بی فور یو کمپنی کی شرعی حیثیت
    تاریخ: 10 نومبر، 2025
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 74

    سوال

    B.4.Uجو ایک Secureکرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کمپنی ہے جسکا بنیادی مقصد لوگوں کو کرپٹو کرنسی +انڈسٹری میں انویسٹ کرنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے ۔

    اس میں کاروبار کرنے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ : جو شخص کمپنی کا ممبر بنتا ہے وہ ایک پیکج خریدتا ہے جو ڈالرز کی صورت میں ہوتا ہے جتنے زیادہ ڈالرز کا پیکج خریدا جائے گا منافع کی شرح اتنی ہی زیادہ ہوگی ۔مثال کے طور پر ممبر نے ایک پیکج 700ڈالرز کاخریدا تو اسے ہر ماہ اسکی انویسمنٹ کا کم از کم ٪6سے ٪7 ملے گا اور یہ فیصد اسے ہر ماہ ملتا رہے گا ۔اگر وہ کسی ممبر کو اپنی ریفرنس آئی ڈی پر لگواتا ہے تو اسکی انویسمنٹ کا ٪3بھی ملے گا اور اپنی انویسمنٹ کا ٪7بھی ملے گا۔

    کمپنی فاریکس ٹریڈنگ اور مختلف کرپٹو کرنسیز میں کام کرکے اسکا پروفٹ ممبرز کو دیتی ہے کمپنی کے اس وقت پاکستان میں 27فزیکل بزنس بھی ہیں ۔جس میں موٹر بائیک پلانٹ کورنگی میں اور b4u cabکے نام ٹیکسی سروس اور اسی طرح کے مختلف کام موجود ہیں لیکن کمپنی جو پروفٹ دیتی ہے وہ فاریکس ٹریڈنگ اور کرپٹو کرنسی سے ہونے والے پروفٹ سے ہی دیتی ہے فزیکل بزنس سے نہیں۔کمپنی کے فزیکل بزنسز پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ کمپنی بھاگنے والی نہیں ہے۔

    اسکے علاوہ کمپنی میں کوئی شرط نہیں ہے کہ آپ اتنے ممبرز لگائیں گے تو ہی منافع ملے گا بلکہ آپکی کی گئی انویسمنٹ کا منافع بنا کسی ممبر کو جوائن کئے پھر بھی ملے گا۔مزید یہ کہ آپ اپنی کی گئی انویسمنٹ 6مہینے بعد مکمل نکلواسکتے ہیں کوئی کٹوتی نہیں ہوگی اور 6ماہ سے پہلے نکلوائیں گے تو کٹوتی ہوگی۔آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ یہ کاروبار جائز ہے یا نہیں ؟

    سائل:قمر آرائیں:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میںB.4.U کمپنی کرپٹو کرنسی اور فاریکس ٹریڈنگ میں انویسمنٹ کرتی ہے اور اس سے حاصل شدہ منافع اپنے ممبرز کو دیتی ہے ۔ شرعا یہ عقد ناجائز ہے۔کیونکہ موجودہ دور کے فقہاءکرام نے کرپٹو کرنسی اور فاریکس ٹریڈنگ کو ناجائز قرار دیا ہے ۔لہذاB.4.U کمپنی میں کس بھی قسم کی انویسمنٹ کرنا اور اس سے منافع حاصل کرنا جائز نہیں ہے ۔

    کرپٹو کرنسی اور فاریکس ٹریڈنگ میں متعدد شرعی قباحتوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے اسکے علاوہ ایک مشترکہ قباحت یہ ہے کہ چاہے کرپٹو کرنسی کے کوائنز ہوں یا فاریکس ٹریڈنگ کے یونٹس ہوں ان کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہوتا ، یہ محض ایک ڈیجیٹل کرنسی ہوتی ہے،جس کے سبب ان میں خرید وفروخت کے وقت قبضہ نہیں کیا جاسکتا،لہذا انکی بیع جائز نہیں ہوتی ، جیسا کہ تاج الفقہاء استاذ العلماءحضرت علامہ مفتی محمد وسیم اخترالمدنی اطال اللہ عمرہ فاریکس ٹریڈنگ کے بارے میں جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:" فاریکس مارکیٹ میں جب تبادلہ کیا جاتا ہے تو اس وقت کسی بھی طرف سے کرنسی پر قبضہ نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے شرعاًبیع(خرید وفروخت )جائز واقع نہیں ہوتی اور یہ سٹہ بازی کی ایک قسم ہے لہذا فاریکس مارکیٹ میں پیسہ لگانا اور کاروبار کرنا جائز وحرام اور سٹہ بازی ہے ۔

    حدیث پاک میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:من ابتاع طعاما فلا یبیعہ حتی یقبضہ قال ابن عباس فاحسب کل شیء بمنزلۃ الطعام ترجمہ:جس نےکسی سے طعام (یا کوئی اور شے )خریدی تو اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے جب تک اس پر قبضہ نہ حاصل کرلے ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ :میرے خیال میں ہر فروخت کی جانے والی شے بمنزلہ طعام ہے۔(المصنف لعبدالرزاق،رقم:14210)"(ماخوذ ازوسیم الفتاوی ،حوالہ نمبر7247،غیر مطبوعہ)

    اور اگر یہ کمپنی خریدوفروخت شرعاًدرست بھی کرے پھر بھی اس میں انویسٹ کرنا ناجائز اور حرام ہے اسلئے کہ کام میں لگانے کے لیے جو رقم دی جاتی ہے اسکی چار صورتیں ممکن ہیں یعنی ھبہ(Gift) ،اعارہ (بلامعاوضہ)،شرکت اور قرض ۔اورکمپنی میں جو رقم انویسٹ کی جاتی ہےوہ ھبہ اور اعارہ تو نہیں ہوسکتی کیونکہ کوئی بھی شخص اس طور پر کمپنی کو اپنی رقم نہیں دیتا اور رہی بات شراکت کی تو وہ بھی یہاں نہیں پائی جارہی کیونکہ شریعت مطھرہ میں شراکت داری نام ہے اصل (راس المال) اورنفع دونوں میں شرکت کاجبکہ یہاں کمپنی ممبرز کو انکی انویسٹمنت کا ٪7یا ٪6 دے رہی ہے اس میں ممکن ہے کہ اسکی انویسمنٹ سے نفع ہی اتنا ہو ،اگربالفرض کل نفع ہی ٪7یا٪6ہو تو سارا نفع ممبرز کا ہوگیا پھر شراکت داری باقی کہاں رہی لہذا یہ شراکت نہیں ہے۔اب ایک ہی صورت رہ گئی اور وہ قرض کی ہے اور قرض پر ہرقسم کا نفع سود ہے۔لہذا کمپنی میں جو رقم انویسٹ کی جارہی ہے وہ برائے نام انویسمنٹ ہے لیکن درحقیقت وہ قرض ہے اور اس پر ملنے والا٪7یا ٪6 نرا سود ہے ۔

    اعلحٰضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتےہیں: یہاں چار ہی صورتیں متصور ہیں ، کام میں لگانے کے لئے یہ روپیہ دینے والا بغرض شرکت دیتا ہے یا بطور ہبہ یا عاریہ یا قرض ۔ صورت ہبہ تو یہاں بداہۃً نہیں اور شرکت کابطلان اظہر من الشمس ،شرکت ایک عقد ہے جس کا متقضی دونوں شریکوں کا اصل و نفع دونوں میں اشتراک ہے ایک شریک کے لئے معین تعداد زر مقرر کرنا قاطع شرکت ہے کہ ممکن کہ اسی قدر نفع ہو تو کلی نفع کا یہی مالک ہوگیا ، دوسرے شریک کو کچھ نہ ملا تو ربح ( نفع ) میں شرکت کب ہوئی۔ بہر حال یہاں نہیں مگر صورت قرض، اور اس پر نفع مقرر کیا گیا، یہی سود ہے اور یہی جاہلیت میں تھا، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: کل قرض جر منفعۃ فھو ربٰوترجمہ: قرض پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ ربا ہے۔ملخصاً(فتاوٰی رضویہ،جلد:371،373،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    پھر شریعت مطھرہ کا یہ اصول کہ کوئی بھی شخص نفع کا مستحق یا تو مال کے عوض ہوتا ہے یا عمل کے عوض ہوتا ہےجیسے عقد مضاربت میں رب المال اپنے مال کے عوض اورمضارب اپنے عمل(محنت)کے عوض نفع کا مالک ہوتا ہے،یا پھر ضمان کے عوض ہوتا ہے جیسےزیدکوکوئی کام ملا ہواور اس کا ایک نفع طے ہوا ہو اورزید یہ کام طے شدہ نفع میں سے کچھ نفع کے عوض اپنے شاگرد سے کروائے تویہاں زید نفع کا حقدار اس کام پر ضامن (اگر شاگرد نے کوئی نقصان کیا تو وہ اس نقصان کا ذمہ دار ہوگا) ہونے کی وجہ سے ہورہا ہے۔جبکہ صورتِ مسئولہ میں کمپنی محض آپکی ریفرنس آئی ڈی کے ذریعے آنے والے نئے ممبرز کے سرمائے کا ٪3نفع جو آپ کوہر ماہ دے رہی ہے نفع کی یہ صورت مذکورہ تین(مال،عمل،ضمان) صورتوں میں سے کوئی بھی نہیں لہذایہ نفع بھی ناجائز ہے۔

    ھدایہ میں ہے: لأن الربح لا يستحق إلا بالمال أو العمل أو بالضمان. فرب المال يستحقه بالمال والمضارب يستحقه بالعمل والأستاذ الذي يلق ي العمل على تلميذه بالنصف بالضمان فلا يستحق بما سواهاترجمہ:اسلئے کہ نفع کا استحقاق مال ،عمل یا ضمان کے عوض ہوگا۔پس رب المال اپنے مال کے عوض اورمضارب اپنے عمل کے عوض اور استاداس کام کے نصف نفع کا ضمان کے عوض حقدار ہوگا جس کام کواپنے شاگردکےسپر کردیتا ہو۔پس ان(مال،عمل،عوض)کے علاوہ نفع کا استحقاق نہ ہوگا ۔(الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی،جلد:3،ص:12داراحیاء التراث العربی -بیروت)

    مزید یہ کہ کمپنی کی طرف سے یہ شرط کہ 6ماہ سے پہلے رقم نکلوانے کی صورت میں کٹوتی ہوگی یہ شرط شرطِ فاسد ہے کیونکہ یہ ایسی شرط ہے جس کا عقد تقاضا نہیں کرتا اور شرط ِفاسد سے عقد فاسد ہوجاتا ہے ۔

    درمختار میں ہے: الاصل الجامع فی فساد العقد شرط لایقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحد ہما ترجمہ: فساد عقد میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ وہ شرط ایسی ہو جس کا تقاضہ عقد نہیں کرتا اورنہ ہی وہ عقد کے ملائم ہے اور اس میں عاقدین میں سے کسی کا نفع ہو ۔(رد المختار علی الدرالمختار،جلد:5،ص:84،دارالفکر بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:08جمادی الاولی 1442 ھ/24دسمبر 2020 ء