nafli tawaf mein qibla ki taraf munh aur seena ho gaya to kya hukm hai
سوال
نفلی طواف کے دوران اگر کسی چکر میں چار سے پانچ قدم استقبال قبلہ ہو گیا یوں کہ قبلہ کی طرف منہ اور سینہ ہو گیا تو کیا طواف ہو گیا اور اس پر کوئی جرمانہ ہو گا کہ نہیں ؟ ایک مفتی صاحب نے کہا ہے کہ اگر اعادہ کر لیں تو ٹھیک ورنہ دم ہو گا! اس پر ہماری رہنمائی فرمائیں !
سائل:قاری قمر رضوی
اسلام آباد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
طواف کسی بھی قسم کا ہو ،وہ سات مکمل چکروں (پھیروں) پر مشتمل ہوتاہے جس میں پوری مسافت اس طرح قطع کرنا کہ بیت اللہ شریف بائیں ہاتھ پر رہےاور اس میں دوران یعنی گردش ہو جبکہ سینہ کعبہ کی طرف کر کے چلنے میں گردش نہیں ، استقبال ہے جوکہ طواف کے منافی ہے۔لھذا اگرطائف کا سینہ کسی وجہ سے بیت اللہ کی طرف ہوجائےاور وہ اسی حالت میں چند قدم چلتا رہے جیسا کہ سوال میں بھی مذکور ہوا ،تو اتنا حصہ چکر میں شمار نہیں ہو گا ۔اس پر لازم ہے کہ وہ اتنے قدم واپس آ کر اعادہ کرے ابھی نہیں کیا تو طواف مکمل کرنے کے بعد اس ایک چکر کا اعادہ کرے ۔ اگر وہاں رہتے ہوئے اعادہ نہیں کیا اور وطن واپس لوٹ آیا تو وہ چکر ناقص رہ جانے کی وجہ سے کالمعدوم ہو گا اور جو حکم ایک چکر چھوڑ دینے والا کا ہے اس کا بھی یہی ہو گا لہذا اس ناقص چکر کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے ایک صدقہ فطر ادا کرنا ہوگا ۔
صدقہ ہونے اور دم ہونے کی توجیہ :
نفلی طواف کا حکم طوافِ قدوم کی طرح ہے اور طوافِ قدوم کا حکم طواف صدر کی طرح ہے اور طوافِ صدر کے اقل چکر (یعنی ایک ،دو یا تین)چھوڑنے پر حکم یہ ہے کہ ہر چکر کے عوض صدقہ فطر دینا ہو گا اور اکثر چھوڑنے پر دم ہو گا۔ جب پورا ایک چکر چھوڑنے پر صدقہ فطر ہے تو ایک چکر کا اقل چھوڑنے پر دم کیوں کر ہو سکتا ہے !!! ۔ وہ مقامات جہاں پر سینہ بیت اللہ کی طرف کر کے طواف کرنے یا معکوس ہیئت(الٹا طواف جس میں بیت اللہ دائیں جانب ہو ) میں طواف کرنے پر دم کا حکم دیا گیا تو اس سے مراد بھی یہی ہے کہ مکمل طواف اسی حالت میں کیا ہو کیوں کہ فقہائے کرام نے تفصیلی مقام پر باقاعدہ ایسی حالت میں کیے گئے طواف کی اقل و اکثر چکر کے فرق کے ساتھ احکام بیان فرمائے ہیں ۔
دلائل و جزئیات:
نفلی طواف کا حکم طواف ِقدوم کی طرح ہے کما فی المناسک :وحكم كل طواف تطوع كحكم طواف القدوم۔ترجمہ:ہر نفلی طواف کا حکم طواف قدوم کی طرح ہے۔(مناسک ملا علی قاری )اور طواف قدوم کا کوئی چکر چھوٹ جائے تو اس پر کوئی کفارہ ہو گا یا نہیں اس پر کوئی نص موجود نہیں چناچہ علامہ رحمت اللہ سندھی علیہ الرحمہ وغیرہ نے اسے طواف صدر پر قیاس کیا یعنی اگر کوئی شخص طواف قدوم شروع کرنے کے بعد چھوڑ دے تو اقل چھوڑنے پر ہر چکر کے عوض صدقہ ہو گا کما فی رد المحتار : وبحث السندي في منسكه الكبير أنه كالصدر۔ترجمہ:علامہ سندھی نے اپنی کتاب منسک کبیر میں بحث کرتے ہوئے فرمایا کہ طواف قدوم کا حکم طواف صدر کی طرح ہے۔( ردالمحتار،کتاب الحج ،جلد:06،صفحہ:496،مطبوعہ : مصطفى البابي الحلبي)
