اذان دینے کا شرعی وقت
    تاریخ: 5 جنوری، 2026
    مشاہدات: 44
    حوالہ: 519

    سوال

    ایک مسجد میں اذانِ فجر صبح صادق ہوتے ہی فورا ہوجاتی ہے۔زید کا کہنا ہے کہ اذان نماز قائم ہونے سے زیادہ دیر پہلے نہ دی جائے جبکہ کچھ نمازیوں اور مؤذن کا کہنا ہے کہ وقت شروع ہونے کے بعد اذان دینے میں کوئی قباحت نہیں۔ سوال یہ ہے کہ زید کا اعتراض از روئے شرع درست ہے کہ نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    سائل:عبداللہ:کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    کسی بھی نماز کا وقت شروع ہوتے ہی اذان دی جاسکتی ہے ، لہذا اگر طلوع صبحِ صادق ہوتے ہی فجر کی اذان دے دی جائے تو بھی شرعا کوئی کراہت و قباحت نہیں ہے۔البتہ ہر اذان کا مستحب وقت وہی ہے جو اس نماز کا مستحب وقت ہے ۔اورفجر کی نماز کا مستحب وقت اسفار یعنی جب خوب روشنی پھیل جائے،ہے۔لہذا اہل مسجد کو چاہیے کومستحب وقت میں اذان دیں،یہی بہتر ہے ۔ اور زید کو بھی چاہیے کہ اس معاملہ میں حکمِ شریعت یعنی جواز کومدِ نظر رکھتے ہوئے اعتراض سے باز رہے کہ جہاں شرعی اعتبار سےگنجائش موجود ہے وہاں اپنی رائے سے حکم میں سختی نہیں کرنی چاہیے۔

    اگر وقت شروع ہوتے ہی اذان دے دی گئی اور نماز وقتِ مستحب میں ادا کی گئی تو بھی سنتِ اذان حاصل ہو جائے گی ،جیساکہ کتب فقہ میں مکتوب و مذکور ہے۔

    اذان کب دی جائے اس بارے میں علامہ شامی رقمطراز ہیں:قَالَ نُوحٌ أَفَنْدِي: وَفِي الْمُجْتَبَى عَنْ الْمُجَرَّدِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ يُؤَذِّنُ لِلْفَجْرِ بَعْدَ طُلُوعِهِ، وَفِي الظُّهْرِ فِي الشِّتَاءِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَفِي الصَّيْفِ يُبْرِدُ، وَفِي الْعَصْرِ يُؤَخِّرُ مَا لَمْ يَخَفْ تَغَيُّرَ الشَّمْسِ، وَفِي الْعِشَاءِ يُؤَخِّرُ قَلِيلًا بَعْدَ ذَهَابِ الْبَيَاضِ. قَالَ الْقُهُسْتَانِيُّ بَعْدَهُ: وَلَعَلَّ الْمُرَادَ بَيَانُ الِاسْتِحْبَابِ وَإِلَّا فَوَقْتُ الْجَوَازِ جَمِيعُ الْوَقْتِ۔ترجمہ: نوح آفندی نے فرمایا کہ مجتبٰی میں مجرد سے ہے، امام ابوحنیفہ نے فرمایا فجر کے لئے طلوعِ(صبحِ صادق) کے بعد اذان دی جائے اور سردیوں کی ظہر میں زوال کے وقت اور سردیوں میں جب کچھ ٹھنڈ ہوجائے اور عصر میں اس وقت تک مؤخر کرے جب کہ سورج کا رنگ متغیر نہ ہواور عشاء میں دن کی سفیدی زائل ہونے کے کچھ دیر بعد۔ قہستانی نے اسکے بعد فرمایا کہ یہاں اذانوں کے مستحب اوقات کا بیان کیا گیا ہے وگرنہ وقتِ جواز تو پورا وقت ہے۔(ردالمحتار علی الدر المختار، باب الاذان جلد 1 ص 386)

    اسی میں ہے:وَحُكْمُ الْأَذَانِ كَالصَّلَاةِ تَعْجِيلًا وَتَأْخِيرًا۔ترجمہ:اور اذان میں تعجیل و تاخیر کا حکم نماز کے حکم کی طرح ہی ہے۔(ردالمحتارعلی الدر المختار، باب الاذان جلد 1 ص 385)

    کچھ آگے لکھتے ہیں: فَلَوْ أَذَّنَ أَوَّلَهُ وَصَلَّى آخِرَهُ أَتَى بِالسُّنَّةِ۔ترجمہ:اگر اول وقت میں اذان دی اور آخرِ وقت میں نماز پڑھی تو سنت کی بجاآوری ہوجائے گی۔(ردالمحتار علی الدر المختار، باب الاذان جلد 1 ص 385)

    البحرالرائق میں ہے:لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ اذلابدلھا من دلیل خاص ۔ترجمہ: ترکِ مستحب سے کراہت کا ثبوت نہیں ہوتا کیونکہ اس کیلئے خاص دلیل کی ضرورت ہے ۔ ( البحرالرائق باب العیدین ، جلد 2 ص 163)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 شوال المکرم 1442 ھ/10 جون 2021 ء