سوال
1:اگر اقامت کے دوران دوسری مسجد سے اذان کی آواز آئے تو کیا اقامت کو روک کر دوسری مسجد کی اذان کا جواب دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر کوئی شخص زبردستی مکبر کو روکے تو اسکا کیا حکم ہے۔؟؟
2: دوسرا یہ کہ فرض نماز کے بعد مسجد کے تعمیراتی کام کے لئے امام چندہ کا اعلان کرکے چندہ مانگ سکتا ہے یا نہیں؟ اگرمانگ سکتا ہے تو اگر کوئی شخص چندہ کرنے سے روکے اور کہے کہ تم لوگوں سے بھیک مانگتے ہواس شخص کا کیا حکم ہے۔
سائل:مولانا ابرار احمد:شاہ فیصل ٹاؤن ،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: اذان کا جواب دینا سنت ہے۔لیکن مشایخ کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ اذان کا جواب زبان کے ذریعے ہےیا فعل یعنی مسجد میں جاکر نماز میں حاضر ہونے کے ذریعے ہے ۔ چناچہ فتاوٰی تاتار خانیہ میں ہے :تکلم الناس فی الاجابۃ فقال بعضھم ھی الاجابۃ بالقدم لا باللسان، حتی لو اجاب باللسان ولم یمش الی المسجد لایکون مجیبا ولو کان حاضرا فی المسجد حتٰی سمع الاذان فلیس علیہ الاجابۃترجمہ:علماء کا اذان کا جواب دینے میں اختلاف ہے ۔ بعض نے فرمایا کہ یہ چل کر جواب دینا ہے زبان کے ذریعے نہیں ہے حتی کہ اگر کوئی زبانی جواب دے لیکن مسجد میں نماز پرھنے نہ جائے تو جواب دینے والا نہ ہوگا۔ اور اگر کوئی مسجد میں موجود ہو پھر وہیں اذان سنے تو اس پر جواب دینا لازم نہیں ہے۔(فتاوٰی تاتار خانیہ ،کتاب الصلوۃ ، فصل المتفرقات جلد 2 ص 152)
جبکہ الدر المختار میں ہے :وَالظَّاهِرُ وُجُوبُهَا بِاللِّسَانِ لِظَاهِرِ الْأَمْرِ فِي حَدِيثِ «إذَا سَمِعْتُمْ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ» كَمَا بَسَطَ فِي الْبَحْرِ، وَأَقَرَّهُ الْمُصَنِّفُ، وَقَوَّاهُ فِي النَّهْرِ نَاقِلًا عَنْ الْمُحِيطِ :ترجمہ:ظاہر یہ ہے کہ اذان کا جواب زبان سے دینا لازم ہے کیونکہ حدیث پاک میں جو امر آیااسکا ظاہر یہی ہے، کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم موذن کو سنو تو جیسے وہ کہتا ہے اسکی مثل کہو ۔ جیساکہ بحر میں اسکی تفصیل ہے اور مصنف نے بھی اسی کو برقرار رکھا ،اور نہر میں محیط سے نقل کرتے ہوئے اسی قول کو قوی قرار دیا ۔(تنویر الابصار مع لادر المختار، کتاب الصلوۃ،باب الاذان جلد 2 ص 69)
ظاہر قول کے مطابق جب اذان کا جواب زبان سے ہے ،تو جو پہلی اذان سنی بندے پرزبان کے ذریعے صرف اسی کا جواب ہے ،اسکے علاوہ دیگر اذانوں کا جواب اس پر لازم نہیں ہے ۔جیسا کہ شامی، بحر ، مراقی الفلاح مع حاشیہ طحطاوی وغیرہ میں ہے:واللفظ لہ وإذا تعدد الأذان يجيب الأول مطلقا سواء كان مؤذن مسجده أم لا لأنه حيث سمع الأذان ندبت له الإجابة ثم لا يتكرر عليه في الأصح ذكره الشهاب في شرح الشفاءترجمہ: جب متعدد اذان ہوں تو پہلی کا جواب دے۔خواہ اذان دینے والا اسی مسجد کا موذن ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ جب اذان سنی تو اس کے لئے جواب دینا مستحب ہے ۔ زیادہ صحیح قول کے مطابق پھر جواب کا تکرار نہ کرے ۔اسکو شھاب الدین نے شرح الشفاء میں ذکر کیا ہے۔(مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی، باب الاذان ص 202)
