warasat me hissay ka taqaza
سوال
میری شادی کو 15 سال ہوگئے چار بچے ہیں ،ہم پہلے اپنے سسر کے گھر میں رہتے تھے ،اب کرائے پر رہ رہے ہیں سسر اور ساس دونوں کا انتقال ہوگیا ہے ،کیا اسلام کی رو سے ہم(میں اور شوہر) سسر کے مکان میں حصے کا تقاضا کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ اسلام کی رو سے کیا حکم ہے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور ہم سکون کی زندگی گزار سکیں ۔
سائل: حنا پروین: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرعی اعتبار سے سسر کے مکان میں آپکا حصہ نہیں بنتا البتہ آپکے شوہر کا حصہ بنتا ہے اوراُ نہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حصے کا مطالبہ کریں،اس کا انہیں کوئی گناہ نہ ہوگا ۔کیونکہ والد کی وفات کے بعد والد کی وراثت میں اولاد(جو انکی وفات کے وقت حیات ہو) کی ملکیت خود بخود ثابت ہوجاتی ہے۔ اسکی تفصیل یہ ہے کہ ملکیت کا ثبوت دو طریقوں سے ہوتا ہے ایک اختیاری یعنی جس میں بندہ اپنے اختیار اور اپنے فعل کے ذریعے کسی چیز کا مالک بنتا ہے۔جیسے بیع(خرید وفروخت)ھبہ (گفٹ) ۔دوسرااضطراری یعنی جس میں انسان اپنے فعل اور اختیار کے بغیر کسی چیز کا مالک بنتا ہے جیسےوصیت اوروراثت کےذریعے،البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:وجوه سبب الملك من قبول الهبة والوصية والإرث والشراء۔ترجمہ: ملکیت کے اسباب ،ھبہ اور وصیت قبول کرنااور خریدنا ،اور وراثت ہیں۔( البنایہ شرح الہدایہ جلد 8ص216 الشاملہ)
البتہ اگر آپکے شوہر کے بھائی وغیرہ انہیں حصہ نہ دیں تو وہ سخت گنہ گار ہونگے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی