انہیں واپس کی جائے گی جتنی رقم لگائی، بصورت دیگر اسے وہ رقم واپس نہیں کی جائے گی بلکہ وہ اسکی طرف سے تبرع ہوگا۔ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ۔ ترجمہ:ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی کی طرح ہے حتٰی کی ایک کو دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشرکۃ جلد 3 ص 313)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ:العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ گھر اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ، جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:أَنْفَقَ بِلَا إذْنِ الْآخَرِ وَلَا أَمْرَ قَاضٍ، فَهُوَ مُتَبَرِّعٌ كَمَرَمَّةِ دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ.ترجمہ:اگر کسی شریک نے دوسرے کی اجازت کے بغیر ، یونہی قاضی کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کیا تو وہ متبرع ہے ،جیسا کہ مشترکہ مکان میں خرچ کرنا۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب المزارعۃ جلد 6 ص 284)
4: اگر دست برداری اس طرح ہو کہ کوئی وارث صراحتا کہہ دے مجھے اس وراثت سے حصہ نہیں چاہیے تو اسکی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، کیونکہ میراث اور وراثت شریعت کا حق ہے ، اللہ تعالیٰ نےیہ حق مقرر فرمایا ہے ، لہذا کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہ ہوگا حتیٰ کہ ورثاء صراحتاََ کہہ دیں کہ ہم اپنے حق سے دست بردار ہوتے ہیں تب بھی وراثت میں انکی ملکیت ختم نہ ہوگی۔قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار میں فتاویٰ بزازیہ کے حوالے سے ہے :وفيهَا: وَلَو قَالَ تركت حَقي من الْمِيرَاث أَو بَرِئت مِنْهَا وَمن حصتي لَا يَصح وَهُوَ على حَقه، لَان الارث جبري لَا يَصح تَركه :ترجمہ:اور بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی وارث نے کہا کہ میں نے وراثت سے اپنا حق چھور دیا یا میں وراثت سے دست بردار ہوا،یا میں اپنے حصے سے دست بردار ہوا، تو یہ درست نہیں بلکہ اسکا حصہ ابھی بھی باقی ہے، کیونکہ وراثت ایک جبری چیز ہے اسکا ترک درست نہیں ہے۔(قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار جلد 12 ص 116 امدادیہ)
سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں:فان الارث سبب ضروری للملک حتی ان الوارث یرث ویملک سھمہ ولوقال الف مرۃ انی ترکت حقی والمسئلۃ فی الاشباہ وغیرھا۔ترجمہ: بلاشبہ وارث ہونامِلک کے لئے سبب ضروری ہے یہاں تک کہ وارث اپنے حصے کاوارث ومالک بن جاتاہے اگرچہ ہزار بار کہے ہے کہ میں نے اپنا حق چھوڑدیاہے اور یہ مسئلہ اشباہ وغیرہ میں مذکورہے۔(فتاوی رضویہ کتاب المداینات جلد 25 ص 311)
ہاں اگر ورثاء مصالحت کرلیں یا اپنے کل حصہ میں سے کچھ لے لیں اور باقی چھوڑ دیں تو اس میں حرج نہیں ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22 رجب المرجب 1441 ھ/17 مارچ 2020 ء