لہذا جب اس مسجد میں اذان ہوچکی اور اب اقامت ہورہی ہے تواس قول کے اعتبار سے اس مسجد والوں پر دوسری مسجد کی اذان کا جواب نہیں ہے۔بلکہ اسکو چا ہیے کہ اقامت کا جواب دے۔کیونکہ اقامت کا جواب دینا بھی مستحب ہے۔جیساکہ تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:وَيُجِيبُ الْإِقَامَةَ، نَدْبًا إجْمَاعًا كَالْأَذَانِ ۔ترجمہ:اور اقامت کا جواب مستحب ہے، جیساکہ اذان کا جواب ہے۔(تنویر الابصار مع لادر المختار، کتاب الصلوۃ،باب الاذان جلد 2 ص 71)
اور اگرجوابِ اذان سے مراد بالفعل جواب ہو یعنی نماز کے لئے مسجد میں آئے ۔ تو مسجد میں موجود لوگ اپنے عمل کے ذریعے اذان کا جواب دے چکے ہیں لہذا اس اعتبار سے بھی ان پر دوسری مسجد کی اذان کا جواب نہیں ہے ،جیساکہ تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:وَلَوْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ سَمِعَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ الْإِجَابَةُ، وَلَوْ كَانَ خَارِجَهُ أَجَابَ) بِالْمَشْيِ إلَيْهِ بِالْقَدَمِ :ترجمہ: اور اگر مسجد میں ہو اور اذان سنے تو اس پر(فعلا) جواب نہیں ہے، اور اگر مسجد سے باہر ہو تو مسجد کی طرف قدم کے ذریعے یعنی مسجد کی طرف چل کر اذان کا جواب دے۔(تنویر الابصار مع لادر المختار، کتاب الصلوۃ،باب الاذان جلد 2 ص 69)
بلکہ یہ بھی اقامت کا ہی جواب دیں کما مر آنفا۔
فقہاء کی مذکورہ نصوص کے بعد سوال کا جواب یہ ہے اقامت کے دوران ہونے والی دوسری مسجد کی اذان کا جواب دینا لازم نہیں ہے ،بلکہ اس وقت ان پر اقامت کا ہی جواب ہے لہذااگر کوئی زبردستی مکبر کو روکے تو ایسا شخص شریعت کے احکام سے جاہل اور ناواقف ہے ۔
2: مسجد کے تعمیراتی کاموں کے لئے امام مسجد کا اعلان کرنا جائز و مستحسن عمل ہے۔سیدی اعلٰی حضرت اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:مسجد میں اپنے لئے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایاہے ، اور کسی دوسرے کےلئے مانگایا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کےلئے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الوقف،جلد 16 ص 418)
اسی طرح آپ سے سوال کیا گیا:زید سندی عالم ہے، مالدار ہے، پانچ سات ہزار روپے کی مالیت رکھتا ہے، چندہ یعنی مانگ کر مسجد بنواتا ہے۔شرعاً جائز ہے یانہیں؟آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں:الجواب:جائز ہے، امور خیر کے لئے چندہ کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، مالدار پر واجب نہیں کہ ساری مسجد اپنے مال سے بنائے، امر خیر میں چندہ کی تحریک دلالت خیر ہے۔ ومن دل علی خیر فلہ مثل اجر فاعلہ۔جو کار خیر کی راہنمائی کرے اس کو بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کارخیر کرنے والے کو۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الوقف،جلد 16 ص 468)
اب اگر کوئی شخص اس خیر کے کام کرنے والے کو روکے یا اس کے بارے میں ایسے الفاظ کہے '' کہ تم لوگوں سے بھیک مانگتے ہیں'' تو ایسا شخص شیطان و نفس کا پیروکار ہے اور دین اسلام کا دشمن ، ظالم اور لوگوں کو اللہ کے ذکر سے روکنے والا ہے۔قال اللہ تعالیٰ: وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا،اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عظیم (۱۱۴)ترجمہ کنز الایمان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ؟جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ۔(البقرۃ: 114)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18 ذوالقعدہ 1440 ھ/22 جولائی 2019 ء