warasat o qarz ka masla
سوال
ہماری والدہ نے 2007 میں ہمارے داد( نور محمد)سے ایک لاکھ روپے قرض لیا تھا۔ 5 ربیع الاول کو ہماری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اب ہم یہ قرض ادا کرنا چاہ رہے ہیں دادا کے دو بیٹے(رئیس احمد ، شفیق احمد) اور ایک بیٹی (نسرین)ہے دونوں بیٹیوں کا دادا سے پہلے ہوگیا بعد ازاں 2010 میں دادا کا انتقال ہوا اس وقت دادی موجود تھی 2014 میں انکا بھی انتقال ہوگیا۔ اس وقت صرف انکی بیٹی زندہ ہے ۔ ہم یہ قرض کس کو دیں اور کس حساب سے دیں۔ بیٹوں میں سے رئیس احمد کے پانچ بیٹے (عظیم،فہیم، عدیل، راحیل ، ندیم) جبکہ دوبیٹیاں (یاسمین، سمیرا)ہیں ، شفیق احمد کے بھی پانچ بیٹے (صادق، احسن ، مبین، شہروز، حمزہ) جبکہ چار بیٹیاں (روحی، خالدہ، حرا ، مریم) ہیں۔
سائل: فہیم : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
دادا سے لئے گئے قرض کی ادائیگی واجب ہے، بایں طور کہ قرض کی تمام رقم ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جائے گی، ورثاء کے نام اور انکے حصے درج ذیل ہیں:
کل حصے : 52
نسرین:26 ، عظیم:2، فہیم:2، عدیل:2، راحیل:2 ، ندیم:2 ، صادق:2، احسن:2 ، مبین:2، شہروز:2، حمزہ:2، روحی:1، خالدہ:1، حرا:1، مریم:1یاسمین:1، سمیرا:1
اگر ورثاء میں ایک بیٹی ہو تو اس کے بارے میں ارشاد ہے: وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ کنز الایمان :اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)
بیٹوں کی عدم موجودگی میں پوتے حصہ پاتے ہیں، جیساکہالسراجی فی المیراث ص36میں ہے:اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وان سفلوا۔ترجمہ: میت کی وراثت کے زےادہ حقدار میت کا جزء ےعنی بیٹے ہیں ،(اگر بیٹے نہ ہوں تو)اسکے بعد پوتے ۔ (السراجی فی المیراث ص36)
یونہی تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774پر ہے :(وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیبِ فَیُقَدَّمُ جُزْء ُ الْمَیِّتِ (کَالِابْنِ ثُمَّ ابْنِہِ وَإِنْ سَفَلَ۔ ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ،اسی ترتیب سے آگے تک لہذا میت کے جزء یعنی بیٹے کووراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا ۔ (اگر بیٹا نہ ہوتو)پھر اسکے بیٹے(یعنی پوتے )کو وراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا۔
پوتے کے ساتھ پوتیاں ہوں تو ایک پوتے کا حصہ دو پوتیوں کے برابر ہوگا جیساکہ ارشادِ باری تعالٰی ہے :یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 ربیع الاول 1444 ھ/18 اکتوبر 2022 ء