سوال
میں محمد بلال نے محمد آصف بروکرکے توسط سے محمد حنیف بروکر(میمن اسٹیٹ ایجنسی،گارڈن ویسٹ )سے ان کا اپنا فلیٹ خریدا۔اور سودا مکمل ہونے کے بعدمحمد آصف بروکر نے تعلقات کی بناء پرمحمد بلال سےبروکری لینے سے منع کردیا ۔اب محمد حنیف محمد آصف سے یہ کہتا ہے کہ تم نے تو بروکری نہیں لی لیکن میں محمد بلال سے آدھی بروکری لوں گا۔کیا کوئی شخص اپنے ہی فلیٹ کو بیچنے کی بروکری خریدار سے لے سکتا ہے۔نیز محمد حنیف بروکر کا فلیٹ بکوانےکی جو محمد آصف کی عرف کے اعتبار سے بروکری بنتی ہے محمد حنیف اسے بھی دینے میں ٹال مٹول کررہا ہے ۔ایسے شخص کی بابت شریعت مطہرہ کیا فرماتی ہے؟
سائل:محمد بلال:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں محمد حنیف بروکر کا اپنے ہی فلیٹ کو فروخت کرنے کی بروکری لینا شرعاًناجائز ہے۔اور اسی طرح محمد آصف بروکر کی عرف کے مطابق جو بروکری بنتی ہے اسے دینے میں ٹال مٹول کرنا بھی ناجائز اورسخت گناہ ہے ۔حدیث مبارک میں اس کی سخت وعید آئی ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ جب بروکرمالک کی اجازت سے کوئی چیز خریدار کو خود بیچے تو اس چیز کوبیچنے کی بروکری وہ خریدار سے نہیں لے سکتا اور اسکی علت یہ بیان کی ہے کہ اس وقت بروکر خود عاقد ہے اور عقد کرنے والے کے لیے بروکری لینا جائز نہیں ہے۔
جیسا کہ مجمع الضمانات میں ہے: الدَّلَّالُ لَوْ بَاعَ الْعَيْنَ بِنَفْسِهِ بِإِذْنِ مَالِكِهِ لَيْسَ لَهُ أَخْذُ الدَّلَالَةِ مِنْ الْمُشْتَرِي إذْ هُوَ الْعَاقِدُ حَقِيقَةً ترجمہ:بروکر جب مالک کی اجازت سے عین کو خود بیچے تو اس کے لیے خریدار سے بروکری لینا جائز نہیں اس لیے کہ اس وقت وہ خود عاقد (عقد کرنے والا)ہے۔
تو جب بروکردوسرے کی چیز خودبیچےتو اس کے لیےخریدار سے بروکری لینا جائز نہیں تو اپنی چیز بیچنے کے سبب بروکری لیناتو بدرجہ اتم اس کے لیے ناجائز ہوگا۔
اور بروکرجب بائع (بیچنے والا)اور مشتری (خریدنے والا)دونوں کے لیے کوشش کرے اورعرف یہ ہو کہ بروکری بائع اور مشتری دونوں ادا کرتے ہوں تو اس صورت میں بروکری دونوں پر لازم ہوگی۔
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے: وَلَوْ سَعَى الدَّلَّالُ بَيْنَهُمَا وَبَاعَ الْمَالِكُ بِنَفْسِهِ يُضَافُ إلَى الْعُرْفِ إنْ كَانَتْ الدَّلَالَةُ عَلَى الْبَائِعِ فَعَلَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى الْمُشْتَرِي فَعَلَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَيْهِمَا فَعَلَيْهِمَاترجمہ:اور اگر بروکر بائع اور مشتری دونوں کے لیے کوشش کرےاور مالک نے خود بیچی ہوتو عرف دیکھا جائے گا ،اگربائع کے ذمےبروکری ہو تو اس کے ذمے ہوگی،اوراگربروکری خریدارکے ذمے ہو تو اس پر ہوگی اور اگر عرف یہ ہو کہ بروکری بائع اور مشتری دونوں کے ذمہ ہو تو پھر دونوں کے ذمہ ہوگی۔(العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ،جلد:1،ص:247،دارالمعرفۃ)
اور گارڈن میں موجود بروکرز کے درمیان بھی یہی عرف ہے کہ بروکری بائع اور مشتری دونوں سے لی جاتی ہے۔لہذا اگر محمد آصف بروکر نے اپنی خوشی سے (خریدار)محمد بلال کے حصے کی بروکری معاف کردی تو یہ انکی اپنی مرضی ہے لیکن (فروخت کنندہ)محمد حنیف بروکر کے ذمہ محمد آصف کو بروکری دینا لازم ہے ۔
مسلم شریف کی حدیث ہے: مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ ترجمہ: جس شخص نے قسم کی وجہ سے کسی مسلمان شخص کا حق دبا لیا تو بِلاشُبَہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ا س کے لئے جہنم کو واجب کردیااور اس پر جنّت حرام کردی۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہ ﷺ!اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ ارشاد فرمایا : اگر چہ وہ پیلو کی مسواک ہی ہو۔ (صحیح مسلم،رقم:137)
اور ایسے حق دبا کر حاصل ہونے والی حرام کمائی کے بارے میں حدیثِ پاک میں ہے: مسند امام احمد کی حدیث ہے،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وَلَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ، فَيُنْفِقَ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلَ مِنْهُ، وَلَا يَتْرُكُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ ترجمہ:اور بندہ جو کوئی مال حرام کماتا ہے کہ وہ اس سے خرچ کرے اور اس کے لیے اس میں برکت ہو اور اس مال سے صدقہ کرتا ہے کہ وہ اس سے قبول ہو اور اپنے پیچھے جو(اس مال سے) چھوڑتا ہے وہ سب کا سب جہنم کی طرف اس کا زادِ راہ(توشہ) ہے۔ بے شک اللہ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہےبے شک خباثت (حرام مال)خباثت(گناہوں) کو نہیں مٹاتی۔(مسند امام احمد،رقم:3672)
مستدرک للحاکم کی حدیث ہے:حضور نبی کریمﷺ نےحضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ارشاد فرمایا: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، النَّارُ أَوْلَى بِهِ.ترجمہ: جوگوشت حرام سےنَشْوونَماپائےگاوہ جنت میں داخل نہیں ہوگا، آگ اس(گوشت)کی زیادہ حقدارہے۔(المستدرک علی الصحیحین للحاکم،رقم:7163)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 صفر المظفر1443 ھ/24ستمبر 2021 ء