وراثت و زکوۃ کےحوالے سے سوال

    warasat o zakat ke hawalay se sawal

    تاریخ: 20 مئی، 2026
    مشاہدات: 20
    حوالہ: 1392

    سوال

    1: میری چھ بیٹیاں ہیں اگر میں زندگی میں ہی اپنے مال کی تقسیم کرنا چاہوں تو کیسے ہوگی؟ نیز اگر میری اور میری زوجہ کی وفات ہوجائے تو کیسے تقسیم ہوگی ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    2: میرا پرائز بانڈر کا کاروبار ہے جسکی ورتھ 30 لاکھ ہے اور سالانہ نفع 6 لاکھ ہے اب زکوۃ 30 لاکھ پر ہوگی یا 36 لاکھ پر؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: عبدالجبار کپاڈیا : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: اگر اپنی رضا و خوشی سے زندگی میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ کل رقم میں سے پہلے اپنے اور اپنی زوجہ کے لئے جتنا چاہیں رکھ لیں اور مابقی دونوں بچوں کے مابین برابری کی بنیاد پرتقسیم کردیں کیونکہ کہ یہ تقسیم از قبیل ِوراثت نہیں بلکہ ھبہ کے طور پر ہوگی، کیوں کہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔ اور ھبہ میں تمام اولاد خواہ مذکر ہو یا مؤنث کے مابین برابری ضروی ہے۔

    ہاں ۔۔۔! اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرےکے مقابلے میں زیادہ دیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسرے کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گزار ہے ،یا دوسری کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔

    صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔ آپ ﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لے لے۔(بخاری، باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)

    ھبہ میں اولاد کو ایک دوسرے پر فضیلت کے حوالے سے بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)

    بعد از وفات اس وقت موجود ورثاء کے اعتبار سے تقسیم کی جائےگی۔

    2: جس دن سال مکمل ہوا اس دن پرائز ز بانڈ کی ویلیو اور وہ نفع جو موجود ہو دونوں پر زکوۃ لازم ہوگی۔ اگر نفع ماہ بماہ خرچ ہوجاتا ہو تو اس پر زکوۃ نہیں ہے کہ یہ ضروت و حاجت میں داخل ہے۔

    الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے: وإن كان عنده نصاب فاستفاد في خلال الحول مالا من جنس ما عنده، فإن كان المستفاد من نماء ما عنده كربح التجارة، ونتاج السائمة فإنه يضم في الحول إلى ما عنده من أصله، فيزكى بحول الأصل باتفاق الفقهاء، لأنه متولد من ماله فيتبعه في الحول، ولأنه ملك بملك الأصل وتولد منه فيتبعه في الحول۔ ترجمہ:اگر اسکے پاس نصاب ہو پھر درمیان سال میں اسی کی جنس سےاس مال کے سبب اضافہ ہوجائے جو اسکے پاس موجود ہے تو اگر مستفاد اس مال کا اضافہ ہوجو اسکے پاس موجود ہے جیساکہ تجارت کا نفع اور سائمہ جانوروں کے بچے تواسی سال میں اسکو اصل کے ساتھ ملایا جائے گا، تو فقہاء کے اتفاق سے اصل کے سال کے اعتبار سے زکوۃ دے گا۔ کیونکہ یہ اسی مال سے پیدا شدہ ہے اور سال میں اسی کے تابع ہوگا اور اس لئے کہ اصل کی ملکیت کی وجہ سے مالک ہوا ہے اور اسی سے پیدا شدہ ہے تو سال میں اسی کے تابع ہوگا۔ (الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ، جلد 18 ص 253، دار السلاسل)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:28 شوال المکرم 1445ھ/ 07 مئی 2024 ء