سوال
داماد جب اپنے گھر سے اپنے سسرال جو کہ سو 100 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے تو یہ داماد اپنے سسرال میں 15 دن سے کم وقت کیلئے وہاں جائے گا تو یہ داماد وہاں نماز قصر کرے گا یا قصر نہیں کرے گا؟ اور داماد کیلئے اس کا سسرال کا گھر جس علاقے میں ہے وہ وطن اصلی ہوگا یا نہیں؟برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
سائل: محمد علی صدیقی،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سسرال کو وطن اصلی نہ بنائے یعنی بیوی کو مستقل طور پر وہیں رکھ کر زندگی گزارنے کا ارادہ نہ ہو اور عموما ایسا ہی ہوتا ہے تو مسافر ہوگا اور قصر کرے گا اور اگر وہیں رکھ کر زندگی گزارنے کا ارادہ ہو تو پھر سسرال وطن اصلی ہو جائے گا اور اس صورت میں سسرال پہنچتے ہی مقیم ہو جائے گا۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ وطن اصلی میں پوری نماز پڑھنا فرض ہے۔وطن اصلی کی ممکنہ تین صورتیں ہیں: (۱) وہ جگہ جہاں اس کی پیدائش ہو۔(۲) اس کے اہل و عیال وہاں رہتے ہوں۔(۳) جہاں سکونت کر لی اور یہ ارادہ ہو کہ يہاں سے نہ جائے گا۔
یعنی جہاں آدمی کی ولادت ہوئی وہ وطن اصلی ہے ، اور اگر یہاں سے کہیں اور مستقل رہائش کے لیے چلا جاتا ہے تو وہ وطن اصلی ہو جائے گا اور پچھلا وطن اصلی باطل ہو جائے گا جیسا کہ خود نبی کریم ﷺ کی ولات مبارکہ مکہ مکرمہ کی پر کیف فضاؤں میں ہوئی لیکن جب ہجرت کر کے مستقل مدینہ منورہ مسکن ہوا تو مکہ وطن اصلی نہ رہا اسی لیے فتح مکہ اور حجتہ الوداع کے موقع پر نماز قصر ادا فرمائی۔ اسی طرح اگر کہیں شادی کر لی اور وہیں سکونت اختیار کر لی تو اب وہ وطن اصلی بن جائے گا، ولادت والا وطن اصلی باطل ہو جائے گا اور اگر شادی کر کے زوجہ کے ساتھ کہیں اور مستقل رہائش اختیار کر لی تو سسرال وطن اصلی نہیں رہے گا جہاں مستقل رہائش اختیار کی وہ جگہ وطن اصلی بن جائے گی۔ یعنی وطن اصلی ہونے کی اصل بنیاد یہ ہے کہ انسان خود یا اس کے اہل و عیال مستقل طور پر وہیں رہائش رکھتے ہوں جہاں یہ صورت ہو گی وہ وطن اصلی ہے وبس۔
مفتیٰ بہ قول کے مطابق آدمی جہاں شادی کر ے اس جگہ کے وطن اصلی ہونے کے لئے شوہر کی وہاں مستقل سکونت لازم نہیں البتہ بیوی کی وہاں مستقل رہائش ضروری ہےکہ یہ سمجھا جائے کہ شوہر کے اہل خانہ یہاں رہتے ہیں۔اصول رسم الافتاء کے مطابق مذکورہ قول راجح ترہے کہ علاماتِ فتوی میں سے اس کی طرف’’اوجہ‘‘ کے الفاظ موجود ہیں۔لہذا یہ جزئیہ کہ ’’آدمی جہاں سے شادی کر لے وہ جگہ بھی اس کی وطن اصلی ہوجاتی ہے‘‘مطلق نہیں ہے، بلکہ بیوی کی رہائش کی قید کے ساتھ مقید ہے۔آج کل چونکہ شادی ہوجانے پر بیوی رخصت ہو کر شوہر کے گھر آجاتی ہے،لہذا وہ جگہ شوہر کے گھر سے اگرشرعی مسافت (92 کلو میٹر) یا اس سے زیادہ پر ہو تو 15پندرہ دن سے کم کے لئے جانے کی صورت میں شوہر و بیوی دونوں کو قصر کرنا ہوگی۔
دلائل و جزئیات:
وطن کی تین اقسام ہیں، ڈاکٹر وہبہ بن مصطفی الزحیلی لکھتے ہیں: "قال الحنفية الوطن ثلاثة أنواع:الوطن الأصلي: هو الذي ولد فيه أو تزوج، أولم يتزوج وقصد التعيش فيه، لا الإرتحال عنه.ووطن الإقامة: موضع نوى الإقامة فيه نصف شهر فما فوقه. ووطن السكنى: هو ما ينوي الإقامة فيه دون نصف شهر، وهذا لم يعتبره المحققون في حالة تغيير الموطن".ترجمہ:امام اعظم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وطن تین قسم کے ہیں ایک وطن اصلی وہ جس میں پیدا ہویا جس میں نکاح کیا یا نکاح نہ کیا اور اس میں رہنے کا ارادہ کیااور وہاں سے کوچ کا ارادہ نہیں ہے اور وطن اقامت یعنی وہ موضع اقامت جس میں نصف ماہ یا اس سے زیادہ کے رہنے کا ارادہ ہواور وطن سکونت وہ جس میں نصف ماہ سے کم رہنے کی نیت ہواور یہ وہ جس میں حقوق کا اعتبار نہیں ہوتا وطن کے مختلف ہونے کی وجہ سے ۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ،باب صلاة المسافر ،2/241،دار الفکر)
علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں: " وطن أصلي: وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها". ترجمہ:وطن اصلی انسان کا وہ شہر ہے جس میں وہ رہتا ہے یا کوئی دوسرا شہر جس کو اس نے اپنا گھر بنالیا اور وہ وہاں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مستقل رہتا ہے اور اس کا وہاں سے کوچ کا ارادہ نہیں ہے بلکہ مستقل رہنے کا ارادہ ہے۔(بدائع الصنائع، فصل بيان ما يصير المسافر بہ مقيما،1/103،دار الکتب العلمیۃ)
علامہ حسن بن عمار الشرنبلالی (المتوفی:1069ھ) فرماتے ہیں: "فيقصر الفرض الرباعي من نوى السفر إذا جاوز بيوت مقامه وجاوز أيضا ما اتصل به من فنائه".ترجمہ: جو سفر کی نیت کرے توجب اس جگہ (کہ جہا ں وہ رہتا ہے) کی آبادی اور آبادی سے متصل علاقوں سے تجاوز کرلے تو چار رکعتی (فرض )نماز کو قصر کرکے(دو) پڑھے گا۔(نورالایضاح مع نجاۃ الارواح،باب صلاۃ المسافر، ص 86،مکتبۃ العصریۃ)
صحیح مسلم کی روایت ہے: "عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «فَرَضَ اللهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ".ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺکی زبان پر حضر میں چار اور سفر میں دو رکعتین فرض کی ہیں۔(صحیح مسلم،باب صلاۃ المسافرین،1/479،رقم :687،دار احیاء التراث العربی)
مرد کا سسرال مطلقا وطن اصلی نہیں ہوتا جب تک اہل و عیال کی مستقل رہائش نہ ہو،چنانچہ علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں: "ومن حكم الوطن الأصلي أن ينتقض بالوطن الأصلي، لأنه مثله والشيء ينتقض بما هو مثله حتى لو انتقل من البلد الذي تأهل به بأهله وعياله وتوطن ببلدة أخرى بأهله وعياله لا تبقى البلدة المنتقل عنها وطناً له".ترجمہ: وطن اصلی کا حکم ہے کہ یہ وطن اصلی سے باطل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اُس کی مثل ہے اور شے اپنی مثل سے باطل ہو سکتی ہے حتی کہ جہاں شادی کی تھی اس شہر سے اپنے اہل و عیال کے ساتھ منتقل ہوا اور کسی دوسرے شہر میں اہل و عیال کے ساتھ مستقل سکونت اختیار کر لی تو جس شہر سے منتقل ہو اوہ وطن اصلی نہیں رہے گا۔(المحیط البرہانی،کتاب الصلاۃ،الفصل الثانی والعشرون ،2/36،دار الکتب العلمیۃ)
