مکہ میں ہوٹل روم کرائے پر لے کر آگے کرائے پر دینا

    makkah mein hotel room kiraye par le kar aage kiraye par dena

    تاریخ: 13 اکتوبر، 2026
    مشاہدات: 47
    حوالہ: 1854

    سوال

    ہم نے مکہ مکرمہ میں واقع ایک ہوٹل چھ (6) ماہ کے معاہدہ (Agreement)پر کرائے پر لیا ہے، اور اس کی مکمل رقم بھی پیشگی ادا کر دی ہے۔ہوٹل کی انتظامیہ سے یہ طے ہے کہ ان چھ ماہ کے دوران ریسپشن پر آنے والے گاہکوں کو ہوٹل کی انتظامیہ (ریسپشن) ہماری طرف سے بطورِ وکیل کمرہ کرائے پر دے گی، اور اس کا کرایہ وصول کرے گی۔چونکہ فقہائے کرام کے نزدیک محض کرائے پر لی ہوئی چیز کو اسی حالت میں آگے اضافی کرائے پر دینا بعض صورتوں کے علاوہ میں جائز نہیں ہے. اس لیے ہم ہر کمرے میں اپنی طرف سے کچھ اضافی اشیاء مثلاً شیمپو، صابن، تولیہ، ٹشو پیپر اور چند آرائشیDecoration) )اشیاء رکھ دیتے ہیں، پھر ان اضافی اشیاء سمیت کمرہ آگے اضافی کرائے پر دیتے ہیں۔مزید یہ کہ ہم ہوٹل کا کرایہ امریکی ڈالر USD) )میں ادا کرتے ہیں، جبکہ ہم سے کمرہ کرائے پر لینے والے افراد سعودی ریال SAR) )میں کرایہ ادا کرتے ہیں۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں ہمارا یہ طریقۂ کار شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہمارے طریقے کار میں خرابی ہے تو ہماری درست رہنمائی فرمائیں تاکہ شرعی طریقے سے اپنا یہ سلسلہ چلا سکے؟

    سائل :محمد بلال قادری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آپ کا طریقہ کار شرعی لحاظ سے جائز ہے اس میں مزید کسی ترمیم کی حاجت نہیں ۔

    فقہی تفصیلی:

    شرعی طور پر کرائے پر لی ہوئی چیز کو اسی کرایہ یا اس سے کم پر آگے کرائے پر دینا تو جائز ہے، البتہ زیادہ کرایہ پر آگے دینے کے لیے فقہائے احناف نے اموربیان فرمائے ہیں، جن میں سے کوئی ایک بھی پایا جائے تو زائد کرایہ لینا جائز ہوتا ہے ۔

    تین امور:

    1۔خلافِ جنس اجارہجس جنس کے عوض کمرہ کرائے پر لیا گیا ، اس کے بجائے کسی دوسری جنس کے عوض آگے کرائے پر دیا جائے۔

    مثلاً:اگر روپوں میں کمرہ کرائے پر لیا ہے تو آگے ڈالر یا دینار میں کرائے پر دے دیا جائے۔یا اگر دینار میں لیا ہو تو آگے روپوں میں دے دیا جائے۔اس صورت میں اختلافِ جنس کی بنا پر زائد لینا جائز ہو جاتا ہے۔

    2۔ کسی دوسری چیز کو شامل کرکے مجموعی اجارہ:کمرے کے ساتھ اپنی طرف سے کوئی اور چیز شامل کر دی جائے، پھر دونوں کے مجموعے پر اجارہ کیا جائے۔مثلاً:کمرے کے ساتھ کوئی اور قابلِ اجارہ جیسےاےسی ،بیڈ،الماری وغیرہا۔

    3۔ کمرے میں نفع بخش یا ضروری اضافہ (تحسینِ منفعت)اپنی طرف سے کمرے میں کوئی ایسا کام یا اضافہ کر دیا جائے جو اس کی منفعت، معیار یا قیمت کو بڑھا دے، مثلاً:ٹیبل اور کرسیاں،ٹی وی، ریفریجریٹر، گیزر،سی سی ٹی وی کیمرہ،ایئر کنڈیشنر یا دیگر سہولیات ایسی صورت میں زائد کرایہ اس اضافی منفعت کے بدلے شمار ہوگا، لہٰذا جائز ہوگا۔

