وراثت میں حصہ نہ دینا کیسا

    warasat me hissa na dena kaisa

    تاریخ: 20 مئی، 2026
    مشاہدات: 30
    حوالہ: 1389

    سوال

    جناب مولانا صاحب السلام علیکم

    گزارش ہے کہ میں انتہائی مجبوری کی حالت میں فتویٰ لے رہا ہوں میری دوسری ماں سے میرے بھائیوں نے والد صاحب کو چار سال پہلے مرحوم لکھوا کر1990میں شاہ فیصل میں جائیداد اپنے اور اپنی ماں کے نام کردی۔جبکہ والد صاحب 1994تک زندہ رہے،اور میرے ایک سگے بھائی اشفاق احمد کے بیٹوں نے بھی ایک دوسری جگہ ڈالمیا میں جو جائیداد تھی اس میں ایسا کیا کہ میرے والد یعنی اپنے دادا کو 1987میں مرحوم لکھوا کر ڈالمیا کی جائیدادمیرے سگے بڑے بھائی اور انکے والد اشفاق کے نام کروا لی۔جبکہ میرے والد اور ان کے دادا 1994تک زندہ رہے۔میری عمر 68 سال ہے ،شگر انسولین کا مریض ہوں، کمر کا آپریشن بھی ہوچکا ہے،بینائی چلی گئی تھی دوبارہ آپریشن سے کچھ بحال ہوئی ہے،بائی پا س ہوچکا ہے، دوبارہ ہونا ہے۔دوسری بھی جسمانی تکلیف ہیں، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ سے ماہانہ راشن اور چار ہزار مکان کا کرایہ ملتا ہے جبکہ مکان کا کرایہ 6500 ہے۔ مقروض ہورہا ہوں۔ میرا بیٹا 8سال اور بیٹی 13سال کی ہے جو اسکول جانے سے قاصر ہے ، ٹیوشن اور مدرسہ پڑھتے ہیں ،انتہائی اذیت میں زندگی گزار رہا ہوں، بھائی آسرا دیتے رہتے ہیں ، یہ کام انہوں نے میری پاکستان سے عدم موجودگی میں کیے جبکہ میں ان کے لیے انکی ترقی میں مخلص رہا بھائیوں کے آسرے نیچے فائل میں تحریری موجود ہیں،تھوڑی سی زحمت ہوگی ضرور نظر ثانی کرلیں۔ میرے التجائی خطوط جو میں نے بھائیوں کو بھیجے وہ بھی موجود ہیں، ان کاغذوں کی روشنی میں مجھے فتوی درکار ہے ۔کہ میرا کتنا حصہ ہے جو مجھے ملنا چاہیے۔

    ورثاء کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    محمد ابراہیم (1994) والد جن کانتقال ہوا۔

    میری سگی والدہ کا والد سے بہت پہلے انتقال ہوگیا تھا۔

    میری سگی والدہ سے اولاد

    میں (علی حسن) اشفاق،اور ایک بہن رئیسہ بیگم

    دوسری والدہ سے والد کی اولاد اور زوجہ

    زوجہ (محفوظن) ،( 5بیٹے)رحیم الدین ،کریم الدین، محمد ارشد ، ادریس،ظہیر(ایک بیٹی)خیر النساء

    پھر والد کے انتقال کے بعد 2014میں میرے بڑے سگے بھائی اشفاق کا انتقال ہوگیا،انکے ورثاء میں

    زوجہ(رمضانو بیگم) (تین بیٹے) مشتاق،محسن،مصطفیٰ(دو بیٹیاں) بلقیس اور ثریا

    ان کے بعد دوسری والدہ کی اولاد میں سے رحیم الدین کا انتقال ہوگیاان کے ورثاء درج ذیل ہیں

    زوجہ (زیب النساء) چار بیٹے (فھیم الدین، ندیم،سمیع،عارف)تین بیٹیاں (ارم ، نصرت،یسریٰ)

    سائل: علی حسن ولد محمد ابراہیم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو شریعت کے اعتبار سے وراثت میں سے کسی کو حصہ نہ دینا گناہ کبیرہ اور ظلم ہے اور آپ کے تمام بھائیوں پر واجب ہے کہ آپکو اور آپ کے علاوہ جس جس وارث کو حصہ نہیں دیا انکو انکا حصہ دیں ۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وراثت کے مستحق لوگوں کو انکا حصہ نہیں دیاجاتا ،ایسے کرنا کفار کا طریقہ ہے۔

    قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ ( سورۃ الفجر آیت ١٧تا ٢٥):ترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔

    آپ تمام بھائیوں نے اگر وراثت میں سے آپکو اور آپکے علاوہ اگر کوئی اور ہے تو انکو اگر انکا مقررہ حصہ نہیں دیا تو یہ کسی مسلمان کا حصہ غصب کرنے کے زمرے میں آئے گا ،اور احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں ۔

    بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198:فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ:ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔

    بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»:ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین ) کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔

    اور مورث کی وفات سے پہلے اسکی موت ظاہر کرکے وراثت اپنے نام کرلینا اس پر مزید ظلم اور دھوکہ ہے اور یہ خود کئی گناہوں کا مجموعہ ہے ،سب سے پہلے اس میں جھوٹ بولا گیا جو بدترین گناہوں میں سے ہے ۔

    قر آن مجید و احادیث میں متعدد مقامات پر جھوٹ کی مذمت بیان کی گئی ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہےـإِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْكَاذِبُون (النحل آیت 105):ترجمہ : ”جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں۔.“

    دوسرے مقام پر ارشاد ہے:فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ( الحج آیتت30) :ترجمہ : ”تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔“

    اسی طرح احادیث میں بھی بکثرت اسکی مذمت کی گئی ہے بخاری شریف بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} جلد 8 ص 25میں ہے۔

    عن عبد الله رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ‏‏‏‏ ”إن الصدق يهدي إلى البر وإن البر يهدي إلى الجنة وإن الرجل ليصدق حتى يكون صديقا وإن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا.:ترجمہ : ”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔“

    اسی میں اگلی حدیث میں ہے:عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ‏‏‏‏ ”آية المنافق ثلاث : ‏‏‏‏ إذا حدث كذب وإذا وعد اخلف وإذا اؤتمن خان۔:ترجمہ : ”ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“

    مسلم شریف بَابُ قوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا میں ہے کہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایامَن حَمَلَ عَلِینَا السِّلَاحَ فَلیسَ مِنَّا،و مَن غَشّنَا فَلیسَ مِنَّا :ترجمہ:جِس نے ہم پر ہتھیار اُٹھایا وہ ہم میں سے نہیں،اور جِس نے ہمارے ساتھ دھوکہ بازی کی وہ ہم میں سے نہیں۔

    بہر حال آپ کے والد نے جو کچھ بھی وراثت میں چھوڑا جس پر ابھی آپ کے بھائی یا بھتیجے قابض ہیں ، ان پر لازم ہے کہ وہ تمام وراثت واپس لوٹائیں اورشریعت کے مقرر کردہ اصولوں کے تحت تمام کے تمام ورثاء میں اسکی تقسیم کاری کریں ، تمام ورثاء میں اسکی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل جائیداد کے180224 حصے کیے جائیں گے جس میں سے میت کی زرجہ محفوظن کو 22528دئے جائیں گے اور میت کے جو بیٹے ہیں یعنی علی حسن، اشفاق،کریم الدین ،رحیم الدین، ارشد، ادریس اور ظہیر میں سے ہر ایک کو 19712حصے دئیے جائیں گے، اور میت کی بیٹیوں کو یعنی رئیسہ اور خیر النساء میں سے ہر ایک کو 9856حصے دئیے جائیں گے۔اور اشفاق احمد کو جو انکے والد سے کی وراثت سے ملا وہ اسکے ورثاء میں تقسیم ہوگا اس طرح کہ انکے حصے کی جائیداد میں سے انکی زوجہ رمضانو بیگم کو 2464 حصے دئیے جائیں گے، اور اشفاق صاحب کے بیٹوں یعنی مشتاق،محسن،مصطفیٰ میں سے ہر ایک کو4312 حصے جبکہ بیٹیوں یعنی بلقیس ،ثریا میں سے ہر ایک کو 2156 حصے دئیے جائیں گے،اور رحیم الدین صاحب کی وراثت انکے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ انکی زوجہ زیب النساء کو 2464حصے ملیں گے اور بیٹوں یعنی فہیم ،ندیم،سمیع،اور عارف میں سے ہر ایک کو3136 حصے ملیں گے اور بیٹیوں یعنی ارم، نصرت،یسریٰ میں سے ہر ایک کو 1568 حصے ملیں گے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی