سوال
اسکول وین کتنے دن کا اجارہ لے سکتی ہے؟ جون جولائی میں اسکول کی چھٹیاں ہوتی ہیں، کیا ان چھٹیوں کے دوران بھی ماہانہ اجارہ واجب ہوگا؟ اسی طرح اگر اسکول کی چھٹیاں دو ماہ سے زائد ہو جائیں (جیسا کہ کرونا کے دوران ہوا)، تو کیا ان مہینوں کے اجارے کے مستحق ہوں گے؟
سائل:فرمان،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اصولی طور پر جتنے دن کا اجارہ طے ہوا اتنے عرصے میں طے شدہ خدمات حاصل ہونے پر اجرت لی جاسکتی ہے۔رہی جون جولائی کی چھٹیاں تو اگر بچوں کے سرپرست وین والے کو چھٹیوں سمیت تنخواہ دینے پر خود راضی ہیں تو وین والے کا ان ماہ کی اجرت لینا بلا خلاف جائز ہے۔ اور اگر سرپرست راضی نہ ہوں تو عرف کی وجہ سے ان ماہ کی چھٹیوں کی فیس لیناشرعاجائزہے۔بعض لوگ اپریل کے مہینے میں ہی وین چھڑوا لیتے ہیں تاکہ جون اور جولائی کی اجرت نہ دینی پڑے، لہذا بہتر یہ ہے کہ اسکول وین والے شروع سے ہی کہہ دیں کہ گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس لی جائے گی یا والدین واضح کردیں کہ چھٹیوں کی فیس نہیں دی جائے گی تو یہ درست ہے۔نیز چونکہ ان دو ماہ سے زائد چھٹیوں پر نہ اجارہ ہوا نہ ان میں عرف جاری ہے لہذا ان مہینوں کا اجارہ واجب نہیں ہوگا۔
دلائل و جزئیات:
مجلۃ الاحكام العدليۃ میں ہے:" الْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ لَا يَسْتَحِقُّ الْأُجْرَةَ إلَّا بِالْعَمَلِ".ترجمہ:اجیر مشترک محض عمل سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے۔ (مجلة الأحكام العدلية ، المادة 424،ص: 82، نور محمد، كارخانہ تجارتِ كتب، آرام باغ کراچی)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"لا بد من معرفۃ عادات الناس فکثیر من الاحکام تختلف باختلاف الزمان لتغیر عرف اھلہ او لحدوث ضرورۃ او فساد اھل الزمان بحیث لو بقی الحکم علی ما کان علیہ او لا للزم منہ المشقۃ و الضرر بالناس و لخالف قواعد الشریعۃ المبنیۃ علی التخفیف و التیسیر و دفع الضرر و الفساد لبقاء العالم علی اثم نظام و احسن احکام و لھذا تری مشائخ المذھب خالفوا ما نص علیہ المجتھد فی مواضع کثیرۃ بناھا علی ما کان فی زمنہ لعلمھم بانہ لو کان فی زمنھم لقال بما قالوا بہ اخذاً من قواعد مذھبہ".ترجمہ:لوگوں کی عادتوںکی پہچان ضروری ہے کہ بہت سے احکام ،زمانہ بدلنے سے بدل جاتے ہیں کہ اہل زمانہ کا عرف تبدیل ہونے یا کسی ضرورت کے پیدا ہونے یا اہل زمانہ کے فساد کی وجہ سے ایسی صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ اگر وہ پہلا حکم باقی رہے، تو اس سے لوگوں پر ضرر اور مشقت لازم ہوگااور یہ ان شرعی قوانین کے مخالف ہے کہ جن کی بنیاد تخفیف و تیسیر یعنی آسانی دینے اور ضرر و فساد،دور کرنے پر ہے تاکہ دنیا ، اتم نظام اور احسن احکام پر باقی رہے۔ اسی وجہ سے تم مذہب کے مشائخکو دیکھو گے کہ وہ کثیر مقامات پر اپنے زمانے کے عرف کی بنا پر مجتہد سے منصوص مسئلہ کے خلاف کرتے ہیں ،کیونکہ مجتہد کے مذہب کے قوانین سے اخذ کرتے ہوئے یہ حضرات جانتے ہیں کہ اگر ان کے زمانے میں وہ مجتہد ہوتے تو یہی فرماتے جو انہوں نے فرمایا۔(رسائل ابن عابدین،ج2،ص125،مطبوعہ سھیل اکیڈمی)
علامہ شامی رحمہ اللہشرح عقود میں فرماتے ہیں:"والعرف فی الشرع لہ اعتبار.. .لذا علیہ الحکم قد یدار".ترجمہ: شریعت میں عرف کا اعتبار ہے.. .اسی لیے اس پر حکم کا مدار ہے ۔(شرح عقود رسم المفتی،ص: 212)
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:"الْقَاعِدَةُ السَّادِسَةُ: الْعَادَةُ مُحَكَّمَةٌ... وَاعْلَمْ أَنَّ اعْتِبَارَ الْعَادَةِ وَالْعُرْفِ يُرْجَعُ إلَيْهِ فِي الْفِقْهِ فِي مَسَائِلَ كَثِيرَةٍ حَتَّى جَعَلُوا ذَلِكَ أَصْلًا".ترجمہ:چھٹی چیز عادت محکمہ ہے جان لیجئے عرف کی طرف کثیر مسائل میں رجوع کیا جاتا ہے یہاں تک کہ علماء نے اسے اصل قرار دیا ہے ۔( الأشباء والنظائر،1/79، دارالکتب العلمیہ بیروت )
علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں:"قال الفقيه أبو الليث رحمه الله: ومن يأخذ الأجرة من طلبة العلم في يوم لا درس فيه أرجو أن يكون جائزا".ترجمہ:فقیہ ابواللیث رحمہ اللہ نے فرمایا جو چھٹی والے دن کی فیس بچوں سے لیتا ہے میں امید کرتا ہوں کہ یہ جائز ہو ۔ ( المحیط البرھانی ، کتاب الوقف ،الفصل الثامن عشر فی الرجل یقف علی جماعۃ الخ ،6/190،دارالکتب العلمیہ بیروت )
الاشباہ والنظائرمیں ہے: "إنَّمَا تُعْتَبَرُ الْعَادَةُ إذَا اطَّرَدَتْ أَوْ غَلَبَتْ... وَمِنْهَا الْبَطَالَةُ فِي الْمَدَارِسِ، كَأَيَّامِ الْأَعْيَادِ وَيَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَشَهْرِ رَمَضَانَ فِي دَرْسِ الْفِقْهِ لَمْ أَرَهَا صَرِيحَةً فِي كَلَامِهِمْ. وَالْمَسْأَلَةُ عَلَى وَجْهَيْنِ: فَإِنْ كَانَتْ مَشْرُوطَةً لَمْ يَسْقُطْ مِنْ الْمَعْلُومِ شَيْءٌ، وَإِلَّا فَيَنْبَغِي أَنْ يَلْحَقَ بِبَطَالَةِ الْقَاضِي، وَقَدْ اخْتَلَفُوا فِي أَخْذِ الْقَاضِي مَا رُتِّبَ لَهُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ بَطَالَتِهِ، فَقَالَ فِي الْمُحِيطِ: إنَّهُ يَأْخُذُ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ؛ لِأَنَّهُ يَسْتَرِيحُ لِلْيَوْمِ الثَّانِي. وَقِيلَ: لَا يَأْخُذُ (انْتَهَى) . وَفِي الْمُنْيَةِ: الْقَاضِي يَسْتَحِقُّ الْكِفَايَةَ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ فِي الْأَصَحِّ، وَاخْتَارَهُ فِي مَنْظُومَةِ ابْنِ وَهْبَانَ، وَقَالَ: إنَّهُ الْأَظْهَرُ فَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ فِي الْمَدَارِسِ؛ لِأَنَّ يَوْمَ الْبَطَالَةِ لِلِاسْتِرَاحَةِ، وَفِي الْحَقِيقَةِ يَكُونُ لِلْمُطَالَعَةِ وَالتَّحْرِيرِ عِنْدَ ذِي".ترجمہ:(شرعی احکامات میں لوگوں کی) عادت کا اعتبار اس وقت ہے جب وہ غالب آجائے۔اس میں سے مدارس کی تعطیلات جیسے عید کے دنوں اور یوم عاشورہ اور ماہ رمضان کی چھٹیاں درسِ فقہ میں اس کا حکم فقہاء کے کلام میں صراحت نہیں دیکھا۔مسئلہ کی دو صورتیں ہیں اگر چھٹیاں مشروط ہوں تو مقررہ تنخواہ سے کچھ کٹوتی نہیں ہونی چاہئے ورنہ پھر ان تعطیلات کے حکم کو قاضی کی تعطیلات سے ملحق کر دیا جائے ۔اور قاضی کے لئے بیت المال سے جو وظیفہ ملتا ہے اس کو تعطیلات کے ایام میں لینے کے بارے میں اختلاف ہے پس محیط میں ہے چھٹی کے روز کی تنخواہ لے گا کیونکہ چھٹی آئندہ دن کے لئے راحت حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے بعض نے کہا نہیں لے گا۔ منیہ میں ہے اصح روایت کے مطابق چھٹی کے روز قاضی بیت المال سے اپنی کفایت کا مستحق ہے ،منظومہ ابن وہبان میں اس کو اختیار کیا ہے اور فرمایا یہ اظہر ہے تو مناسب ہے کہ مدارس میں بھی یہی حکم ہو کیونکہ چھٹی کا روز آرام کے لئے ہوتا ہے اور در حقیقت اہل ہمت کے نزدیک مطالعہ اور تحریر کے لئے ہوتا ہے۔(الاشباہ والنظائر،القاعدۃ السادسۃ، المبحث الثانی،1/81، دارالکتب العلمیہ بیروت)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 28 ربیع الاول 1446 ھ/3اکتوبر 2024ء