سوال
صدقہ فطر کی مقدار اوزان یعنی گرام میں کتنی ہے؟
سائل: علی محمد :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صدقہ فطر کی مقدار گندم اور آٹے سے نصف صاع جبکہ جو، کھجور یا کشمش سے ایک صاع ہے، اور یہ مقدار احادیث طیبہ سے ثابت ہے ، چناچہ نسائی میں ہے: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ۔ ترجمہ:رسول اللہﷺ نے بچے اور بڑے پر صدقہ فطر گندم سے نصف صاع یا کھجور و جو سے ایک صاع فرض فرمایا۔(سنن النسائی، حدیث نمبر : 1508)0
ترمذی میں ہے:عن ابن عمر قال: «فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم صدقة الفطر على الذكر والأنثى، والحر والمملوك صاعا من تمر، أو صاعا من شعير» ، قال: فعدل الناس إلى نصف صاع من بر۔ ترجمہ: رسول اللہﷺ نے مرد عورت، آزاد و غلام پر صدقہ فطر کھجور اور جو سے ایک صاع فرض فرمایا۔پھر لوگوں نے گندم کا نصف صاع اس کے برابر کرلیا۔(ترمذی ، باب ماجاء فی صدقۃ الفطر حدیث نمبر 675)
علامہ کاسانی رحمہ اللہ تعالٰی رقمطراز ہیں : ولنا ما روينا من حديث ثعلبة بن صغير العذري أنه قال خطبنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: «أدوا عن كل حر وعبد نصف صاع من بر، أو صاعا من تمر، أو صاعا من شعير» وذكر إمام الهدى الشيخ أبو منصور الماتريدي أن عشرة من الصحابة - رضي الله عنهم - منهم أبو بكر وعمر وعثمان وعلي - رضي الله عنهم - رووا عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في صدقة الفطر نصف صاع من بر ۔ترجمہ:ہماری دلیل وہ حدیث مبارک ہے جو حضرت ثعلبہ بن صغیر عذری سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایاآپ نے فرمایا ہر آزاد اور غلا، نصف صاع گندم سے یا ایک صاع کھجور اور جو سے اور امام الھدٰی ابو منصور ماتریدی نے ذکر فرمایا کہ دس صحابہ نے رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کی مقدار گندم سے نصف صاع روایت فرمائی جن میں ابوبکر، عمرو عثمان و علی (رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین)شامل ہیں ۔(بدائع الصنائع، کتاب الزکوۃ، باب الزکوۃ الواجبہ جلد 2 ص 72)
پھر صاع دو طرح کے ہیں ایک صاع اہل مدینہ کا ہے جسے صاعِ حجازی کہتے ہیں اور دوسرا صاع اہل عراق کا ہے جسے صاعِ عراقی اور صاعِ بغدادی کہتے ہیں ۔ فقہاء کے مابین اس میں اختلاف ہے کہ صدقہ فطر کے باب میں کونسا صاع واجب ہے ؟ امام ابو سف کے نزدیک صاعِ حجازی واجب ہے جسکی مقدار پانچ ارطال اور ثلث رطل (چھٹے کا ایک تہائی) یہی امام شافعی کا قول ہے۔جبکہ طرفین(امام عظم و امام محمد ) کے نزدیک صاعِ عراقی واجب ہے جسکی مقدار آٹھ ارطال ہیں ۔
