pakistan se jo shakhs taif ja raha ho us ke liye ihram
سوال
پاکستان کراچی سے جو شخص طائف جا رہا ہو کیا اس پر کراچی یا جہاز میں جیسے احرام باندھتے ہیں وہ ضروری ہو گا یا وہ طائف سے احرام باندھ سکتا ہے ؟
سائل:مدنی رضا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پاکستان سے دوران پرواز ایئر لائن میں احرام باندھناضروری نہیں ، طائف سے بھی احرام باندھ سکتے ہیں ۔
تفصیلی حکم :
آفاقی شخص جب حرم ِمقدس کی جانب جائے اور اس کا سفر اس ترتیب سے ہو کہ اسے ایک سے زائد میقاتوں سے ہو کر گزرنا ہے تو اس کے لیے پہلے میقات سے احرام باندھنا افضل ہے۔البتہ اگر وہ آخری میقات سے احرام باندھ لے تو باتفاق ائمہ اس میں حرج نہیں بلکہ لوگوں کی عادات و کیفیات کو دیکھتے ہوئے عوام الناس کے لیے صورت دوم ہی موزوں ہے ۔
مناسک ملا علی قاری میں ہے:(فمن سلک غير ميقات) أى طريقا ليس فيه ميقات معين (برا أو بحرا اجتهد و أحرم إذا حاذى متقاتا منها )أى من المواقيت المعروفة (و من حذو الأبعد أولى) فإن الافضل أن يحرم من أول الميقات وهو الطرف الأبعد من مكة حتى لا يمر بشي ممايسمى ميقاتا غير محرم ، ولو أحرم من الطرف الأقرب إلى مكة جاز بإتفاق الأربعة.ترجمہ: “پس جو شخص کسی ایسے راستے پر چلے جس میں کوئی معین میقات نہ ہو، خواہ وہ خشکی کے راستے سے ہو یا سمندر کے راستے سے، تو وہ اجتہاد کرے اور جب ان معروف میقاتوں میں سے کسی کے مقابل (برابر) آئے تو احرام باندھ لے۔ اور دور والے کے مقابل سے احرام باندھنا زیادہ بہتر ہے؛ کیونکہ افضل یہ ہے کہ سب سے پہلے میقات سے احرام باندھا جائے، اور یہ مکہ سے دور والا کنارہ ہے، تاکہ آدمی کسی ایسی جگہ سے بغیر احرام کے نہ گزرے جسے میقات کہا جاتا ہو۔
البتہ اگر مکہ کے قریب والے کنارے سے احرام باندھ لے تو بھی چاروں ائمہ کے اتفاق سے جائز ہے۔(مناسك ملا على قارى،صفحہ:81،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ،کراچی) ۔
واللہ اعلم بالصواب