دو بہنیں اور دو بھائی کا حصہ

    do behnain aur do bhai ka hissa

    تاریخ: 16 اپریل، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 1137

    سوال

    میری بہن صابرہ کا انتقال ہوگیا ہے ، انکی کوئی اولاد نہیں تھی ، جبکہ کل چھ بہنیں اورپانچ بھائی ہیں ۔ انکی وفات سے پہلے تین بہن اور تین بھائیوں کا انتقال ہوگیا تھا ۔ انکی وفات کے وقت شوہر،دو بھائی اور دو بہنیں موجود تھیں۔ جس میں سے بعد میں ایک بہن کا انتقال ہوگیا اس بہن کے ورثاء میں شوہر ، چار بیٹے، اور تین بیٹیاں ہیں۔ انکی جائیداد کی تقسیم کاری کیسے ہوگی۔؟؟ یاد رہے انہوں نے وصیت بھی کی تھی کہ انکے مال میں سے مسجد و مدرسہ میں دیا جائے۔

    سائل:عبدالقادر :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت اگر سچ پر مبنی ہے تو سب سے پہلے کل جائیداد میں سے تمام ورثاء باہمی رضامندی سے جس قدر مال مسجد و مدرسہ میں دینا چاہیں اتنا مال مسجد و مدرسہ میں دیا جائے۔ اسکے کے بعد جو جائیداد بچی وہ ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہونگے ۔ جسکی تفصیل یہ ہے وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد کے 528 حصے کئے جائیں گے جس میں سے آپکی بہن کے شوہر کو 264 حصے ملیں گے ۔ فریدہ کو 44 حصے ،عبدالقادر اور عبدالغفار میں سے ہر ایک کو 88 حصے ملیں گے جبکہ شمیم کا حصہ انکے ورثاء میں تقسیم ہوگا ۔ شمیم کے شوہر غضنفر کو 11 حصے ، شمیم کے ہر بیٹے کو 6 حصے ہر بیٹی کو 3 حصے ملیں گے۔

    بدائع الصنائع میں ہے: إذَا أَوْصَى لِرَجُلٍ بِجُزْءٍ مِنْ مَالِهِ أَوْ بِنَصِيبٍ مِنْ مَالِهِ أَوْ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ أَوْ بِبَعْضٍ أَوْ بِشِقْصٍ مِنْ مَالِهِ، فَإِنْ بَيَّنَ فِي حَيَاتِهِ شَيْئًا، وَإِلَّا أَعْطَاهُ الْوَرَثَة ُ بَعْدَ مَوْتِهِ مَا شَاءُوا؛ لِأَنَّ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ تَحْتَمِلُ الْقَلِيلَ، وَالْكَثِيرَ، فَيَصِحُّ الْبَيَانُ فِيهِ مَادَامَ حَيًّا، وَمِنْ وَرَثَتِهِ إذَا مَاتَ؛:ترجمہ:جب کسی نے کسی کے لیے وصیت کی کہ اسکو کچھ مال دے دیا جائے تو اگر اس نے اپنی زندگی میں بیان کر دیا کہ اتنا دے دیا جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کے ورثاء اسکی موت کے بعد جتنا چاہیں دے دیں جس پر وہ راضی ہوں، کیونکہ یہ الفاظ (کہ کچھ دے دیا جائے) قلیل و کثیردونوں کا احتمال رکھتے ہیں لہذا جب تک وہ زندہ تھا اسکا بیان صحیح تھا اور جب مر گیا تو اسکے ورثاء کے طرف سے صحیح تھا۔( بدائع الصنائع کتاب الوصایا باب وجود الموصی عند موت الموصی جلد 7ص 356)

    :مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،شوہروں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ

    ترجمہ کنز الایمان :اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا: یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ : ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:

    ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ کل جائیداد اور سامان بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 528 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب