warasat o shirkat ka masla o hukum
سوال
میری والدہ نے ایک گھر خریدا تھا جسکی مالیت 2620000 تھی۔ جس میں ایک بیٹے (فہیم)نے 1210000 ( شرکت کی نیت سے) ملائے ،اسی بیٹے (فہیم)نے 600000 والدہ کو بطورِ قرض دیئے تھے۔ ایک بیٹے(عدیل) نے160000بطورِ قرض ملائے جبکہ ایک بیٹے (عظیم)نے ( شرکت کی نیت سے) 150000 ملائے تھے۔ اب والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور یہ مکان 5500000کا بک گیا ہے۔ برائے مہربانی شریعت کے حساب سے رہنمائی فرمائیں کس کا کتنا حصہ ہوگا۔
کل ورثاء میں 5 بھائی (فہیم، عظیم، عدیل، راحیل، ندیم) دو بہنیں(یاسمین، سمیرا)ہیں۔بینوا و توجروا
سائل:فہیم: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ میں سب سے پہلے کل مالِ وراثت سے قرض ادا کیا جائے گا بعد ازاں ورثاء کے حصص کی نسبت سے بقیہ مال کی تقسیم کی جائے گی۔ تفصیل درج ذیل ہے۔
کل رقم: 5500000/=
قرض:محمد فہیم 6 لاکھ، محمد عدیل 1 لاکھ 60 ہزار /=760000
بقیہ رقم: 4740000/=
شرکاء کے حصے تناسبی اعتبار سے: کل رقم : 2620000/= بقیہ کل قیمت: 4740000
نام رقم فیصد کل قیمت سے شریک کا حصہ
محمد فہیم: 1210000/= 46.18 2188932/=
محمد عظیم: 150000/= 5.72 271128/=
ٹوٹل: 51.9 ٹوٹل: 2460060/=
مابقی تناسبی حصہ: 48.1 مابقی رقم : 2279940/=
اب یہ رقم (2279940) تمام ورثاء بشمول (فہیم ، عظیم) کے مابین انکے شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔ جسکی تفصیل یہ ہے کہ اس رقم کو کل 12 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
ہر بیٹا: 2 حصے ہر بیٹے کا رقم کی صورت میں حصہ : 379990/=
ہر بیٹی : 1 حصہ ہر بیٹی کا رقم کی صورت میں حصہ : 189995/=
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(سورۃ النساء آیت نمبر 10، 11)
اسی میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔(السراجی فی المیراث ص 9)
مشترکہ ملکیت کی تقسیم کے بارے میں مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما۔ترجمہ: جب دو شریکوں کے حصے مساوی ہوں یعنی مشترکہ نصف نصف ہو تو برابر برابر تقسیم کی جائے گی۔اور جب متساوی نہ ہو بایں طور کہ ان میں سے ایک کا ثلث اور دوسرے کے دو ثلث ہوں تو حاصلات اسی نسبت سے تقسیم کیے جائیں گے کیونکہ ان اموال کے نفقات انکے حصوں کے نسبت سے ہیں۔ (ایضاً مادہ 1077)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:ربیع الاول 1445ھ/ 26 ستمبر 2023 ء