سوال
ایک شخص نعت خوانی پر اجارہ فاسدہ کرتا رہا ۔اور پھر ان پیسوں سے اپنا کاروبار شروع کر دیا ۔کیا اجارہ فاسدہ سے حاصل شدہ رقم انھیں لوٹانا ضروری ہے جن لوگوں سے اس نے لی ہے جبکہ اسے اب نہیں معلوم کہ کس کس سےوہ رقم لی ہے اورکیا کسی طریقے یہ رقم حلال ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے اتنا بڑا کاروبار قائم ہوچکا اور یہی اس کا ذریعۂ معاش ہے؟ اور جو اس کاروبار کا نفع ہے کیا وہ بھی حرام ہوگا؟ سائل :محمدسہیل:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ کا جواب دو امور پر مشتمل ہے :
1:اجارہ فاسدہ سے حاصل ہونے والی رقم کا حکم اور اس کے حلال ہونے کی صورت ۔
2:اور اس مال سے جو کاروبار کیا اسکے نفع کا حکم ۔
1:اجارہ فاسدہ سےحاصل شدہ مال ناجائز اورحرام ہے ۔اور جس نے ایسے عقود کیے اس پر صدقِ دل سے توبہ لازم ہے اورآئندہ ایسے عقود ِفاسدہ سے اجتناب کرے ۔نیز اس مال کو صدقہ کردے ۔اور ضروری نہیں کہ تصدق کسی اجنبی شخص کو کیا جائے بلکہ قریبی عزیز واقارب کوصدقہ کر دی جائےاور پھر جن جن کو تصدق کیا گیا ہے وہ اپنی خوشی سے اپنی طرف سے تھوڑا یا کل اسی شخص کو ہبہ کردیں ۔اس طرح وہ مال اسکے لیے جائز ہوجائے گا ۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ عقودات فاسدہ سے جو مال حاصل ہو وہ ملک خبیث ہوتی ہے اور ملک خبیث کا حکم یہ ہے کہ جس سےلیا ہو انہیں لوٹا دے اگر وہ زندہ نہ ہوں ،ان کے ورثاء کو دے دیں اور یہ بھی نہ ہوں یا معلوم ہی نہ ہوکہ کس کس سے لیا اور کتنا کتنا لیا تو شرعی فقیر پر تصدق کرے۔اور یہ ضروری نہیں کہ وہ غیرہوں بلکہ اپنے محتاج بیٹے یا باپ یا بھائی یا بیوی پر بھی تصدق کرسکتا ہے۔
اعلٰحضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: جومال رشوت یاتغنی یاچوری سے حاصل کیا اس پرفرض ہے کہ جس جس سے لیا اُن پر واپس کردے، وہ نہ رہے ہوں اُن کے ورثہ کو دے، پتا نہ چلے تو فقیروں پرتصدق کرے، خریدوفروخت کسی کام میں اُس مال کالگانا حرام قطعی ہے، بغیر صورت مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کانہیں۔ یہی حکم سُود وغیرہ عقودِفاسدہ کاہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بالخصوص انہیں واپس کرنا فرض نہیں بلکہ اسے اختیار ہے کہ اسے واپس دے خواہ ابتداء تصدق کردے،
وذٰلک لان الحرمۃ فی الرشوۃ وامثالھا لعدم الملک اصلا فھو عندہ کالمغصوب فیجب الرد علی المالک او ورثتہ ما امکن اما فی الربٰو اواشباھہ فلفساد الملک وخبثہ و اذا قدملکہ بالقبض ملکا خبیثا لم یبق مملوک الماخوذ منہ لاستحالۃ اجتماع ملکین علی شیئ واحد فلم یجب الرد وانما وجب الانخلاع عنہ اما بالرد واما بالتصدق کما ھو سبیل سائر الاملاک الخبیثۃ۔ترجمہ:یہ اس لئے کہ رشوت اور اس جیسے مال میں ملکیت بالکل نہ ہونے کی وجہ سے حرمت ہے لہٰذا وہ مال رشوت لینے والے کے پاس غصب شدہ مال کی طرح ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جس حد تک ممکن ہو وہ مال اس کے مالک یا اس کے ورثاء کو لوٹادیاجائے پس ایساکرنا واجب ہے، سُود یا اس جیسی اشیاء میں فسادِ مِلک اور خباثت کی بناء پر بوجہ قبضہ اس کا مالک بن گیا تو جس سےمال لیاگیا اب اس کی ملکیت باقی نہ رہی (بلکہ ختم ہوگئی) اس لئے کہ ایک چیز پر بیک وقت دو مِلک جمع ہونے محال ہیں (کہ اصل شخص بھی مالک ہو اور سودخور بھی۔ مترجم) لہٰذا مال ماخوذ کا واپس کرنا ضروری نہیں بلکہ اس سے علیحدگی واجب ہے خواہ بصورتِ رد (یعنی لوٹانے کے) ہو یا بصورتِ خیرات، جیسا کہ تمام املاکِ خبیثہ میں یہی طریقہ ہے۔ہاں جس سے لیا انہیں یا ان کے ورثہ کو دینا یہاں بھی اولٰی ہے کما نص علیہ فی الغنیۃ والخیریۃ والھندیۃ وغیرھا۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:23،صفحہ:551،552،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اپنے قریبی رشتہ داروں کو صدقہ کرنے کی بابت فرماتے ہیں: دریا بُرد کردینے کاحکم محض باطل ہے اور دوسری جنس سے بدلنے میں عہدبرآری نہ ہوگی حکم شرع جواس کے ذمّہ ہے ادا نہ ہوگا اس پر شرع مطہریہ فرض کرتی ہے کہ اس مال کو تصدق کردے، مساکین کو دے ڈالے، بغیر اس کے اس کی توبہ صحیح نہیں، اور اس میں اس کے لئے حیلہ شرعی بھی نکل آئے گا، یہ تصدّق کچھ اجنبی مساکین ہی پرضرور نہیں بلکہ اپنے محتاج بیٹے یا باپ یابھائی یابی بی پربھی کرسکتاہے انہیں دے کر ان کاقبضہ کرادے پھر وہ کل یابعض جتناچاہیں اسے ہبہ کردیں پاک ہوجائے گا۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے : لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذٰلک ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا، خرج من العھدۃ کذا فی القنیۃ۔ترجمہ:کسی شخص کے پاس مشتبہ اور مشکوک مال ہو تو اسے کسی اجنبی پر ہی خیرات کردیناضروری نہیں بلکہ وہ اپنے والد پر، بھی خیرات کرکے بری الذمہ ہوسکتاہے۔ اسی طرح اگر اس کا بیٹا اس کے ساتھ شریکِ کاروبار ہو اور خریدوفروخت کرتاہو اور فاسد سودے بھی ہوتے ہوں اور وہ اپنا تمام مال اس بیٹے کو ہبہ کردے تو وہ اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوجائے گا۔ قنیہ میں اسی طرح مذکورہے۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:23،صفحہ:554،555،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
2:اور جو ان پیسوں(مال) سے کاروبار کیا گیا ہے اس سے حاصل شدہ نفع حلال ہے اسے کسی کو لوٹانے کی اور تصدق کرنے کی ضرورت نہیں۔
اعلٰحضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: یوہیں اگرروپیہ ربا وغیرہ عقود فاسدہ سے حاصل کیاتھا اور اس کے عوض کوئی شے خریدی تو اس خریدی ہوئی شے میں خباثت نہ آئے گی۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:23،صفحہ:552 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
درمختار میں ہے : الخبث لفساد الملک انما یعمل فیما یتعین لافیما لایتعین واما الخبث لعدم الملک کالغصب فیعمل فیھما کما بسطہ خسرووابن الکمال: ترجمہ:مِلک فاسد ہونے کی وجہ سے جو خباثت پیدا ہوتی ہے وہ متعین شے پر اثرکرتی ہے۔ جبکہ غیرمتعین میں مؤثر نہیں ہوتی لیکن عدمِ ملک کی وجہ سے جو خباثت پیدا ہو جیسے غصب وغیرہ تو وہ متعین، غیرمتعین دونوں میں اثرکرتی ہے جیسا کہ خسرواور ابن کمال نے تفصیل سے اس کو بیان فرمایا۔(رد المحتار علی الدرالمختار،جلد :5،ص:97،دارالفکر بیروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصحیح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 09رمضان المبارک 1442 ھ/22اپریل 2021 ء