معلوم ہوا کہ نفلی طواف کا حکم طواف ِقدوم کی طرح ہے اور طوافِ قدوم کا حکم طوافِ صدر کی طرح ہے ۔
علامہ رحمت اللہ سندھی کے مذکور قیاس پر ملا علی قاری نے اشکال وارد کرتے ہوئے لکھا: لأن طواف الصدر واجب بأصله، فكيف يقاس عليه ما يجب بشروعه ، فالظاهر أنه نظير صلاة النفل، وصومه حيث يجب عليه إتمامه، وإنه لا يلزمه بتركه شئ سوى التوبة عن المعصية ۔ترجمہ:طواف صدر تو اپنی اصل کے لحاظ سے واجب ہے سو اس پر اس طواف کو کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے جو شروع کرنے سے واجب ہوا یعنی نفلی طواف ،بظاہر یہ نفلی نماز اور نفلی روزے کی نظیر ہے یعنی جب شروع کر لیا تو اب اس کو مکمل کرنا واجب ہے اور چھوڑنے کی وجہ سے سوائے توبہ کے کوئی چیز لازم نہیں ۔(لباب المناسک ،صفحہ:352،ادارۃ القرآن)
علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ نے اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں :وقد يقال وجوبه بالشروع بمعنى وجوب إكماله وقضائه بإهماله ويلزم منه وجوب الإتيان بواجباته كصلاة النافلة، حتى لو ترك منها واجبا وجب إعادتها أو الإتيان بما يجبر ما تركه منها كالصلاة الواجبة ابتداء، وهنا كذلك لو ترك أقله تجب فيه صدقة ولو ترك أكثره يجب فيه دم لأنه الجابر لترك الواجب في الطواف كسجود السهو في ترك الواجب في النافلة والله تعالى أعلم. ۔ترجمہ: ۔اس پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شروع کرنے کی وجہ سے واجب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے پورا کرنا واجب ہے، اور اگر ادھورا چھوڑ دے تو اس کی قضا واجب ہوگی۔ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ اس کے تمام واجبات بھی ادا کرنا واجب ہوں گے، جیسا کہ نمازِ نفل کا حکم ہے۔یہاں تک کہ اگر کوئی شخص نمازِ نفل کا کوئی واجب ترک کر دے تو اس پر یا تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا، یا وہ عمل کرنا لازم ہوگا جو اس واجب کے ترک کا جبران کرتا ہے، جیسے وہ نماز جس کا واجب ابتداءً ثابت ہو۔یہاں (طوافِ قدوم) میں بھی یہی حکم ہونا چاہیے؛ یعنی اگر اس کے کم چکر چھوڑے تو ہر چکر کے بدلے صدقہ واجب ہوگا، اور اگر اکثر چکر چھوڑ دیے تو دم واجب ہوگا، کیونکہ طواف میں واجب کے ترک کا جبران دم ہی ہے، جیسے نمازِ نفل میں واجب کے ترک کا جبران سجدۂ سہو ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔( ردالمحتار،کتاب الحج ،جلد:06،صفحہ:496،مطبوعہ : مصطفى البابي الحلبي)
رد المحتار میں ہی ہے: أن أقل الأشواط السبعة واجبة تجبر بالدم، فالركن أكثرها بحر لكن الظاهر أن هذا في الفرض والواجب فقد صرحوا بأنه لو ترك أكثر أشواط الصدر لزمه دم وفي الأقل لكل شوط صدقة. ۔ترجمہ: سات چکروں میں سے کم مقدار جس کی تلافی دم سے ہو سکتی ہے واجب ہے، جبکہ طواف کا رکن ان میں سے اکثر چکر ہیں۔ بحر میں یہی مذکور ہے۔لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم فرض اور واجب طواف کے بارے میں ہے۔ چنانچہ فقہاء نے صراحت کی ہے کہ اگر کسی نے طوافِ صدر کے اکثر چکر چھوڑ دیے تو اس پر دم لازم ہوگا، اور اگر کم چکر چھوڑے تو ہر ایک چکر کے بدلے ایک صدقہ لازم ہوگا۔(رد المحتار ، فصل في الإحرام وصفة المفرد،ج:2،ص:496،دارالفکر بیروت )
مقامِ شبہ:
کچھ اجمالی عبارات ایسی ہیں جہاں برہنہ ،معکوس ہیئت یا بے وضو و غسل حالت میں کیے گئے طواف پر دم کا حکم دیا گیا ہے جس سے شبہ لگتا ہے کہ شاید یہاں سات چکروں میں سے کسی ایک میں بھی ایسا معاملہ ہوا تواعادہ نہ کرنے کی صورت میں دم ہو گا ۔بطور نمونہ عبارات ملاحظہ ہوں :
امام محمد بن حسن شیبانی (متوفی 189ھ) رقم طراز ہیں: مُحَمَّدٌ عَنْ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ) فِي رَجُلٍ طَافَ الطَّوَافَ الْوَاجِبَ فِي جَوْفِ الْحِجْرِ قَالَ: فَإِنْ كَانَ بِمَكَّةَ أَعَادَ، وَإِنْ أَعَادَ عَلَى الْحِجْرِ أَجْزَأَهُ وَإِنْ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَلَمْ يَعُدْ فَعَلَيْهِ دَمٌ۔" ترجمہ: امام محمد، امام ابو یوسف سے اور وہ امام ابو حنیفہ (رحمہم اللہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے واجب طواف (یعنی طوافِ زیارت) کا کچھ حصہ حطیم کے اندر سے گزر کر کیا تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر وہ مکہ میں ہے تو اس کا اعادہ کرے، اور اگر اس نے حطیم کے باہر سے چکر لگا کر اعادہ کر لیا تو یہ کافی ہے، لیکن اگر وہ (اعادہ کیے بغیر) اپنے گھر واپس لوٹ گیا تو اس پر دم لازم ہو گا۔( الجامع الصغير مع النافع الكبير، کتاب الحج، باب في الطواف والسعي، ص: 151، مطبوعہ: عالمي کتب خانہ)
امام ابوالبرکات النسفی (متوفی ۷۱۰ ھ) بیان کرتے ہیں:"وَنَعْتَبِرُهُ عُرْيَاناً وَبِغَيْرِ طُهْرٍ وَمَنْكُوساً وَيُعَادُ إنْ أَمْكَنَ وَإِلَّا جُبِرَ بِالدَّمِ" [۲۰۸] ترجمہ: اور ہم طواف کا اعتبار کرتے ہیں (یعنی وہ واجب ہے کہ اسے صحیح ہیئت پر کیا جائے) پس اگر برہنہ، بغیر طہارت کے یا معکوس (الٹا) کیا گیا ہو تو اس کا اعادہ کیا جائے گا اگر ممکن ہو، ورنہ دم کے ذریعے اس کی تلافی کی جائے گی۔(مجمع البحرین وملتقی النیرین، کتاب الحج، فصل فی صفۃ افعال الحج، جلد: 01، صفحہ: 208، ناشر: دار الکتب العلمیہ۔)
رد المحتار میں ہے:لو استقبل البيت بوجهه أو استدبره وطاف معترضا كما في شرح اللباب وغيره.(قوله فلو رجع) أي إلى بلده قبل إعادته فعليه دم.ترجمہ: اگر اس نے بیت اللہ کی طرف چہرہ کرکے یا بیت اللہ کی طرف پیٹھ کرکے، معمول کے طریقے کے برخلاف عرضاً طواف کیا، جیسا کہ شرح اللباب وغیرہ میں ہے۔ تو اگروہ اس کا اعادہ کرنے سے پہلے وطن لوٹ آیا اس پر دم واجب ہوگا۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الحج،فصل فى الإحرام وصفة المفرد بالحج،ج:2،ص:494)
ازالہ شبہ :
یہ تمام عبارات اجمالی ہیں نیز یہاں طواف سے مراد ’’مطلق یجری علی الاطلاق ‘‘ کے تحت مکمل سات چکر ہیں نہ کہ محض طواف کا کوئی ایک چکر۔یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے تفصیلی عبارات اور تفصیلی مقامات پر اقل و اکثر کےساتھ فرق کو بیان کیا ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب