ملازمت کے معائدے کو ختم کرنے میں پیشگی نوٹس کی شرط لگانے کا حکم
    تاریخ: 8 نومبر، 2025
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 70

    سوال

    ملازمت سے متعلق پاکستان میں موجود قانون کے مطابق آجر اور مستاجر (جو کہ مستقل ہو)دونوں میں سے ہر ایک ملازمت کے معاہدے کو ایک مہینےکے نوٹس پر ختم کر سکتےہیں۔لیکن اگر آجر (کمپنی) مستاجر(ملازم )کو ایک ماہ کا نوٹس دیے بغیر نکال دے تو مستاجر ایک ماہ کی اضافی تنخواہ کا حقدار ہو گا اور اسی طرح اگر مستاجر(ملازم)بغیر ایک ماہ پیشگی اطلاع دیئے چھوڑ کر چلا جائے تو وہ اس ماہ کی تنخواہ اور دیگر مراعات (بونس وغیرہ )کا مستحق نہیں ہوگا۔جبکہ اعلٰحضرت امام اہلسنت نے فتاوٰی رضویہ جلد 19 میں اس طرح رقم طراز ہیں:" یونہی ملازمت بلااطلاع چھوڑ کر چلاجانا اس وقت تنخواہ قطع کرے گا نہ تنخواہ واجب شدہ کوساقط اور اس پرکسی تاوان کی شرط کرلینی مثلا نوکری چھوڑناچاہے تو اتنے دنوں پہلے سے اطلاع دے، ورنہ اتنی تنخواہ ضبط ہوگی یہ سب باطل وخلاف شرع مطہر ہے، پھر اگر اس قسم کی شرطیں عقد اجارہ میں لگائی گئیں جیساکہ بیان سوال سے

    ظاہر ہے کہ وقت ملازمت ان قواعد پر دستخط لے لئے جاتے ہیں، یا ایسے شرائط وہاں مشہور ومعلوم ہو کرالمعروف کالمشروط ہوں، جب تو وہ نوکری ہی ناجائز وگناہ ہے، کہ شرط فاسد سے اجارہ فاسد ہوا، اور عقد فاسدحرام ہے۔ اور دونوں عاقد مبتلائے گناہ، اور ان میں ہر ایک پر اس کا فسخ واجب ہے، اور اس صورت میں ملازمین تنخواہ مقرر کے مستحق نہ ہوں گے، بلکہ اجر مثل کے جو مشاہرہ معینہ سے زائد نہ ہوں، اجر مثل اگر مسمی سے کم ہو تو اس قدرخود ہی کم پائیں گے، اگرچہ خلاف ورزی اصلا نہ کریں "۔

    پساعلحضرت امام اہلسنت کے اس فتوی کی روشنی میں مذکورہ بالا آجر اور مستاجر کا معاہدہ ان شرائط فاسدہ (اضافی تنخواہ کا حقدار،بونس وغیرہ کا حقدار نہ ہونا وغیرہ)کے سبب فاسد ہوگیا ،جبکہ یہ شرائط تقریباً ہر کمپنی میں رائج ہیں ۔پھر اس صورت میں کیا سب کا اجارہ فاسد ہو رہاہے۔برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں؟

    سائل :محمد طاہر:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت ِمستفسرہ میں جبکہ یہ معاہدہ ان شرائط کے ساتھ تقریباًتمام کمپنیوں میں رائج ہے اور یہ شرائط درج ذیل وجوہات کی بناء پر لاگو کی گئی ہیں:

    1:کمپنی کے بہت سےکام ملازم پر موقوف ہوتےہیں یعنی اگر ملازم اچانک چھوڑ کر چلا جائے تو اس صورت میں کمپنی کو بہت بڑے نقصان سے دو چار ہونا پڑتاہے۔اور آج کل کا دور مقابلے کا ہے یعنی ہر کمپنی دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتی ہے اور اس کی خاطر وہ آگے نکلنے والی کمپنیوں کے ملازموں کو اپنے پاس بلانے کے لیے اچھی سیلری اور دیگر مراعات کی آفر کرتی ہے ۔اگر اس طرح کی شرائط نہ رکھی جائیں تو کوئی بھی ملازم اپنے فائدے کو دیکھتے ہوئے فی الفور کمپنی چھوڑ دےگا اوراس کے جانے کے سبب کمپنی کو خسارہ اٹھانا پر جائےگا۔

    2:اسی طرح کمپنی اگر ملازم کو بغیر نوٹس نکا ل دے توفوراً اس ملازم کوکسی اور کمپنی میں اچھی ملازمت کا ملنا انتہائی دشوار ہے،بالخصوص موجودہ حالات میں کہ جہاں ملازمتوں کا فقدان ہے ۔ہر طرف بےروزگاری کادور دوراہے۔ نیز ملازم کے لیے اپنے اخراجات ہی پورا کر نا مشکل ہوجائیں گے ۔ملازم قرض ،سوداور اسی جیسی کئی مشکلات اور گناہوں میں مبتلا ہوجائیگا۔ یہ ملازم کے لیے ایک بہت بڑا ضرر ہے۔

    پس اس صورتِ حال میں شرعی حکم یہ ہے کہ ان شرائط کے باوجود یہ عقد درست ہے ۔

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ سوال میں مذکور شرائط اگرچہ عقدانکا تقاضہ نہیں کرتالیکن مذکورہ بالا وجوہات کے سبب ضرر سے بچنے کےلیے یہ شرائط عقد کے لیے ضروری ہوگئی ہیں اس لیےکہ حدیث مبارک میں ہے : عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ترجمہ:سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ نے مروی ہے ،نبی کریمﷺ نے حکم دیا:نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔ (سنن ابن ماجہ:2340)

    اسی طرح فقہ کا اصول ہے:الضرر یزال:نقصان کو دور کیا جاتا ہے(الاشباہ والنظائرلابن نجیم،صفحہ:72،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)

    مزید یہ کہ اگر یہ اجارہ فاسد قرار دیا جائے تو اس صورت میں کئی لوگ ناجائز عقد کرنے اور ناجائز کمائی کھانے کے مرتکب ہوجائیں گے اور یہ ایک حرج عظیم ہے ۔

    پس ان دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ موجودہ دور میں عقد ان شرائط کا تقاضہ کرتا ہے اور جن شرائط کا عقد تقاضہ کرے وہ فاسدہ نہیں ہوتی بلکہ جن کا نہ کرے وہ ہوتی ہیں جیسا کہ درمختار میں ہے: الاصل الجامع فی فساد العقد شرط لایقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحد ہما: ترجمہ: فساد عقد میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ وہ شرط ایسی ہو جس کا تقاضہ عقد نہیں کرتا اورنہ ہی وہ عقد کے ملائم ہے اور اس میں عاقدین میں سے کسی کا نفع ہو ۔(رد المختار علی الدرالمختار،جلد:5،ص:84،دارالفکر بیروت)لہذاایسی شرائط سے عقد فاسد نہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح :ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16رمضان المبارک 1442 ھ/29اپریل 2021 ء