تیسرے شخص کا زوجین کے طلاق دینے کا دعوی

    teesray Shakhs Ka Zojain Ke Talaq Dene Ka Daawa

    تاریخ: 15 اپریل، 2026
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 1132

    سوال

    میرے شوہر نشہ کرتے ہیں اور گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے میری ساس نے مجھے اور میرے شوہر کو گھر سے نکال دیا۔ میری ساس کا کہنا ہے کہ طلاق کے کاغذات تیار ہو گئے ہیں اور ہم نے تمہارے شوہر سے ان پر دستخط بھی کروا لیے ہیں۔ لیکن میرے شوہر کہتے ہیں کہ میں نے دستخط نہیں کیے، اُس وقت نشے کی حالت میں تھا اور مجھے کچھ یاد نہیں۔ کاغذات بھی موجود نہیں، ساس کہتی ہیں کہ وہ پھاڑ دیے گئے ہیں۔ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    نوٹ:شوہر کے بیان کے مطابق کوئی طلاق کے کاغذات موجود نہیں ہیں، نہ ہی اس نے کبھی ایسے کاغذات بنوائے یا دستخط کیے۔ صرف ان کی والدہ یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ اس(والدہ نے خود) نے کاغذات بنوائے تھے۔ لیکن جب اس (والدہ)سے پوچھا گیا کہ اگر کاغذات پر دستخط ہوئے تھے تو وہ کاغذات کہاں ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ کاغذات پھاڑ دیے گئے ہیں، اس لیے اب ان کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔مزید یہ کہ شوہر کے مطابق ان کی والدہ دراصل ہمارے رشتے کے خلاف ہیں کیونکہ ہم میاں بیوی نے اپنی فیملیز کے خلاف جاکر شادی کی تھی اس لئے وہ نہیں چاہتیں کہ ہم دونوں ساتھ رہیں۔ اور وہ کہہ رہی ہیں کہ "فتویٰ لے کر آؤ، پھر تمہیں (شوہر وبیوی) اپنے گھر (کشمیر میں )میں ساتھ رہنے دوں گی"۔جبکہ شوہر سے اس بارے میں قسم لی گئی ہے۔

    بیوی کا بیان بھی شوہر کے بیان کے مطابق ہے۔ اوراس کے بیان کے مطابق جس دن کا واقعہ ساس بیان کر رہی ہیں، اس دن بیوی خود گھر پر موجود تھی اور اس کے سامنے کوئی کاغذات یا دستخط کرنے کا معاملہ پیش نہیں آیا۔ اس بات کا کوئی گواہ نہیں ۔ لہٰذا یہ سب باتیں صرف ساس کی طرف سے گھڑی گئی ہیں۔مزید یہ کہ ساس سے بات نہ ہوپائی سائلہ کے مطابق وہ کشمیر میں رہتی ہیں اور ان کے پاس فون بھی نہیں۔

    سائلہ:سعدیہ صداقت


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    طلاق کے وقوع کے لیے اصولی طور پر ضروری ہے کہ یا تو شوہر خود طلاق دینے کا اقرار کرے، یا پھر اس کے طلاق دینے پر کوئی معتبر ثبوت موجود ہو۔ مثلاً: ایسا تحریری طلاق نامہ جس پر شوہر کے دستخط ہوں، یا ایسے معتبر گواہ موجود ہوں جن کے سامنے شوہر نے طلاق دی ہو۔ ان صورتوں میں طلاق واقع سمجھی جاتی ہے۔اگر مدعی کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی اور دعویٰ کو رد کردیا جائے گا۔ محض کسی کے دعویٰ کرنے سے طلاق کا حکم ثابت نہیں ہوسکتا، جب تک کہ دعوے کے ثبوت میں شرعی شہادت (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں) یا شوہر کے دستخط شدہ طلاق نامہ پیش نہ کیا جائے یا شوہر کی طرف سے طلاق کا اقرار نہ پایا جائے۔

    لہذا صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ ساس کے پاس اپنے دعویٰ کے حق میں کوئی گواہ موجود نہیں اور نہ ہی شوہر کے دستخط والا طلاق نامہ موجود ہے، اور اس صورت میں شوہر سے منکر ہونے کی حیثیت سے قسم لی گئی ہے لھذا نکاح باقی ہے، کیونکہ نکاح اپنی اصل پر باقی رہتا ہے جب تک کہ طلاق شرعی طریقے سے ثابت نہ ہو جائے۔

    دلائل و جزئیات:

    مدعی کے ذمہ دلیل اور مدعی علیہ پر قسم ہوتی ہے، جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے:عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّﷺ قَالَ: «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. ترجمہ:حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"دعویٰ کرنے والے پر دلیل (گواہی) دینا لازم ہے، اور جس پر دعویٰ کیا گیاہے اُس پر قسم ہے.(مشکاۃ المصابیح:کتاب الامارۃ والقضاء،باب الاقضیۃ والشھادۃ۔حدیث:3769)

    ثبوتِ طلاق کے لیے شوہر کا اقرار یا گواہ ضروری ہیں ، طلاق کے ثبوت کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے، جیسا کہ "الكافي شرح البزودي" میں ہے: وأبو حنيفة يقول: شرط الطلاق إذا كان لا يثبت إلا بالشهادة فلابد فيه من شهادة رجلين وامرأتين كسائر الشروط، وهذا لأن شرط الطلاق كنفس الطلاق، وتأثيره أن شهادة المرأة الواحدة ليست بحجة أصلية، و إنما يكتفي بها فيما لا يطلع عليه الرجال لأجل الضرورة، ترجمہ:امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:طلاق کے ثبوت کے لیے شرط یہ ہے کہ جب وہ محض گواہی سے ثابت ہو، تو اس میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے، جیسے دیگر شرائط میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلاق کی شرط طلاق ہی کی مانند ہے۔ اس کا اثر یہ ہے کہ محض ایک عورت کی گواہی شرعاً اصل حجت نہیں ہے، بلکہ عورت کی گواہی صرف ان معاملات میں کافی سمجھی گئی ہے جن پر مرد مطلع نہیں ہو سکتےضرورت کیوجہ سے ۔(الکافی شرح اصول البزدوی:الفصل الثانی وھو الممانعۃ،باب تقسیم الشرط،جلد:5ص:2110 مكتبة الرشد)

    شرعی طور پر اگر کوئی طلاق کا دعویٰ کرے تو اس پر گواہ ضروری ہیں یا اگر طلاق تحریرا دی ہے تو تحریری ثبوت (شوہر کا دستخط شدہ طلاق نامہ)پیش کرنا لازم ہے۔ اگر گواہ نہیں یا ثبوت نہیں تو دعویٰ کو رد کیا جائے گااس بارے میں شرح ادب القاضی میں ہے :وأما الفصل الثاني، فلو ادعى المدعي انها أمته، او ادعت الامة الحرية، او المرأة الطلاق، وليس لواحدة منهما بينة، وسأل القاضي الحيلولة الی ان يحضر شهوده فان القاضي لا يلتفت الى ذلك.لان مجرد الدعوى ليس سبب الاستحقاق في حق المدعي عليه بالحديث؛ الا ترى ان القاضي لو قضى عليه بمجرد الدعوى لا يجوز، فلا تجب به الحيلولة.[٧٠٥]واما الفصل الثالث: فإذا ادعى المدعى كما وصفنا، وأقام على ذلك شاهدا واحدا، هل يحول القاضي بينه وبين ذي اليد؟ فهذا على وجهين:اما ان قال: لي شاهد آخر في المصر آتي به في المجلس الثاني ترجمہ: اور رہی دوسری فصل:اگر مدعی یہ دعویٰ کرے کہ یہ میری لونڈی ہے، یا لونڈی آزادی کا دعویٰ کرے، یا عورت طلاق کا دعویٰ کرے، اور ان میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ ہو، اور وہ قاضی سے یہ درخواست کرے کہ گواہوں کے حاضر ہونے تک اسے (مدعی علیہ سے) روک دے، تو قاضی اس درخواست پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اس لیے کہ محض دعویٰ کرنا مدعی علیہ کے خلاف استحقاق کا سبب نہیں بنتا، حدیث کی بنا پر۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر قاضی صرف دعویٰ کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرے تو وہ جائز نہیں، پس محض دعویٰ کی وجہ سے روک دینا بھی واجب نہیں ہوتا۔ اور رہی تیسری فصل:اگر مدعی ویسا ہی دعویٰ کرے جیسا ہم نے ذکر کیا، اور اس پر ایک گواہ پیش کرے، تو کیا قاضی اسے (مدعی علیہ اور جس کے ہاتھ میں چیز ہے اس) کے درمیان روک دے گا؟ اس بارے میں دو صورتیں ہیں:اوّل یہ کہ وہ کہے: میرا دوسرا گواہ بھی اسی شہر میں ہے، میں اسے دوسری مجلس میں لے آؤں گا۔(شرح ادب القاضی للخصاف،الباب الخامسون فی ما ینبغی للقاضی ،جلد:3ص:198 مکتبہ مطبعۃ الارشاد بغداد)

    اگر عورت بھی اپنے شوہر پر طلاق کا دعوی کرے لیکن اس کے پاس گواہ نہ ہوتو اس کا بھی قول رد کیا جاتاہے، کیونکہ کسی بھی چیز میں اصل باقی رہنا جب تک کہ خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہو :جیساکہ غمز عیون البصائر میں مذکور ہے۔ الْأَصْلُ بَقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ؛ لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الْأَشْيَاءِ الْبَقَاءُ، وَالْعَدَمُ طَارِئٌ. ترجمہ: "اصل یہ ہے کہ جو چیز پہلے سے موجود ہو وہ اسی پر باقی رہے، کیونکہ اصل میں چیزوں کے باقی رہنے ہی کا حکم ہے، عدم تو ایک طارئ (عارضی) چیز ہے۔" (غمز عیون البصائر:قاعدہ:الاصل بقاء ماکان علی مان کان،جلد:1ص:191 مکتبہ دار الکتب العلمیہ)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:1447ھ/13 اگسٹ 2025ء