سوال
میں اپنا کمپیوٹر سسٹم انٹرنیٹ پر ایک کمپنی کو رینٹ پر دینا چاہتا ہو ۔وہ کمپنی انلائن میرا کمپیوٹراستعمال کریگی اور اسے کسی اور شخص کو رینٹ پر دے دیگی جو اس پہ bitcoin miningکرے گا جو کہ بٹ کوائنکی اندرونی حساب کا سلسلہ ہے اور ان سب پر مجھے رینٹ کی صورت میں کچھ رقم فی گھنٹہ کے حساب سے ملےگی لیکن وہ رقم بٹ کوائن کی صورت میں ہوگی جس کو میں پاکستانی روپے میں تبدیل کرکے استعمال کروں گا ۔
لہذا میرا اپنا کمپیوٹر اس طرح کمپنی کو رینٹ پر دینا اور اس پر کرایہ لینا جائز ہے؟چونکہ کمپیوٹر میرے گھر میں چلے گا رینٹ پر دینے کے بعد توبجلی کا بل بھی میں ادا کروں گااس رینٹ میں سے میرا اس کمپنی سے یہ معاہدہ ہوگا کہ وہ bitcoin miningکے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرسکتی۔
سائل:محمد شایان:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جواب سے پہلے بطور ِتمہید یہ بات ذہن نشین رہے کہ بٹ کوائن کی خرید وفروخت کا مسئلہ ابھی تک علمائے کرام کے درمیان مختلف فیہ ہے اورجمہور علماء کے نزدیک بٹ کوائن کی خریدوفروخت ناجائز ہے اور ہمارے نزدیک بھی یہی حکم ہے۔ اور بٹ کوائن مائننگ کا مقصد نئے بٹ کوائن کو وجود میں لانا اورپرانے بٹ کوائن کی خرید وفروخت کاحساب دیکھنا ہوتا ہے،لہذا یہ بھی ناجائزہے۔ صورت مسئولہ کا جواب تین امورپر مشتمل ہے:
1:بٹ کوائن مائننگ کے لیے اپنا کمپیوٹر اجارے پر دینا
2:اجارے درست ہونے کی صورت میں ایسی کمپنی سے اجرت لینا کہ جو بٹ کوائن کا کام کرتی ہے
3:اور اجرت بٹ کوائن کی صورت میں لینا
پہلا امر:جائز ہے،لیکن اس نیت کے ساتھ کمپیوٹر نہ دیا جائے کہ اس میں بٹ کوائن مائننگ ہی کی جائے گی بلکہ مطلقا کمپیوٹر کرائے پر دیا جائے اب آگے کمپنی کی مرضی ہے کہ وہ اسے جس کام میں استعمال کرے ۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمۃ الرحمٰن لکھتےہیں: مسلمان مکان کرایہ پر دے اس کی غرض کرایہ سے ہے، اور اعمال نیات پر ہیں، یہ نیت کیوں کرے کہ اس لئے دیتاہے کہ اس میں شراب نوشی و شراب فروشی ہو، ایسی حالت میں کرایہ اس کے لئے حلال اور اس کے یہاں کھانا کھانے میں حرج نہیں، ہاں جو اس حرام نیت کو شامل کرلےکہ وہ اب خود ہی گنہگار بنتاہے، اور اگر وہ مکان ایسی جگہ واقع ہے جہاں ان مفاسد کا اظہار باعث ضرر وخرابی ہمسائگان ہوگا، تو ناجائز، یہ باعث فتنہ ہوا، اور فتنہ حرام ، بہرحال نفس اجرت کے کسی فعل حرام کے مقابل ہو حرام نہیں ہے، یہی معنی ہیں اس قول حنفیہ کے کہ: یطیب الاجر وان کان السبب حراما کما فی الاشباہ وغیرھا فاحفظ فانہ علم عزیز فی نصف سطر، واﷲ تعالٰی اعلم اجرت طیب ہوگی اگرچہ سبب حرام ہے، جیسا کہ الاشباہ وغیرہ میں ہے، اس کو محفوظ کرلو، یہ ایک سطر میں نادر علم ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ ،جلد:19،ص:501،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ھدایہ میں ہے: انما المعصیۃ بفعل المستاجر وھو مختار فیہ فقطع نسبتہ عنہ ترجمہ:بیشک گناہ تومستاجرکے فعل سے ہے اور وہ مختار ہے لہٰذا گناہ کی نسبت مؤجر سے منقطع ہوگئی۔(الھدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی،جلد:4،ص:378،داراحیاء التراث العربی ۔بیروت)
دوسرااور تیسراامر:اگر کمپنی بٹ کوائن کے ذریعے ہی آمدنی حاصل کرتی ہے اور کوئی ذریعۂ آمدنی نہیں تو ایسی کمپنی سے اجرت لینا جائز نہیں ہے جبکہ وہ اجرت بھی بٹ کوائن کی ہی صورت میں دے رہی ہو۔کیونکہ اصول یہ ہےکہ جب کسیفرد یا کمپنی کی آمدنی ناجائز ہو اوراسی آمدنی سے وہ اپنے ملازم کو اجرت دے تو یہ اجرت ملازم کے لیے حلال نہیں ہوتی۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمۃ الرحمٰن لکھتےہیں:اگرلینے والے(مزدور) کو معلوم ہوگا کہ یہ مال بعینہٖ وہی ہے انہوں نے گانے، ناچنے، زنا کی اُجرت یا آشناؤں سے تحفہ ہدیہ رشوت میں پایا ہے تو اسے لینا ہرگز روانہیں۔ (فتاوی رضویہ ،جلد:23،ص:508،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
البتہ اگر کمپنی کی آمدن بٹ کوائن کے علاوہ بھی ہو اور وہ بٹ کوائن کی صورت میں اجرت نہ دے بلکہ کسی اور طریقے سے اجرت ادا کرے تو اس صورت میں ان سے اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمۃ الرحمٰن لکھتےہیں: یہ سب صورتیں اس وقت تھیں جب اسے اس مال کا حال معلوم ہو جو اس کی مزدوری میں دیاجاتاہے کہ خاص مال رنڈی کے پاس کہاں سے آیا ہے اور اس تک کیوں کر پہنچتا ہے، آیا عین حرام میں سے ہے یا خالص حلال سے؟ یا دونوں مخلوط ہیں؟ یا مال حرام سے خریدا ہوا ہے؟ یا کیا حال ہے؟ اور اگر یہ کچھ نہیں کہہ سکتا نہ اسے کچھ خبر کہ خالص مال جو اسے دیاجاتاہے یا کس قسم کا ہے، تو اس صورت میں فتوٰی جواز ہےکہ اصل حلت ہے، جب تک خاص اس مال کی حرمت نہ ظاہر ہو، لینے سے منع نہ کریں گے۔(فتاوی رضویہ ،جلد:23،ص:515،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:جس کے پاس مال حلال وحرام مختلط ہو ،مثلاً تجارت بھی کرتاہے اور سود بھی لیتا ہے ،اس کے یہاں کی نوکری شرعاًجائز ہے اور جوکچھ بھی وہ دے اس کے لینے میں حرج نہیں ،جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز جو ہمیں دے رہا ہے ،بعینہ مال حرام ہے۔(فتاوی رضویہ ،جلد:19،ص:500،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کمپنی کا بٹ کوائن کے علاوہ کوئی اور جائز ذریعۂ آمدن ہواور کمپنی بٹ کوائن سے اجرت(Rent) ادانہیں کرتی ہے تو کمپیوٹر کا اجارہ(Rent) درست ہوگا اور اگر کمپنی کے پاس کوئی اور جائز ذریعۂ آمدن نہیں یا جائزذریعۂ آمدن تو ہے لیکن وہ اجرت بٹ کوائن کی صورت میں ادا کرتی ہے تو اس صورت میں کمپیوٹر اجارے (Rent)پر دینا جائز نہیں ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01رمضان المبارک 1442 ھ/14اپریل 2021 ء