علامہ ابو المحاسن فخر الدین حسن بن منصور قاضی خان اوزجندی (المتوفی:592ھ) فرماتے ہیں: "بان كان مولده وسكن فيه او لم يكن مولده ولكنه تاهل به و جعله دارا ".ترجمہ: وطن اصلی یہ کہ جہاں اس کی ولادت ہو اور اسی میں سکونت کرتا ہو یا جائے ولادت نہ ہو لیکن وہاں شادی کی ہو اور وہیں رہائش اختیار کر لی ہو۔(فتاوی قاضی خان،باب صلاۃ المسافر،1/148،قدیمی کتب خانہ)
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:"والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها".ترجمہ:اور وطن اصلی، انسان کا وہ وطن ہے، جسے اس نے اپنا گھر بنالیا ہو یا وہ وہاں پر اپنے بیوی ، بچوں کے ساتھ رہ رہا ہو اور اس کا وہاں سے منتقل ہونے کا ارادہ نہ ہو بلکہ (مستقل طور پر ) وہاں رہنے کا ارادہ ہو۔ (البحر الرائق،باب صلاۃ المسافر،2/147،دار الکتاب الاسلامی)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) نے وطن اصلی کی تعریف میں تاهله کا ترجمہ ایسے الفاظ سے کیا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کا سسرال مطلقا وطن اصلی نہیں جب تک وہاں رہائش نہ ہو۔چنانچہ فرماتے ہیں: ’’وطن اصلی وہ جگہ جہاں اس کی پیدائش ہو یا اس کے گھر کے لوگ وہاں رہتے ہیں یا وہاں سکونت کر لی اور یہ ارادہ ہے کہ یہاں سے نہ جائے گا‘‘۔ (بہار شریعت،1/750، مكتبۃ المدينۃ کراچی)
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب فرماتے ہیں:’’تاھل کے معنی محض شادی کرنے کے نہیں ہیں بلکہ اس مقام پر اہل و عیال کے ساتھ رہنے کے ہیں، لہذا اگر اس نے اپنے سسرالی گھر یا مقام کو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہائش کے لیے اختیار کر لیا ہے تو وہ وطن اصلی کے حکم میں ہوگا، لیکن جب کوئی شخص اپنے سرالی گھر یا مقام پر اپنے بچوں کے ساتھ مقیم نہیں ہے تو محض خسر کا گھر ہونا وطن اصلی کے حکم میں نہیں‘‘۔ (تفہیم المسائل،2/147،ضیاء القرآن پبلی کیشنز )
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہواکہ زید کا سسرال اُس کے مکان سے ۱۱۴ میل کے فاصلے پر ہے اور بیوی بچے اُس کے سب سرال میں رہتے ہیں مگر زید اپنے کاروبار کی وجہ سے زیادہ تر اپنے مسکن پر ہی رہتا ہے، ایسی صورت میں زید بال بچوں سے ملنے کے واسطے آئے گا تو قصر کرے گا یا نہیں ؟
آپ نے جواب ارشاد فرمایا:’’جبکہ مسکن زید کا دوسری جگہ ہے اور بال بچوں کا یہاں رکھنا عارضی ہے تو جب یہاں آئے گا اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے گا قصر کرے گا‘‘۔ (فتاوی رضویہ،8/270،رضا فاؤنڈیشن)
معلوم ہوا کہ صرف شادی کرنا وطن اصلی متحقق نہیں کرتا بلکہ اس کا مدار اہل وعیال کی مستقل رہائش ہے۔
وطن اصلی ہونے کے لئے شوہر کی مستقل سکونت لازم نہیں، البتہ بیوی کی وہاں مستقل رہائش ضروری ہے،چنانچہ علامہ محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) شرح منیہ کے حوالہ سے فرماتے ہیں: "ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما، فإن ماتت زوجته في إحداهما وبقي له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة واستقرت سكنا له وليس له فيها دار وقيل تبقى".ترجمہ: اگراس کی بیویاں دوشہروں میں ہوں توان میں سے جس شہرمیں بھی جائےگامقیم ہوجائے گا،پس ان میں سےایک شہرمیں اس کی بیوی انتقال کرجائےاوراس کاگھراورجائیداداس شہرمیں باقی ہو،کہاگیاوہ شہراس کےحق میں وطن اصلی نہ رہےگاکیونکہ اعتباربیوی کےہونےکاتھا،گھرکانہیں،جیساکہ اگرکوئی شخص کسی شہرمیں نکاح کرلےاوراس مقام کوجائےسکونت بنالےحالانکہ اس شہرمیں اس کاگھرنہ ہو( تب بھی وہ جگہ اس کی وطن اصلی ہوگی)۔اوردوسرے قول کے مطابق وطن اصلی باقی رہےگا(یعنی بیوی کےانتقال کےبعداگراس جگہ گھراورجائیداد ہوتووہ مقام وطن اصلی رہےگا)۔(رد المحتار، مطلب فی الوطن الاصلی ووطن الاقامۃ ،2/131،دار الفکر)
وطن اصلی ہونے کے لئے شوہر کی وہاں سکونت نہ ہونا ’’اوجہ ‘‘ہے،چنانچہ علامہ علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"تزوج المسافر ببلد صار مقيما على الأوجه".ترجمہ:مسافرنےکسی شہرمیں نکاح کرلیاتواوجہ قول کےمطابق مقیم ہوجائےگا۔(الدرمختار، مطلب فی الوطن الاصلی ووطن الاقامۃ،2/134،دار الفکر)
احمد بن محمد بن اسماعيل الطحطاوی الحنفی (المتوفی:1231ھ) فرماتے ہیں: "قولہ:( صار مقیما علی الاوجہ)لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام من تزوج من بلدۃفھو منھا ".ترجمہ:مصنف علیہ الرحمہ کاقول:(اوجہ قول کےمطابق مقیم ہوجائےگا)حضورعلیہ السلام کے اس فرمان کی وجہ سے’’جس نےکسی شہرمیں نکاح کیاوہ اسی شہرسےہے‘‘۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرّ ،2/593،المکتبۃ الوحیدیۃ پشاور)
علاماتِ فتوی کے متعلق علامہ علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ)فرماتے ہیں:"وفي أول المضمرات: أما العلامات للإفتاء فقوله وعليه الفتوى، وبه يفتى، وبه نأخذ، وعليه الاعتماد، وعليه عمل اليوم وعليه عمل الأمة، وهو الصحيح، أو الأصح، أو الأظهر، أو الأشبه، أو الأوجه، أو المختار، ونحوها مما ذكر في حاشية البزدوي".ترجمہ: مضمرات کی ابتداء میں ہے،بہرحال افتا کی علامات تو وہ فقہاء کا یہ قول ہے:اسی پر فتوی ہے ،اسی پر فتوی دیا جائے گا،اسی کو ہم لیتے ہیں،اسی پر اعتماد ہے،اسی پر آج عمل ہے ،اسی پر امت کا عمل ہے،یہی صحیح ہے ،یا زیادہ صحیح ہے،یازیادہ ظاہر ہے،یا روایۃ منصوص کے زیادہ مشابہ ہے،یا وجہ میں زائد،یا اسی کو اختیار کیا گیا ہے،اور اسی طرح کے الفاظ حاشیہبزدوی میں مذکور ہیں۔ (الدرمختار، مقدمۃ،1/71-72،دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جبکہ وہ دوسری جگہ نہ اس کا مولد ہے نہ اس نے شادی کی نہ اسے اپنا وطن بنالیا یعنی یہ عزم نہ کر لیا کہ اب یہیں رہوں گا اور یہاں کی سکونت نہ چھوڑوں گا بلکہ وہاں کا قیام صرف عارضی بربنائے تعلق تجارت یا نوکری ہے تو وہ جگہ وطن اصلی نہ ہوئی اگر چہ وہاں بضرورت معلومہ قیام زیادہ اگر چہ وہاں برائے چندے یا تا حاجت اقامت بعض یا کل اہل و عیال کو بھی لے جائے کہ بہرحال یہ قیام ایک وجہ خاص سے ہے نہ مستقل ومستقر،تو جب وہاں سفر سے آئے گا جب تک 15 دن کی نیت نہ کرے گا قصر ہی پڑھے گا کہ وطن اقامت سفر کرنے سے باطل ہو جاتا ہے ‘‘۔ (فتاوی رضویہ،8/271، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 رمضان المبارک 1444 ھ/4 اپریل2023ء