چناچہ علامہ زیلعی فرماتے ہیں: الصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ بِالْبَغْدَادِيِّ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ وَهُوَ مَذْهَبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ وَهُوَ مَذْهَبُ أَهْلِ الْحِجَازِ ۔ترجمہ:صاع آٹھ رطل بغدادی ہیں اور یہ امام ابوحنیفہ و امام محمد کے نزدیک ہے اور یہی اہل عراق کا مذہب ہے اور امام ابو یوسف نے فرمایا پانچ رطل اور (چھٹے کا)ثلث رطل، اور یہ اہلِ حجاز کا مذہب ہے۔(تبیین الحقائق، شرح کنز الدقائق،جلد1 ص 309، بیروت )
علامہ کاسانی حنفی لکھتے ہیں: والصاع ثمانية أرطال بالعراقي عند أبي حنيفة ومحمد، وعند أبي يوسف خمسة أرطال وثلث رطل بالعراقي وهو قول الشافعي ۔ترجمہ: امام ابوحنیفہ و امام محمد کے نزدیک صاع آٹھ رطلِ عراقی ہیں، جبکہ امام ابو یوسف کے نزدیک پانچ رطل اور (چھٹے کا)ثلث رطل، اور یہی امام شافعی کا قول ہے۔(بدائع الصنائع، کتاب الزکوۃ، باب الزکوۃ الواجبہ جلد 2 ص 73)
شامی میں ہے: اختلف في الصاع فقال الطرفان ثمانية أرطال بالعراقي وقال الثاني خمسة أرطال وثلث۔ترجمہ:صاع (کی مقدار ) میں اختلاف ہے طرفین نے کہا کہ آٹھ رطلِ عراقی ہیں جبکہ امام ابویوسف نے فرمایا پانچ رطل اور (چھٹے کا)ثلث رطل۔(رد المحتار علی الدر المختار ، باب صدقۃ الفطر جلد 2 ص 365)
بعض فقہاء نے فرمایا کہ درحقیقت ان دونوں مذاہب میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ امام ابو یوسف نے صاعِ حجازی سے پیمائش کی ہے اور اسکی مقدار پانچ رطل اور (چھٹے کا)ثلث رطل ہے ، اور مدینہ کا رطل تیس استار کا ہوتا ہے اس اعتبار سے پانچ رطل اور (چھٹے کا)ثلث میں کل 160 استار ہوئے ۔
طرفین نے صاعِ عراقی سے پیمائش کی جس کی مقدار آٹھ رطل ہے اور عراق کا رطل بیس استار کا ہے تو اس اعتبارسے آٹھ رطل عراقی میں بھی کل 160 استار ہوئے۔اس طرح دونوں مذہبوں پر ایک ہی مقدار متعین ہوئی۔
علامہ زیلعی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:وإنما أبو يوسف لما حرر صاع أهل المدينة وجده خمسة أرطال وثلث برطل أهل المدينة وهو أكبر من رطل أهل بغداد لأنه ثلاثون إستارا والرطل البغدادي عشرون إستارا فإذا قابلت ثمانية أرطال بالبغدادي بخمسة أرطال وثلث بالمدني تجدهما سواء فوقع الوهم لأجل ذلك وهو أشبه لأن محمدا رحمه الله لم يذكر في المسألة خلاف أبي يوسف ولو كان فيه لذكره وهو أعرف بمذهبه ۔ ترجمہ: امام ابو سف نے جب مقدار میں اہل مدینہ کا صاع لکھا تو انہوں نے اسے مدینہ کے رطل کے اعتبار سے پانچ اور(چھٹے کا) ایک ثلث رطل پایا اور وہ(رطل مدینہ) بغداد کے رطل سے بڑا ہے کیونکہ وہ(رطل مدینہ)تیس استار ہے جبکہ بغدادی رطل بیس استار ہے تو جب آپ آٹھ رطل عراقی کو پانچ اور(چھٹے کا) ایک ثلث رطل کے مقابل کرو گے تو دونوں کو برابر پاؤ گے بس اسی وجہ سے (اختلاف کا)وہم ہوا۔ اور یہی اشبہ ہے کیونکہ امام محمد نے اس مسئلے میں امام ابویوسف کا اختلاف ذکر نہیں فرمایا اگر اختلاف ہوتا تو ضرور ذکر فرماتے کیونکہ یہ وہ امام ابویوسف کے مذہب کو زیادہ جانتے تھے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 2 ص 140،141، مکتبہ برکاتِ رضا)
