وراثت میں بہنوں کا حصہ اور تقسیم

    warasat me behnon ka hissa aur taqseem

    تاریخ: 20 مئی، 2026
    مشاہدات: 26
    حوالہ: 1388

    سوال

    ہمارے نانا نے اپنی طرف سے والدہ کو ایک مکان خرید کر دیا ۔ جوکہ 200 گز کا تھا ، والد اور والدہ دونوں کا انتقال ہوچکاہے پہلے والد صاحب کا انتقال ہوا اسکے بعد والدہ کا۔ والدہ کے انتقال کے بعد چھوٹے بھائی نے اس مکان میں سے 100 گز کا حصہ 5 لاکھ میں بیچ دیا اور دوسری جگہ ساڑھے چار لاکھ کا مکان لے لیا 50 ہزار بھی خود ہی خرچ کردیئے ۔کسی کو کچھ حصہ نہیں دیا ۔ اور دوسرا 100 گز کا حصہ بڑے بھائی کے پاس ہے۔ ہم پانچ بہنیں ہیں ۔جب بھی ان سے حصہ کا تقاضا کریں یا تو صاف انکار کردیتے ہیں یا پھر کہتے ہیں جب بکے گا دے دیں گے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس مکان میں ہم بہنوں کا کتنا حصہ ہے؟ کیا ہم اس مکان میں دعوٰی کرسکتے ہیں ؟ کیا ماں کی جائیداد میں بیٹیوں کا حصہ نہیں ہوتا؟ شرعی رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم اپنا حصہ پاسکیں اور اپنا مکان لے سکیں کیونکہ ہم سب بہنیں کرائے پر رہتی ہیں ۔

    سائلہ:عقیلہ: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وراثت میں سے کسی کو حصہ نہ دینا گناہ کبیرہ اور ظلم ہے، آپ کے دونوں بھائیوں پر واجب ہے کہ آپکو اور آپ کے علاوہ جس جس وارث کو حصہ نہیں دیا انکو انکا حصہ دیں ۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وراثت کے مستحق لوگوں کو انکا حصہ نہیں دیاجاتا ،بالخصوص بہنوں کا حصہ دبا لیا جاتا ہے، جو کہ شرع شریف کے نزدیک سخت گناہ اور ایساکرنا کفار کا طریقہ ہے قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔ ( سورۃ الفجر آیت 17تا 25)

    آپ تمام بھائیوں نے اگر وراثت میں اپنی بہنوں کوانکا مقررہ حصہ نہیں دیا تو یہ کسی مسلمان کا حصہ غصب کرنے کے زمرے میں آئے گا ، اور احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں ،بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ :ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو

    سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)

    بخاری میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین )کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130)

    لہذا 100 گز کا جو گھر ابھی بڑے بھائی کے پاس ہے اور چھوٹے بھائی نے 100 گز کا حصہ بیچ کرجو دوسرا گھر لیا دونوں کی مارکیٹ ویلیو لگوالیں۔ اسکے علاوہ چھوٹے بھائی کے پاس پہلا گھر بیچ کر اسی پیسے سے دوسرا گھر خریدنے کے بعدجو رقم بچ گئی وہ بھی ملا لیں ۔جو رقم بنے اس تمام رقم کو 14 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں ہر بھائی کو دو حصے ،اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29جمادی الثانی 1441 ھ/23فروری0 202 ء