وراثت و انوسمنٹ کا مسئلہ

    warasat o investment ka masla

    تاریخ: 20 مئی، 2026
    مشاہدات: 29
    حوالہ: 1391

    سوال

    عبدالقادر نے اپنی جائیداد میں (چار ایکڑ، دوکنال زمین ، دس ہزار پاؤنڈز، 30 لاکھ پاکستانی روپے )چھوڑے۔ ورثاء میں فقط ایک بیٹی دو بھائی اور ایک بہن شامل ہے ۔ بیٹی سے اختلافات کے سبب انکا کہنا تھاکہ وہ وراثت سے کچھ حصہ نہ پائے بلکہ اُنکا سارا مال والدین کے ایصالِ ثواب کے لئے فلاح و بہبود کے کام میں استعمال کیا جائے۔ ان کے وصال پر بینک میں موجود دس ہزار پاؤنڈز انکی بیٹی کے حوالے کردیئے گئے، چار ایکڑ، دوکنال زمین انکی حیاتی سے ہی انکے بھائی کے زیرِ استعمال ہے ، جبکہ 30 لاکھ روپے انکے بھانجے نے خرچ کردیئے ۔ سوال یہ ہے کہ سارے ترکے کی شرعی اصول و قوانین کے مطابق تقسیم کاری کیسے ہوگی؟ نیز جو رقم بھانجے سے خرچ ہوئی اس کا گناہ ان پر ہوگا؟ اگر ہاں تو اسکے ازالے کا کیا طریقہ ہے؟ عبدالقادر (مرحوم)کا اپنے بھانجے کے ساتھ انوسمنٹ کا سلسلہ جاری رہتا تھا اور انکی یہ خواہش تھی کہ انکے وصال کے بعد بھی انکا یہ سلسلہ چلتا رہے اور جو بھی منافع ہو وہ انکے والدین کے ایصالِ ثواب کےلئے فلاح و بہبود کے کام میں استعمال کیا جائے، کیا انکی اس خواہش کو پورا کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

    سائل: عمران جنجوعہ : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہاں چار چیزیں ہیں:

    1: مالِ وراثت کی تقسیم۔

    2: بیٹی کو وراثت سے بالکلیہ محروم کرنا۔

    3: زمین کا بھائی کے زیرِ استعمال ہونا اور بھانجے کا پیسے خرچ کردینا۔

    4: مالِ وراثت بطورِ انوسمنٹ خرچ کرکے نفع مرحوم کے والدین کو ایصالِ ثواب کرنا۔

    ہر ایک کا حکم علی الترتیب درج ذیل ہے:

    1: مالِ وراثت کی تقسیم:

    مرحوم کے کل مالِ وراثت(چار ایکڑ، دوکنال زمین ، دس ہزار پاؤنڈز، 30 لاکھ پاکستانی روپے ) کو تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ جسکی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے 10 حصے کئے جائیں گے جس میں سے بیٹی کے 5 حصے ، ہر بھائی کے الگ الگ 2 حصے اور بہن کا 1 حصہ ہوگا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:اگر بیٹی صرف ایک ہو تو اس کے بارے میں ارشاد ہے: وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ کنز الایمان :اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    2: بیٹی کو وراثت سے بالکلیہ محروم کرنا۔

    کسی بھی وارث کو جائیداد سے محروم کرنا عاق کہلاتا ہے۔جائیداد سے عاق کرنا (بے دخل)شرعا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔جائیداد و وراثت میں ہر وارث کا حق خو د اللہ کریم نے ثابت فرمایا ہے تو بندہ کی کیا مجال کہ اللہ تعالٰی کے ثابت و مقرر کردہ حق کو اپنی رائے و اختیار سے ساقط کردے۔ لہذا بلاشبہ اس وراثت میں بیٹی کا بھی اسی طرح حصہ ہوگا جیساکہ مرحوم کے دیگر ورثاء کا ہے۔

    عاق کرنے کے حوالے سے سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں: عاق کردینا کوئی شے نہیں۔(فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 615)

    ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: عاق کردینا شرعا کوئی چیز نہیں، نہ اس سے ولایت زائل ہو۔(فتاویٰ رضویہ جلد 11 ص 648)

    3: زمین کا بھائی کے زیرِ استعمال ہونا اور بھانجے کا پیسے خرچ کردینا۔

    بھائی کا مذکورہ زمین اپنے استعمال میں لانا اور اسکے منافع حاصل کرنا ،اگر دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر ہے تو شرعاً ناجائز وگناہ اور غصب کے حکم میں ہے اس پر لازم ہے فوراً اسکا تخلیہ کرکے تما م ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کریں۔ نیز بعد از انتقالِ مُورِث اس زمین سے جو چھ نفع حاصل کیا وہ چونکہ مشترکہ زمین سے بغیراجازتِ دیگر ورثاء حاصل کیا ، لہذا اس بھائی کے حصے کے بدلے جتنانفع آئے وہ اس کے لیے جائزہے اور دوسروں کے حصے کانفع اس کے حق میں ملکخبیث یعنی ناپاک و حرام ہے ،جس کاحکم یہ ہے کہ یاتویہ فقیرِ شرعی پر بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دیں یاپھرورثاء کودے دیںاورورثاء کودیناافضل ہے۔

    مالِ مغصوبہ سے حاصل شدہ نفع اصل مالک کانہیں ہوتا، بلکہ غاصب کاہی ہوتاہے۔جیساکہ رد المحتار میں ہے:أن الغلة للغاصب عندنا،لأن المنافع لاتتقوم إلابالعقدوالعاقدهوالغاصب فكان هو أولى ببدلها،ويؤمر أن يتصدق بهالاستفادتها ببدل خبيث وهو التصرف في مال الغير۔ترجمہ:(غصب کی ہوئی چیز سے حاصل شدہ ) نفع ہمارے نزدیک غاصب کا ہی ہوگا،کیونکہ منافع عقدکے ساتھ ہی قائم ہوتے ہیں اورعاقدیعنی عقدکرنے والا(یہاں)وہی غاصب ہے…تواس کے بدل کازیادہ حقداربھی وہی ہوگا،(ہاں)اسے وہ نفع صدقہ کرنے کا حکم دیاجائے گا،اس لیے کہ وہ اس کوخبیث بدل کے ذریعے حاصل ہواہے اوروہ(خبیث بدل)غیرکے مال میں تصرف کرناہے۔(رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الغصب ، جلد 9 ، صفحہ 317 ، مطبوعہ کوئٹہ )

    سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ایک مقام پرمشترکہ مال سے اجازت کے بغیرملنے والے نفع کے بارے میں حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:جبکہ نہ ان لڑکیوں نے اپناحصہ مانگانہ لڑکوں نے دیااوربطورخوداس میں تجارت کرتے رہے تووہ چاروں لڑکیاں اصل متروکہ میں اپناحصہ طلب کرسکتی ہیں،تجارت سے جونفع ہوا ، وہ لڑکیاں اس کی مالک نہیں، ہاں ان کے حصہ پرجونفع ہوا ، لڑکوں کے لئے ملک خبیث ہے ۔ لڑکوں کوجائزنہیں کہ اسے اپنے تصرف میں لائیں، ان پرواجب ہے کہ یاتووہ نفع فقراء مسلمین پرتصدق کریں یاچاروں لڑکیوں کو دے دیں اوریہی بوجوہ افضل واولیٰ ہے اوران لڑکیوں کے لئے حلال طیب ہے کہ انہیں کی ملک کانفع ہے جبکہ لڑکوں پرشرعاً حرام ہے کہ ان لڑکیوں کے حصہ کانفع اپنے صرف میں لائیں تولڑکیوں ہی کوکیوں نہ دیں کہ ان کی دلجوئی ہو ، صلہ رحم ہو ، صاحب حق کی ملک کانفع اسی کوپہنچے۔(فتاویٰ رضویہ ، جلد 26 ، صفحہ 373 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )

    یونہی بھانجے کا اپنی مرضی سے پیسے خرچ کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے اس پر بھی لازم کہ یہ رقم ورثاء کو لوٹائے ۔

    4: مالِ وراثت بطورِ انوسمنٹ خرچ کرکے نفع مرحوم کےوالدین کو ایصالِ ثواب کرنا۔

    مرحوم کی مذکورہ خواہش شرعاً قابلِ عمل نہیں ہے کیونکہ کسی بھی شخص کے انتقال کے بعد اسکے مال سے میت کے صرف چار حق متعلق ہوتے ہیں ۔

    1: اسکے مال سے تجہیز و تکفینکا اہتمام کیا جائے گا۔

    2: پھر اگر میت پر کوئی قرض ہو تو اسکے مال کی قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔

    3: اگر میت نے کوئی وصیت کی ہوتو کل مال کے ایک ثلث سے وصیت کا نفاذ کیا جائے گا۔

    4: اسکے بعد بچ جانے والی رقم تما م ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے۔

    جیساکہ السراجی فی المیراث میں ہے:"تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ "ترجمہ:میت کےترکہ کےساتھ ترتیب وارچارحقوق متعلق ہوتے ہیں :مناسب تجہیزوتکفین سےابتداکی جائےگی،پھربقیہ مال سےاسکےقرضےاداکئےجائیں گے،قرضوں کی ادائیگی کےبعدمابقی کےثلث سےوصیت نافذ کی جائے گی،پھر باقی ترکہ ورثاءکےدرمیان تقسیم کیاجائےگا۔(السراجی فی المیراث :ص5،مکتبہ لدھیانوی )

    جبکہ میت کا مال بطورِ انوسمنٹ خرچ کرکے نفع مرحوم کےوالدین کو ایصالِ ثواب کرناان چاروں میں سے کسی میں بھی داخل نہیں ہے ، لہذا امورِ متقدمہ علی الارث (کفن دفن،قرض، وصیت )کے بعد انوسمنٹ کا پیسہ بھی تمام ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:3 رمضان المبارک 1444 ھ/25 مارچ 2023 ء