شامی میں ہے: قيل لا خلاف؛ لأن الثاني قدره برطل المدينة؛ لأنه ثلاثون إستارا والعراقي عشرون وإذا قابلت ثمانية بالعراقي بخمسة وثلث بالمديني وجدتهما سواء وهذا هو الأشبه؛ لأن محمدا لم يذكر خلاف أبي يوسف ولو كان لذكره؛ لأنه أعرف بمذهبه وتمامه في الفتح۔ترجمہ:کہا گیا ہے کہ یہ اختلاف نہیں ہے، کیونکہ امام ابویوسف نے مدینہ کے رطل سے مقدار بیان کی ہے کیونکہ وہ تیس استار ہیں اور عراقی رطل بیس استار ہیں اور جب آپ آٹھ رطل عراقی کو پانچ اور(چھٹے کا) ایک ثلث رطل کے مقابل کرو گے تو دونوں کو برابر پاؤ گے اور یہی اشبہ ہے کیونکہ امام محمد نے اس مسئلے میں امام ابویوسف کا اختلاف ذکر نہیں فرمایا اگر اختلاف ہوتا تو ضرور ذکر فرماتے کیونکہ یہ وہ امام ابویوسف کے مذہب کو زیادہ جانتے تھے۔ اور اسکی مکمل بحث فتح میں ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار ، باب صدقۃ الفطر جلد 2 ص 365)
علامہ طحطاوی لکھتے ہیں:وهو ثمانية أرطال بالعراقي" وقول أبي يوسف الصاع ما يسع خمسة أرطال وثلثا مراده بالرطل رطل المدينة وهو ثلاثون أستار أو رطل العراق عشرون أستارا فيكون المجموع على القولين مائة وستين أستارا والأستار ستة دراهم ونصف۔ترجمہ:اور صاع آٹھ رطل عراقی ہیں، جبکہ امام ابویوسف کے قول کے مطابق صاع وہ ہے جس میں پانچ اور(چھٹے کا) ایک ثلث رطل آجائے ۔ انکی مراد رطل سے، رطل مدینہ ہے اور وہ تیس استار ہے جبکہ عراقی رطل بیس استار ہے تو دونوں قولوں اک مجموعہ ایک سو ساٹھ دراہم ہیں۔جبکہ ایک استار ساڑھے چھ درہم کا ہے۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح ص 724)
بلکہ بعض فقہاء نے صاع میں اختلاف کا ہی انکار کیا ہے انہوں کہا کہ اختلاف رطل یا مد میں ہے: جیساکہ علامہ عینی البنایہ فی شرح الہدایہ میں لکھتے ہیں: وفي"المستصفى"وقيل: الاختلاف بينهم في الرطل لا في الصاع. وفي " شرح الإرشاد " الاختلاف بينهم في المد، فإن المد عندنا رطلان، وعندهم رطل وثلث، ولا خلاف أن الصاع أربعة أمداد۔ ترجمہ:اور مستصفٰی میں ہے کہ کہا گیا ہے کہ اختلاف رطل میں ہے نہ کہ صاع میں۔اور شرح الارشاد میں ہے کہ اختلاف مد میں ہے کہ ہمارے نزدیک مد دو رطل ہیں جبکہ انکے نزدیک ایک رطل اور ثلث ۔ لیکن اس بات میں اختلاف نہیں کہ صاع چار مد ہے۔(البنایہ شرح الہدایہ، وقت وجوب صدقۃ الفطر، جلد 3 ص 502)
گرام کے اعتبار سے صاع کی مقدار:
ما قبل میں یہ بات واضح ہوچکی کہ صدقہ فطر کی مقدار گندم و آٹاکے اعتبار سے نصف صاع اور جو اور کھجور وغیرہ کے اعتبار سے ایک صاع ہے ۔اور ایک صاع میں چار مُد ہوتے ہیں ، ایک مُددو رطل ،اور ایک رطل بیس استار ہے اور ایک استار ساڑھے چار مثقال ہے اور ایک مثقال ساڑھے چار ماشہ ہے ۔، اور ایک تولہ میں بارہ ماشے ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے صاع میں دو سو ستر تولے ہوئے۔ پھر ایک ماشہ 0.972 گرام کا ہوتا ہے۔
تو ایک تولہ 11.664گرام
ایک مثقال(ساڑھے چار ماشہ ) 4.374گرام
ساڑھے چار مثقال (ایک استار) 19.683 گرام
بیس استار (ایک رطل ) 393.66گرام
دو رطل(ایک مد) 787.32گرام
چار مُد(ایک صاع) 3149.28گرام
ایک صاع (گرام میں ) 3149.28گرام
نصف صاع 1574.64گرام
دو سو ستر تولہ کا وزن(جو کہ ایک صاع ہے) 3149.28گرام
علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:اعلم أن الصاع أربعة أمداد والمد رطلان والرطل نصف من والمن بالدراهم مائتان وستون درهما وبالإستار أربعون والإستار بكسر الهمزة بالدراهم ستة ونصف بالمثاقيل قيل أربعة ونصف كذا في شرح درر البحار فالمد والمن سواء كل منهما ربع صاع ۔ ترجمہ:جان لو کہ صاع چار مد ہیں اور مد دو رطل ہیں اور رطل نصف من ہے اور من دراہم کے اعتبار سے 260 درہم ہے اور 40 استار ہیں اور استار ساڑھے چھ مثقال ہیں ، اور بعض نے کہا کہ ساڑھے چار مثقال ہے اسی طرح دررالبحار میں ہے ۔تو من اور مد برابر ہیں ان میں سے ہر ایک صاع کا چوتھائی ہے ۔(رد المحتار علی الدرالمختار شرح تنویر الابصار، کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر جلد 2 ص 365 )
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:صاع چارمُد ہے اور مد دو۲ر طل، اور ر طل بیس استار، اور استار ساڑھے چار مثقال ، اور مثقال ساڑھے چار ماشے، اور تولہ بارہ ۱۲ ماشے ، اور انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے ، تو صاع دوسو ستّر۲۷۰ تولے۔(فتاوٰ ی رضویہ ، کتاب الزکوۃ ، جلد 10 ص 296رضا فاؤنڈیشن لاہور)
علامہ ابن ھمام فرماتے ہیں:(ثم يعتبر نصف صاع من بر من حيث الوزن عند أبي حنيفة) وجهه أن العلماء لما اختلفوا في أن الصاع ثمانية أرطال أو خمسة وثلث كان إجماعا منهم أنه يعتبر بالوزن۔ترجمہ:امام اعظم کے نزدیک گندم کے نصف صاع کا اعتبار وزن کے اعتبار سے ہو۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ جب علماء کا اس بات میں اختلاف ہوا کہ صاع آٹھ رطل ہے یا پانچ اور(چھٹے کا) ایک ثلث رطل۔ تو انہوں نے اجماع کرلیا کہ اعتبار وزن کیا جائے گا۔(فتح القدیر ، باب صدقۃ الفطر جلد 2 ص 297)
یہاں تک یہ بات واضح ہوئی کہ صاع ، دو سو ستر تولہ کا ہے جو کہ گرام کے اعتبار سے 3149.28ہے۔
اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کے زمانے میں روپیہ (چاندی کا سکہ )سوا گیارہ ماشہ (10.935گرام)کا ہوتا تھا، اس اعتبار سے دو سو ستر تولہ (جو کہ ایک صاع ہے )کے 288 روپے(چاندی کے سکے سے) ہوئے ۔ اور دونوں (دو سو ستر تو لہ اور 288 روپےچاندی کے سکے سے)کا گرام کے اعتبار سے وزن 3149.28 گرام ہوا۔
اسی طرح ایک سو پینتیس تولہ( جو کہ نصف صاع ہے) کے 144 روپے(چاندی کے سکے سے ) ہوئے۔اوردو نوں(ایک سو پینتیس تولہ اور 144 روپے چاندی کے سکے سے) کا وزن 1574.64گرام ہوا۔
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: روپیوں سے دوسواٹھاسی ۲۸۸ روپے بھر،تو اسی۸۰ روپے کے سیر سے ۳ سیر ۹ چھٹانک اور ۳/۵ چھٹانک ، یا یُوں کہئے کہ ساڑھے تین سیر ڈیڑھ چھٹانک اور ۱/۱۰ چھٹانک۔ اس حساب میں کوئی شک نہیں، اسی تول کے گیہوں دئے جاتے تھے ۔ لما فی الفتح یعتبر نصف صاع من برمن حیث الوزن عند ابی حنیفۃ۔کیونکہ فتح میں ہے کہ امام ابوحنیفہ کے ہاں وزن کے اعتبار سے نصف صاع گندم کا اعتبار ہے۔(فتاوٰ ی رضویہ ، کتاب الزکوۃ ، جلد 10 ص 296رضا فاؤنڈیشن لاہور)
لیکن اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ نے علامہ شامی کی اس احتیاط کو پسند فرمایا کہ صاع جَو کا لیا جائے اور اس وزن کے گندم دیئے جائیں۔تو اس احتیاط میں وزن بڑھ جائے گا کہ گندم و جَو کے دانوں میں تفاوت ہے تخلخلا اور تجسما(دانوں کے دومیان خلا اور جسامت ) ہر دو اعتبار سے ۔پھر جب جَو کے صاع میں گندم بھرکے دیکھا تو وہ 351 روپے(چاندی کے سکوں سے)کے برابرآئے۔
اعلٰی حضرت کے زمانے کا ایک روپیہ سوا گیارہ ماشہ 10.935گرام
ایک صاع 351 روپے 3948.75ماشہ 3838.185گرام
نصف صاع 175.5روپے 1974.375ماشہ 1919.09گرام
چناچہ اعلٰی حضرت ،عظیم المرتبت لکھتے ہیں: رمضان المبارک ۲۷ سے علامہ شامی کی یہ احتیاط زیادہ پسند آئی کہ صاع لیا جائے جَو کا، اوراس کے وزن کے گیہوں دئے جائیں، ظاہر ہے کہ جو ہلکا ہے جتنے برتن میں دوسوستّر ۲۷۰تولے جَو آئیں گے جب وہ گیہوں سے بھر اجائے گا تول میں زیادہ چڑھیں گے، اس میں فقیروں کا نفع زیادہ ہے۔ردالمحتار میں ہے: علی ھذا الاحوط تقدیرہ بالشعیر ولھذانقل بعض المحشین عن حاشیۃ الزیلعی للسید محمد امین میر غنی، ان الذی علیہ مشائخنا بالحرم الشریف المکی ومن قبلھم من مشائخھم وبہ کانوایفتون تقدیرہ بثمانیۃ ارطال من الشعیر ولعل ذٰلک لیحتاطوافی الخروج عن الواجب بیقین لما فی مبسوط السرخسی من ان الاخذ بالاحتیاط فی باب العبادات واجب اھ فاذاقدربذٰلک یسع ثمائیۃ ارطال من العدس ومن الحنطۃ ویزید علیھا البتۃ بخلاف العکس فلذاکان تقدیر الصاع بالشعیر احوط الخ ۔ ترجمہ:اس بنا پر احتیاط اسی میں ہے کہ اس کا تقرر جَوسے ہو، اسی لیے بعض محشین نے حاشیہ زیلعی للسید محمد امین میر غنی سے نقل کیا، حرم مکی کے مشائخ اور ان سے پہلے ان کے مشائخ نے اسی پر اعتماد کیا اور وہ اسی پر فتوٰی دیا کرتے تھے کہ آٹھ رطل جَو کا اعتبار ہوگا، اور شاید انھوں نے یہ اس لیے کیا تاکہ واجب کی ادائیگی بالیقین ہوجائے اور اس لیے بھی کہ مبسوط سرخسی میں ہے کہ عبادات کے معاملے میں احتیاط پر عمل واجب ہوتا ہے اھ جب صاع کا تقرر یُوں ہواتو اب مسور اور گندم کے آٹھ رطل کی گنجائش بھی ہوگی اوریہ اس سے بہر صورت بڑھ جائیں گے بخلاف عکس کے۔ اسی لیے صاع کا تقرر جَو کے ساتھ کرنا احوط ہے ۔
