سوال
ایک مسجد جو تقریبا 30 سے 33 سال سے قائم ہے، جس کو حاجی امیر بخش نے وقف کیا تھا اور اس کا متولی مولانا غلام فرید نظامی صاحب کو بنایا۔حاجی صاحب کی وصیت کے مطابق حاجی صاحب کو وہاں ایک سائیڈ میں دفن کیا گیا جس کی قبر موجود ہے۔ اس کے ارد گرد نماز پڑھنے کیلئے فرش لگا ہوا ہے اور نماز بھی پڑھی جاتی ہے۔ اب اس کی اولاد چاہتی ہے کہ ہم اپنی ماؤوں کو وہیں حاجی صاحب کے ساتھ مسجد میں دفن کریں گے۔حاجی صاحب کی چار بیویاں تھیں اور سب سے اولاد بھی ہے۔اب دریافت طلب سوال یہ ہے کہ مسجد کیلئے وقف شده زمین میں ان کو شریعت وہاں دفن کرنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں ؟
سائل: متولی غلام فرید نظامی صاحب۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مسجد کو وقف شدہ زمین میں کسی کی تدفین جائز نہیں، کیونکہ جو جگہ مسجد کیلئے وقف ہو،اس میں مصالح مسجد کے علاوہ کسی بھی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں۔البتہ اگر مسجد کے وقف شدہ زمین کے علاوہ کوئی خاص جگہ دفن کیلئے بنائی گئی ہو ، تو وہاں مردوں کو دفن کرنا جائز ہے۔پس اگر حاجی امیر بخش نے اپنی تدفین کیلئے پہلے سے کوئی جگہ خاص کی تھی تو اسے باقی رکھنے میں کوئی حرج نہیں کہ مسلمانوں کے معاملات کو حتی الامکان درستگی پر محمول کیا جاتا ہے۔البتہ حاجی صاحب کی زوجات کا مسجد میں دفن جائز نہیں کہ عوام کی تدفین عام قبرستان میں ہی کی جاتی ہے، کسی خاص مقام کا اہتمام درست نہیں۔
دلائل وجزئیات:
وقف میں موقوف کے علاوہ کسی بھی قسم کا تصرف جائز نہیں،علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"ومن اتخذ أرضه مسجدا لم يكن له أن يرجع فيه ولا يبيعه ولا يورث عنه لأنه تجرد عن حق العباد وصار خالصا لله".ترجمہ:جس کسی نے اپنی زمین کو بطور وقف مسجد بنائی تو اب اسے رجوع کا اختیار نہیں نہ اسے بیچ سکتا ہے نہ اس پر وراثت جاری ہوگی کیونکہ اب یہ زمین حق العباد سے نکل کر خالصۃ اللہ کی ملک میں چلی گئی۔(الہدایۃ، کتاب الوقف،شروط الوقف،3/21 ،دار احیاء التراث العربی)
ایسا ہی المبسوط للسرخسی میں موجود ہے۔( المبسوط للسرخسي، كتاب الوقف،12/34،دار المعرفۃ)
عوام کی تدفین کیلئے خاص مقام کا اہتمام نہیں ،خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"وَلَا يُدْفَنُ صَغِيرٌ وَلَا كَبِيرٌ فِي الْبَيْتِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَإِنَّ ذَلِكَ خَاصٌّ بِالْأَنْبِيَاءِ، بَلْ يُنْقَلُ إلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ اهـ وَمُقْتَضَاهُ أَنَّهُ لَا يُدْفَنُ فِي مَدْفِنٍ خَاصٍّ كَمَا يَفْعَلُهُ مَنْ يَبْنِي مَدْرَسَةً وَنَحْوَهَا، وَيَبْنِي لَهُ بِقُرْبِهَا مَدْفِنًا تَأَمَّلْ".ترجمہ: جس کمرے میں بالغ و نابالغ کسی کا انتقال ہوا تو اسے اسی جگہ دفن نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے،بلکہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔مقصد یہ کہ عام میت کیلئے کوئی خاص مدفن نہ بنایا جائے جیسا کہ بانی مدرسے کیلئے کیا جاتا ہے، اور ان کی قبر مدرسے کے قریب ہی بنادی جاتی ہے، پس اس پر غور کرلو۔(ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت،2/235،دار الفکر)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب