سوال
آج کل علاقے کے علاوہ دور دور قبرستانوں میں بھی قبر کے لئے جگہ بمشکل ملتی ہے ، ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکی قبر اسکے نزدیکی قبرستان میں بنے۔ اسی طرح میری یہ خواہش ہے کہ میری قبر اس قبرستان میں بنے جہاں میری والدہ کی قبر ہے ، اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں پہلی یہ کہ اسی قبرستان میں کسی دوسری جگہ قبر بنائیں دوسری یہ کہ میری والدہ کی قبر میں ہی مجھے دفن کیا جائے کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ کیونکہ اگر ہم وہاں خود کی یا اپنے کسی عزیز کی قبر نہ بنائیں تو گورکن کسی اور شخص کی قبر بنادیتے ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ والدہ کی قبر میں بیٹے یا بیٹے کی زوجہ کو دفن کرنا جائز ہے یا نہیں ؟شریعت کی روشنی میں مفصل جواب سے سرفراز فرمائیں ۔
سائل: محمود عبدالقادر:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بلاضرورت ایک قبر میں دو مردے دفنانے کی اجازت نہیں ہے ، کیونکہ اس صورت میں بلاضرورت قبر کشائی لازم آئے گی جو کہ ممنوع ہے۔ہاں اگر ضرورت ہو اور ضرورت بھی ایسی کہ جسے ضرورت شدیدہ سمجھا جائے تو اس صورت میں اجازت ہےورنہ سخت حرام ہے۔اور اجازت بھی اس شرط کے ساتھ میت اول خاک ہوچکی ہے۔ امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہام رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں : لایدفن ا ثنان فی قبرواحد الا لضرورۃ ولایحفر قبر لدفن اٰخر الا ان بلی الاول فلم یبق لہ عظم الا ان لایوجد بد فیضم عظام الاول ویجعل بینھما حاجز من تراب ۔ ترجمہ: بلاضرورت ایک قبر میں دو کا دفن جائز نہیں، نہ بلامجبوری دوسرے کے دفن کے لئے قبر کھودنے کی اجازت، مگر جبکہ پہلا بالکل خاک ہوگیا ہو کہ اس کی ہڈی تک نہ رہی، ہاں مجبوری ہو تو ہڈیاں ایک طرف جمع کرکے انھیں اور اس میّت میں مٹی کی آڑ قائم کردیں ۔( فتح القدیر فصل فی الدفن ،جلد 2 ص 102)
امام محمد ابن امیر الحاج رحمہ اﷲ تعالٰی حلیہ میں فرماتے ہیں : یکرہ ان یدفن فی القبر الواحد اثنان الالضرورۃ وبھذا تعرف کراھۃ الدفن فی الفساقی، خصوصا ان کان فیھا میّت لم یبل، واما ما یفعلہ جھلتہ اغبیاء من الحفارین وغیر فی المقابر المسبلۃ العامۃ وغیرھا من بنش القبور التی لم یبل اربابھا وادخال اجانب علیھم، فھو من المنکر الظاھر الذی ینبغی لکل واقف علیہ انکار ذلک علی متعاطیہ بحسب الاستطاعۃ فان کف والا دفع الٰی اولیاء الامور وفقھم اﷲ تعالٰی لیقا بلوہ بالتادیب، ومن المعلوم ان لیس من الضرورۃ المبیحۃ جمع میّتین ابتداء فی قبر واحد لقصد دفن الرجل مع قریبہ او ضیق محل الدفن فی تلک المقبرۃ مع وجود وغیرہا وان کانت تلک المقبرۃ مما یتبرک بالدفن فیھا البعض من بھا من الموتٰی فضلا عن کون ھذہ الامور و ما جری مجرھا مبیحۃ للنبش وادخال البعض علی البعض قبل البلی مع مایحصل فی ضمن ذلک من ھتک حرمۃ المیّت الاول وتفریق اجزائہ فالحذر من ذلک ۔ترجمہ: بلا ضرورت ایک قبر میں دو میت کا دفن جائز نہیں، اور یہیں سے ظاہر ہو ا کہ تَہ خانوں میں دفن منع ہے خصوصاً جبکہ وہاں کوئی میّت موجود ہو جو ابھی خاک نہ ہوا او ر وہ جو بعض گورکن وغیرہ جاہلان بد عقل کرتے ہیں کہ وقفی یا غیر وقفی قبرستان میں وہ قبر جس کا مردہ ہنوز خاک نہ ہو کھود کر دوسرا دفن کردیتے ہیں، یہ صریح معصیت ہے۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ حتی الامکان انھیں ایسا کرنے سے خود روکے، او راس کے روکے نہ رُکیں تو حکام کو اطلاع دیں کہ وہ ان لوگوں کو سزا دیں، اور شریعت سے معلوم ہے کہ کسی کو اس کے عزیز یا تبرک کے لئے کسی مزار کے پاس دفن کرنے کی غرض سے ابتداء دو جنازے ایک قبر میں رکھنا حلال نہیں جبکہ وہاں دوسرا مقبرہ موجود ہو، نہ کہ ان وجوہ کے لیے اگلی قبر کھود نا، او ر ایک کے خاک ہونے سے پہلے دوسرے کا اس میں داخل کرنا، یہ کیسے حلال ہوسکتا ہے حالانکہ اس میں پہلے میّت کی ہتک حرمت اور اس کے اجزاء کا متفرق کرنا ہے تو خبردار اس حرکت سے بچو۔( رد المحتار بحوالہ حلیہ ملخصاً باب صلٰوۃ الجنائزجلد 01 ص 598 ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر )
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : ہمارے رسالہ اھلاک الوھابیین سے ثابت ہے کہ میّت اگر چہ خاک ہوگیا ہو بلاضرورت شدید اس کی قبر کھود کر دوسرے کا دفن کرنا جائز نہیں جیسا کہ تارتاخانیہ وغیرہا میں فرمایا، مگر کسی کی مملوک زمین ہے خاک ہوجانے کے بعد وہ اپنی ملک میں تصرف کرسکتا ہے، عبارتِ تبیین کا یہی محل ہے، بہر حال خاک ہوجانے سے پہلے بلا مجبوری کسی کی نزدیک جائز نہیں۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الجنائز،جلد 9 ص 390،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ایک اور مقا م پر ارشاد فرماتے ہیں : فانہ فی المنع من الحفر ان لایبقی عظم اصلا لافی ھذا' علٰی انہ بحث فیہ علٰی خلاف المنصوص اقول وقد یکون عظم امرأۃ فکیف یحل للاجانب النظر الیہ ومسہ کشعرھا المقطوع کمانصوا علیہ فافھم۔ اس لئے کہ کھودنامنع ہے ۔مگر یہ کہ اصلا کوئی ہڈی باقی نہ رہ جائے ۔اس کے بارے میں ممانعت نہیں، علاوہ ازیں اس مسئلہ میں نص کے خلاف بحث ہے ۔اقول ایسا بھی ہوسکتا ہے، کہ ہڈی کسی عورت کی ہو تو نامحرموں کا اسے دیکھنا چھونا کیسے جائز ہوگا؟علمائے کرام نے ا س کی تصریح فرمائی ہے تواسے سمجھو۔(ایضا)
واﷲ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 جمادی الاول 1441 ھ/16 جنوری 2020ء