    سائل نے مکہ مکرمہ میں ہوٹل چھ ماہ کے لیے عقدِ اجارہ کے ذریعے کرائے پر لیا اور اس کی مکمل اجرت پیشگی ادا کر دی ہے۔ نیز ہوٹل کی انتظامیہ سائل کی طرف سے بطورِ وکیل ریسپشن پر آنے والے گاہکوں کو کمرے کرائے پر دیتی اور ان سے کرایہ وصول کرتی ہے۔ مزید یہ کہ سائل ہوٹل کا کرایہ امریکی ڈالر (USD)میں ادا کرتا ہے، جبکہ آگے آنے والے گاہکوں سے سعودی ریال (SAR)میں کرایہ وصول کیا جاتا ہے تو یہاں پر امر اول کا تحقق پایا گیا کہ ہمارے نزدیک دو ملکوں کی کرنسی مختلف الجنس ہے اس اعتبار سے یہی وجہ جواز کے لیے کافی ہے۔

    اور کمرے میں شیمپو، صابن، تولیہ، ٹشو پیپر اور آرائشی اشیاء رکھنے کا تعلق تیسرے امر سے ہے کیوں کہ یہ اشیاء بھی ایسی ہیں جنھیں عرفاً اضافی منفعت شمار کیا جاتا ہے کیوں کہ ہر ہوٹل میں یہ سہولیات میسر نہیں ہوتی تو اس لحاظ سے یہ بھی جواز کی دلیل میں معاون ہے۔

    قطع نظر امور ثلاثہ:

    مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقامات میں ہوٹلوں اور رہائشی کمروں کو طویل مدت کے لیے کرائے پر لے کر آگے مسافروں اور زائرین کو دینا ایک معروف اور جاری عرف بن چکا ہے تو جن شہروں یہ معاملہ عرف و تعامل کی صورت اختیار کر چکا ہے وہاں پر درج بالا امور ِثلاثہ کے بغیر بھی فقہی قواعد و ضوابط کی روشنی میں اجازت ہونی چاہیے کیوں کہ مانحن فیہ مسئلہ مجتھد فیہ ہے اور مجتھد فیہ مسئلہ کے مقابل اگر عرف و تعامل آ جائے تو عمل عرف و تعامل کے مطابق ہی ہو گا اور وہ عرف اگرچہ خاص ہی کیوں نہ ہو وہ مجتھد فیہ مسئلہ کے لیے مخصص بنے گا ۔

    مبسوط میں ہے: ”فان اجرها باكثر مما استاجرها به تصدق بالفضل الا ان يكون اصلح منها بناء او زاد فيها شيئا فحينئذ يطيب له الفضل“ یعنی :کسی نے اجارے پر لی ہوئی چیز آگے زائد اجرت پر دےدی، تو اب منافع صدقہ کرے گامگر یہ کہ وہ اس کی عمارت میں کوئی بہتری لائے یا پھر اس میں کسی چیز کااضافہ کر ے، تو اب اس کےلیے زیادتی لیناجائز ہے۔(المبسوط، جلد15، صفحہ130، بیروت)

    درمختار میں ہے: ”ولو اجر باکثر تصدق بالفضل الا فی مسئلتین: اذا اجرھا بخلاف الجنس او اصلح فیھا شیئا“ ترجمہ:اگر کسی نے اجارے پر لی ہوئی چیز زیادہ اجارے پر کسی دوسرے کو دے دی، تو اب وہ منافع صدقہ کرےگا، مگر دو صورتوں میں منافع صدقہ کرنا ضروری نہیں: پہلی صورت جب اس نے خلافِ جنس چیز پر اجارہ کیا یا اس چیز میں کوئی اصلاح کرکے بہتر کیا ہو۔(الدرالمختار، جلد9، صفحہ47، کوئٹہ)

    ردالمحتار میں درج بالا عبارت کے تحت ہے: ”وکذا اذا اجر مع مااستاجر شیئا من مالہ یجوز ان تعقد علیہ الاجارۃ فانہ تطیب لہ الزیادۃ“ ترجمہ:اسی طرح اگر اجارے پر چیز لینے والا شخص اس چیز کے ساتھ اپنی کوئی چیز ملا کر اجارے پر دے دے، تب بھی عقد اجارہ جائز ہے اور اس کے حق میں منافع جائز ہوگا۔(ردالمحتار، جلد9، صفحہ47، کوئٹہ)

    بہار شریعت میں ہے: ”مستاجر نے مکان یا دکان کو کرایہ پر دے دیا، اگر اتنے ہی کرایہ پردیا ہے جتنے میں خو دلیا تھا یاکم پر جب تو خیر اور زائد پر دیا ہے تو جوکچھ زیادہ ہے ،اسے صدقہ کردے۔ہاں اگرمکان میں اصلاح کی ہو اسے ٹھیک ٹھاک کیا ہو تو زائد کا صدقہ کرنا ضرور نہیں یاکرایہ کی جنس بدل گئی مثلاًلیا تھا روپے پردیا ہو اشرفی پر اب بھی زیادتی جائز ہے۔ جھاڑودیکر مکان کو صاف کرلینایہ اصلاح نہیں ہے کہ زیادہ والی رقم جائز ہوجائے اصلاح سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جو عمارت کے ساتھ قائم ہو مثلاًپلاستر کرایا یا مونڈیر بنوائی۔“(بھار شریعت، جلد3، حصہ14، صفحہ124، مکتبۃ المدینہ)

    کرائے پر لی گئی چیز کو آگے کرائے پردے کر اس سےمنافع کمانے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: ” تین صورتوں میں جائز ہے (1) اس کے ساتھ اپنے پاس سے اور کوئی چیز ملا کر دونوں کو مجموعۃ زیادہ پر دے۔(2) اس زمین کو کنواں کھود کریا اور کام نفع کا بڑھاکر کرایہ پر دے۔ (3) کرایہ کی جنس بدل دے، مثلا اس کے پاس دس روپے سال پر ہے یہ ذیلی کو ایک اشرفی کرائے پردے یاجتنی اشرفیاں ٹھہریں یو نہی نوٹ یا پیسہ یا اکنیاں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد20، صفحہ210، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)۔

    درج بالا مسئلہ منصوص علیہ نہیں بلکہ مجتھد فیہ ہے کیونکہ شوافع،حنابلہ اور مالکیہ میں سے جمہور فقہائے کرام کا موقف یہ ہے کہ کرایہ پر لی گئی چیز کو آگے کرایہ پر دینا مطلقاً جائز ہے خواہ کرایہ کم ہو یا زیادہ ۔

    فقہ مالکیہ کی مشہور اور معتمد و مستند کتاب مواہب الجلیل فی شرح مختصر خلیل میں ہے:"وَمَنْ اكْتَرَى دَارًا فَلَهُ أَنْ يَسْكُنَهَا، أَوْ يُسْكِنَهَا أَوْ يُؤَجِّرَهَا مِنْ مُؤَجِّرِهَا، أَوْ أَجْنَبِيٍّ مِثْلِ الْآجِرِ، أَوْ أَقَلَّ، أَوْ أَكْثَرَ انْتَهَى.ترجمہ:جس شخص نے کوئی مکان کرایہ پر لیا ہو، اسے اختیار ہے کہ خود اس میں رہائش اختیار کرے، یا کسی دوسرے کو اس میں رہنے دے، یا اسے اپنے مؤجر یا کسی دوسرے شخص کو کرایہ پر دے، خواہ اسی کرائے پر دے جس پر خود لیا تھا، یا اس سے کم پر، یا اس سے زیادہ پر۔ (مواہب الجلیل فی شرح مختصر خلیل،ج:5،ص:417،دار الفکر )

    فقہ حنبلی کی مشہور اور معتمد و مستند کتاب کشاف القناع عن متن القناع للبہوتی میں ہے:"(وتصح) إجارة العين المؤجرة (لغير مؤجرها، و) تصح (‌لمؤجرها بمثل ‌الأجرة، و) ب (زيادة) على ‌الأجرة التي استأجر بها؛ لأنه عقد يجوز برأس المال، فجاز بزيادة، (ولو لم يقبض) المستأجر (المأجور)، سواء أجره لمؤجره، أو غيره؛ لأن قبض العين لا ينتقل به الضمان إليه، فلم يقف جواز التصرف عليه بخلاف بيع المكيل، ونحوه قبل قبضه."ترجمہ: مستأجرہ چیز کو آگے کرایہ پر دینا درست ہے، خواہ کسی دوسرے شخص کو دیا جائے یا خود اسی مؤجر کو۔ نیز اسی کرائے پر دینا بھی جائز ہے جس پر خود حاصل کی تھی، اور اس سے زیادہ کرائے پر دینا بھی جائز ہے؛ کیونکہ یہ ایسا عقد ہے جو اصل اجرت کے برابر بھی درست ہوتا ہے، اس لیے زیادہ اجرت پر بھی درست ہوگا۔یہ حکم اس صورت میں بھی ہے جب مستأجر نے ابھی مستأجرہ چیز پر قبضہ نہ کیا ہو، خواہ وہ اسے مؤجر ہی کو دوبارہ کرایہ پر دے یا کسی دوسرے کو؛ کیونکہ مستأجر کے قبضہ کرنے سے اس چیز کی ضمان کی ذمہ داری اس کی طرف منتقل نہیں ہوتی،اس لیے اس میں تصرف کا جواز قبضہ پر موقوف نہیں۔ بخلاف ناپ تول سے فروخت کی جانے والی اشیاء وغیرہ کے، جنہیں قبضہ سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں ہوتا۔(کشاف القناع عن متن القناع،ج:3،ص:566،دار الکتب العلمیہ)

    المغنی لابن قدامہ الحنبلی میں ہے:"وَيَجُوزُ لِلْمُسْتَأْجِرِ أَنْ يُؤَجِّرَ الْعَيْنَ الْمُسْتَأْجَرَةَ إذَا قَبَضَهَا. نَصَّ عَلَيْهِ أَحْمَدُ"ترجمہ: مستأجر کے لیے جائز ہے کہ قبضہ حاصل کرنے کے بعد مستأجرہ چیز کو آگے کرایہ پر دے۔ امام احمد علیہ الرحمہ نے اسی کی صراحت فرمائی ہے۔ (المغنی لابن قدامہ،ج:5،ص:354،مکتبۃ القاہرہ)

    فقہ شافعی کی معتمد و مستند کتاب روضۃ الطالبین وعمدۃ المفتین للنووی میں ہے:"يَصِحُّ مِنَ الْمُسْتَأْجِرِ إِجَارَةُ مَا اسْتَأْجَرَهُ بَعْدَ قَبْضِهِ، سَوَاءٌ أَجَّرَ بِمِثْلِ مَا اسْتَأْجَرَ، أَمْ بِأَقَلٍّ، أَمْ بِأَكْثَرَ"ترجمہ:مستأجر کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ قبضہ حاصل کرنے کے بعد مستأجرہ چیز کو آگے کرایہ پر دے، خواہ اسی کرائے پر دے جس پر خود لی تھی، یا اس سے کم کرائے پر دے، یا اس سے زیادہ کرائے پر۔ (روضۃ الطالبین وعمدۃ المفتین،ج:5،ص:256، مکتبۃ الاسلامی عمان)

    مجتہد فیہ مسئلہ کے مقابل جب عرف آ جائے تو عرف کا اعتبار ہو گا خواہ وہ عرف خاص ہی کیوں نا ہو ہاں اتنا ضروری ہے عرف خاص سے حکمِ خاص ہی ثابت ہو گا عام نہیں یعنی جہاں تک اس عرف کا دائرہ کار ہے وہیں تک وہ حکم مجتھد فیہ کا مخصص بنے گا۔

    علّامہ ابنِ عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"اعلم أن المسائل الفقهية إما أن تكون ثابتة بصريح النص، وهي الفصل الأول.وأما ما تكون ثابتة بضرب اجتهاد ورأي..فكثير من الأحكام تختلف باختلاف الزمان؛ لتغير عرف أهله، أو لحدوث ضرورة، أو فساد أهل الزمان بحيث لو بقي الحكم على ما كان عليه أولاً للزم منه المشقة والضرر بالناس، ولخالف الشريعة المبنية على التخفيف والتيسير ودفع الضرر والفساد؛ لبقاء العالم على أتم نظام وأحسن إحكام.ولهذا ترى مشايخ المذهب خالفوا ما نص عليه المجتهد في مواضع كثيرة، بناها على ما كان في زمنه؛ لعلمهم بأنه لو كان في زمنهم لقال بما قالوا به أخذاً من قواعد مذهبه.فمن ذلك افتاؤهم بجواز الاستئجار على تعليم القرآن ونحوه... فإن قلت: إذا كان على المفتي اتباع العرف وإن خالف المنصوص عليه في كتب ظاهر الرواية فهل هنا فرق بين العرف العام والعرف الخاص كما في القسم الأول، وهو ما خالف فيه العرف النص الشرعي ؟قلت:لا فرق بينهما هنا إلا من جهة أنّ العرف العام يثبت به الحكم العام، والعرف الخاص يثبت به الحكم الخاص.وحاصله : أن حكم العرف يثبت على أهله عاماً أو خاصاً، فالعرفُ العام في سائر البلاد يثبت حكمه على تلك البلدة فقط؛ ولهذا قال العلامة السيد أحمد الحموي في حاشيته على الأشباه ما نصه: قوله: الحكم العام لايثبت بالعرف الخاص يفهم منه:أنّ الحكم الخاص يثبت بالعرف الخاص.فالنقول دالة على اعتبار العرف الخاص،وإن خالف المنصوص عليه في كتب المذهب ما لم يُخالف النص الشرعي،كما قدمناه.وكيف يصح أن يُقال:لا يعتبر مطلقاً مع أنَّ كلَّ مُتَكَلِّم إنما يقصد ما يتعارفه.أقول:وبما قررناه تَبَيَّنَ لك أنّ ما تَقَدَّمَ عن «الأشباه» من أن المذهب عدم اعتبار العرف الخاص إنّما هو فيما إذا عارض النص الشرعي فلا يُتْرَكُ به القياس ولا يُخص به الأثر، بخلاف العرف العام، كما مر تقريره فيما نقلناه عن «الذخيرة» في الباب الأول.وأما العرف الخاص إذا عارض النص المذهبي المنقول عن صاحب المذهب فهو معتبر كما مشى عليه أصحاب المتون والشروح والفتاوى في الفروع التي ذكرناها وغيرها.وشمل العرف الخاص القديم والحادث كالعرف العام.ملتقطا.

    ترجمہ:جان لیجیے کہ فقہی مسائل دو قسم کے ہوتے ہیں:پہلی قسم وہ مسائل ہیں جو قرآن و سنت کے صریح نصوص سے ثابت ہوں۔دوسری قسم وہ مسائل ہیں جو اجتہاد اور رائے کی بنیاد پر ثابت ہوں۔ ان میں سے بہت سے احکام زمانے کے بدلنے کے ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں، کیونکہ لوگوں کے عرف و رواج میں تبدیلی آجاتی ہے، یا کوئی نئی ضرورت پیش آجاتی ہے، یا اہلِ زمانہ کے حالات بگڑ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پہلے والا حکم جوں کا توں برقرار رکھا جائے تو لوگوں پر مشقت اور ضرر لازم آتا ہے، حالانکہ شریعت کی بنیاد آسانی، سہولت، ضرر و فساد کے ازالے، اور نظامِ عالم کو بہترین انداز میں برقرار رکھنے پر ہے۔اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں کہ فقہائے احناف نے بہت سے مقامات پر امامِ مجتہد کی منصوص آراء سے اختلاف کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امام نے اپنے زمانے کے حالات کو سامنے رکھ کر وہ حکم بیان فرمایا تھا، جبکہ بعد کے مشائخ کو یقین تھا کہ اگر امام اپنے دور کے بجائے ان کے زمانے میں ہوتے تو اپنے ہی مذہب کے اصولوں کی روشنی میں وہی رائے اختیار فرماتے جو انہوں نے اختیار کی۔اسی کی ایک مثال قرآنِ کریم کی تعلیم وغیرہ پر اجرت لینے کے جواز کا فتویٰ ہے۔اگر یہ سوال کیا جائے کہ جب مفتی پر عرف کی پیروی لازم ہے، اگرچہ وہ ظاہر الروایہ کی کتابوں میں مذکور حکم کے خلاف ہو، تو کیا یہاں عرفِ عام اور عرفِ خاص میں بھی وہی فرق ہے جو پہلے بیان ہوا تھا، یعنی جہاں عرف شرعی نص کے مقابل ہو؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں دونوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ عرفِ عام سے عام حکم ثابت ہوتا ہے، جبکہ عرفِ خاص سے خاص حکم ثابت ہوتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ عرف کا حکم اپنے ماننے والوں کے حق میں نافذ ہوتا ہے، خواہ وہ عرف عام ہو یا خاص۔ لہٰذا اگر کوئی عرف کسی مخصوص شہر یا علاقے میں عام ہو تو اس کا حکم بھی اسی شہر یا علاقے کے لوگوں کے ساتھ خاص ہوگا۔اسی لیے علامہ سید احمد حموی علیہ الرحمہ نے حاشیہ الأشباہ میں فرمایا ہے:یہ عبارت کہ عرفِ خاص سے عام حکم ثابت نہیں ہوتا' اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عرفِ خاص سے خاص حکم ضرور ثابت ہوتا ہے۔"لہٰذا فقہی عبارات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عرفِ خاص بھی معتبر ہے، اگرچہ وہ مذہب کی منصوص کتابوں میں مذکور حکم کے خلاف ہو، بشرطیکہ وہ کسی شرعی نص کے مخالف نہ ہو، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔یہ کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے کہ عرفِ خاص کا مطلقاً اعتبار نہیں، جبکہ ہر شخص اپنے کلام سے وہی معنی مراد لیتا ہے جو اس کے ماحول میں متعارف ہوتے ہیں؟میں کہتا ہوں: ہماری اس وضاحت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ الأشباہ میں جو یہ مذکور ہے کہ مذہب کے مطابق عرفِ خاص کا اعتبار نہیں، اس سے مراد صرف وہ صورت ہے جب عرفِ خاص کسی شرعی نص کے معارض ہو؛ ایسی صورت میں نہ اس کی بنا پر قیاس کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ حدیث و اثر کی تخصیص کی جا سکتی ہے۔ بخلاف عرفِ عام کے، جس کی تفصیل پہلے باب میں الذخیرہ کے حوالے سے گزر چکی ہے۔البتہ جب عرفِ خاص مذہب کے امام سے منقول فقہی نص کے مقابل ہو تو وہ معتبر ہے، اور یہی طریقہ متون، شروح اور کتبِ فتاویٰ کے مصنفین نے ان متعدد فروع میں اختیار کیا ہے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے، بلکہ ان کے علاوہ بھی۔مزید یہ کہ عرفِ خاص کی طرح عرفِ عام میں بھی قدیم اور نیا، دونوں قسم کا عرف معتبر ہوتا ہے۔ (نشر العرف ٢/١٧٢-١٨٣،دار الكتب العلمية)

    شرح العقود میں ہے:"أن جمود المفتي أو القاضي على ظاهر المنقول مع ترك العرف والقرائن الواضحة والجهل بأحوال الناس، يلزم منه تضييع حقوق كثيرة وظلم خلق كثيرين"ترجمہ:مفتی یا قاضی اگر عرف، واضح قرائن اور لوگوں کے حالات کو نظر انداز کرکے محض منقول عبارت کے ظاہری مفہوم پر اصرار کرے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سے حقوق ضائع ہو جاتے ہیں اور خلقِ خدا کی ایک بڑی تعداد ظلم کا شکار ہو جاتی ہے۔ (شرح عقود رسم المفتی،ص:248،دار الکتب العربیہ)

    واللہ اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد یونس انس القادری

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    09صفر المظفر 1448ھ/24جولائی 2026ھ کو جاری کیا گیا