سوال
ایک کمپنی ہے جو یہ کہتی ہے کہ آپ ہمارے پاس پیسے انویسٹ کریں اور 12 ماہ کا معاہدہ کریں۔اس انویسمنٹ کے مختلف پیکیجز ہیں۔مثلاً ایک لاکھ انویسٹ کرنے پر8 سے 10 ہزار کے درمیان منافع ملے گا۔دو لاکھ انویسٹ کرنے پر 16 سے 20 ہزار کے درمیان منافع ملے گا۔اسی طرح اور بھی دیگر پیکیجز ہیں۔اوریہ منافع ہر صورت ملتا رہے گا۔ اگر درمیان میں پیسے نکلوانے ہوں تو 2 ماہ قبل تحریری طور پر اطلاع دینی ہوگی ۔اور 2 ماہ کا پروفیٹ بھی نہیں ملے گا۔اور جو اصل رقم ہے وہ پوری کی پوری واپس لوٹا دی جائے گی۔برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ایسا معاہدہ درست ہے ؟
سائل:محسن:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں یہ معاہدہ شرعاً درست نہیں اور اس سے حاصل ہونے والا نفع سراسر سود ہے اور سود لینا ناجائز اور حرام ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ کہ کام میں لگانے کے لیے جو رقم دی جاتی ہے اسکی چار صورتیں ممکن ہیں یعنی ھبہ(Gift) ،اعارہ (بلامعاوضہ)،شرکت اور قرض ۔اورکمپنی میں جو رقم انویسٹ کی جاتی ہےوہ ھبہ اور اعارہ تو نہیں ہوسکتی کیونکہ کوئی بھی شخص اس طور پر کمپنی کو اپنی رقم نہیں دیتا اور رہی بات شراکت کی تو وہ بھی یہاں نہیں پائی جارہی کیونکہ شریعت مطھرہ میں شراکت داری نام ہے اصل (راس المال) اورنفع دونوں میں شرکت کاجبکہ معین رقم ایک شریک کے لیے مقرر کرنا شرکت کے منافی ہے کہ ممکن ہے کہ اگر اتنا ہی منافع ہوا تو تمام کا مالک ایک شریک ہی ہو جائے گااور دوسرے کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا، توپھر نفع میں شراکت داری باقی کہاں رہی لہذا یہ شراکت نہیں ہے۔اب ایک ہی صورت رہ گئی اور وہ قرض کی ہےاور قرض پر ہرقسم کا نفع سود ہے۔لہذا صورتِ مستفسرہ میں کمپنی جو معین رقم کی صورت میں نفع دے رہی ہے وہ قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے سود ہی ہے ۔اور سود لیناناجائز اور حرام ہے۔
اعلحٰضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتےہیں: یہاں چار ہی صورتیں متصور ہیں ، کام میں لگانے کے لئے یہ روپیہ دینے والا بغرض شرکت دیتا ہے یا بطور ہبہ یا عاریہ یا قرض ۔ صورت ہبہ تو یہاں بداہۃً نہیں اور شرکت کابطلان اظہر من الشمس،شرکت ایک عقد ہے جس کا متقضی دونوں شریکوں کا اصل و نفع دونوں میں اشتراک ہے ایک شریک کے لئے معین تعداد زر مقرر کرنا قاطع شرکت ہے کہ ممکن کہ اسی قدر نفع ہو تو کلی نفع کا یہی مالک ہوگیا ، دوسرے شریک کو کچھ نہ ملا تو ربح ( نفع ) میں شرکت کب ہوئی۔ بہر حال یہاں نہیں مگر صورت قرض، اور اس پر نفع مقرر کیا گیا، یہی سود ہے اور یہی جاہلیت میں تھا، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: کل قرض جر منفعۃ فھو ربٰوترجمہ: قرض پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ ربا ہے۔ملخصاً(فتاوٰی رضویہ،جلد:371،373،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
سنن ابن ماجہ میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدِيهِ، وَكَاتِبَهُ ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے بے شک رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:سود کھانے والےاورکھلانے والےاورگواہوں پر اور اسکے لکھنے والے پر لعنت ہے۔(سنن ابن ماجہ،رقم:2227)
مسند امام احمد بن حنبل میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِرْهَمٌ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ، أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً ترجمہ :سیدنا عبداللہ بن حنظلہ (غسیل الملائکہ )سے مروی ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:سود کا ایک درہم جان بوجھ کر کھانا اللہ عزوجل کے نزدیک چھتیس بار زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔(مسند امام احمدبن حنبل،رقم:21957)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28ربیع النور1443 ھ/03نومبر 2021 ء