اس بناپر بنظرِ احتیاط وزیادتِ نفعِ فقراء فقیر نے ۲۷ماہ مبارک ۱۳۲۷ھ کو ایک سوچوالیس روپیہ بھر جَو وزن کئے کہ نصف صاع ہُوئے اور انھیں ایک پیالے میں بھرا حُسنِ اتفاق کہ تام چینی کا ایک بڑا کاسہ گویا اسی پیمانہ کا ناپ کر بنایا گیا تھا وُہ جَو اس میں پوری سطح مستوی تک آگئے من دون تکویم ولا تقعیر(بغیر ابھار اور گہرائی کے)تو وہی کاسہ نصف صاع شعیری ہُوا، پھر میں نے اُسی کاسہ میں گیہوں بھر کر تولے توبریلی کے سیر سے (۔۔۔۰۱) ثار اور ایک اٹھنی بھر ہُوئے یعنی ایک سو پھچتّر رو پے آٹھ آنہ بھر، تویہ وزنِ گندم ہوا، اور اس کا دوچند ۳۵۱ روپیہ بھر وزن جَو۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔(فتاوٰ ی رضویہ ، کتاب الزکوۃ ، جلد 10 ص 297،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: گیہوں کا صاع دوسوستر۲۷۰ تولے ہے کہ انگریزی روپے سے دوسواٹھاسی ۲۸۸ روپے بھر ہوئے۔ نصف صاع کے ایک سوچوالیس ۱۴۴ روپے بھر گیہوں۔ لکھنؤکا سیر اسی ۸۰ روپے بھر کا ہے تو اس سے دوسیر ہوئے ، سیر کا ۱/۵ یعنی پونے دوسیر سے چار روپے بھر اوپر، لیکن زیادہ احتیاط یہ ہے کہ جَو کے صاع سے گیہوں دئے جائیں جَو کے صاع میں گیہوں تین سوا کاون ۳۵۱ روپے بھر آتے ہیں تو نصف صاع ایک سو پچھتر ۱۷۵ روپے آٹھ آنے بھر ہوا۔(فتاوٰ ی رضویہ ، کتاب الزکوۃ ، جلد 10 ص 295،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
خلاصہ یہ ہوا کہ ایک صاع (بحساب صاع شعیری)میں 3838.185گرام یعنی چار کلو سے 161 گرام کم اور نصف صاع میں 1919.09گرام یعنی دو کلو میں 81 گرام کم ہیں۔
لیکن یاد رہے کہ قیمت کا اعتبار کرتے وقت گند م یا اسکے آٹے سےپورے دو کلو،جبکہ جو،کھجور،کشمش اور دیگر اجناس سے 3149.28گرام کی قیمت لگائی جائے۔
کیونکہ درج بالا سطور میں جو گزرا کہ احتیاطاً گندم یا اس کے آٹے کے ذریعہ جب صدقہ فطر دیا جائے تو پیمائش میں جَو کا صاع لیا جائے اور اس میں گندم بھرے جائیں،یہ احتیاط محض گندم اور آٹے میں ہے، دیگر اجناس میں اصلِ صاع کا ہی اعتبار کیا جائے گا یعنی جو 270 تولہ ہے ، اور بحساب گرام 3149.28گرام کا ہے۔
مذکورہ فرق ملحوظ خاطر نہ رکھنے کی وجہ سے بعض علمائے کرام نے دیگر اجناس کی قیمت کا اعتبار گندم اور اس کے آٹے کی طرح صاعِ شعیری سے کیا ہے ۔جس وجہ سے ان اجنا س کی قیمتیں بڑھ گئیں جو کہ قطعا احتیاط نہیں بلکہ غیرمطلوب اضافہ ہے۔ کیوں کہ اگر دیگر اجناس میں ان گراموں(یعنی وہ گرام جو بعد از احتیاط بحساب صاعِ شعیری معتبر مانے) کو دگنا کیا جائے تو 3838.185گرام ہونگے۔ حالانکہ انکو اصلِ صاع کے وزن کے بمطابق 3149.28گرا م ہونا چاہیے تھا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:12 صفر المظفر 1443 ھ/20 ستمبر2021 ء