نوکری کی وجہ سے نمازیں چھوڑنے کا حکم
    تاریخ: 5 جنوری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 518

    سوال

    میں جس جگہ نوکری کرتاہوں، وہاں نماز کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے میری ظہر اور عصر کی نماز قضا ہوجاتی ہے۔جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں ۔آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں مجھے نماز کس طرح قضا کرنی ہے۔

    سائل:عبدالرحمان : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بلا عذر شرعی فرض نمازجان بوجھ کرچھوڑنا بہت بڑا گناہ ہے۔ہرمسلمان کوچاہیےکہ وہ ہر نمازوقت پرادا کرنے کااہتمام کرے اور اگر کبھی کوئی نمازوقت پرادانہ کرسکےتوپہلی فرصت میں اسکی قضا پڑھے۔ نوکری کی وجہ سے نماز چھوڑنا جائز نہیں ہے ۔وہاں کام کرنے والے تمام مسلمان حضرات پر لازم ہے کہ نماز کی ادائیگی کی اجازت حاصل کریں ،یا کسی ایسی جگہ نوکری کریں جہاں نماز کی اجازت ہو۔کہ نماز اسلام کا ایک اہم رکن ہے اور حدیث پاک میں نماز چھوڑنے والے کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے :وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو جاؤ۔ ( الروم، 30 : 31)

    حدیث پاک میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ہی کو مسلمان اور کافر کے درمیان حدِ فاصل قرار دیا۔حضرت بُریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :مَنْ تَرَکَ الصَّلَاةَ فَقَدْ کَفَرَ۔ترجمہ:جس نے (جان بوجھ)کر نماز ترک کی اس نے (گویا) کفر کیا۔( صحیح ابن حبان،جلد 4 ص 323، حدیث نمبر: 1463)

    ایک اور مقام پر اسی مفہوم کی توضیح اس طرح فرمائی گئی ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِی بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَکَهَا فَقَدْ کَفَرَ:ترجمہ: یقینا ہمارے اور ان (کفار)کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہے پس جس نے نماز کو ترک کیا (گویا)اس نے کفر کیا۔(یعنی عہدسے منہ موڑ لیا)۔ ( صحیح ابن حبان،جلد 4 ص 305، حدیث نمبر: 1454)

    بہر حال اب جو نمازیں قضا ہوگئیں ان کیوجہ سے توبہ اور ادائیگی لازم ہےیعنی اُس پر فرض ہے کہ اُس کی قضا پڑھے اور سچے دل سے توبہ کرے، اور قضا صرف فرضوں اور وتروں کی ہوتی ہے سنت اور نوافل کی قضا نہیں ہے۔ چناچہ جتنی نمازیں قضا ہوگئیں ان کا حساب لگا کرمکروہ اوقات کے علاوہ جب وقت ملے اس وقت پڑھ لے ۔

    صحیح مسلم میں ہے : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا۔ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نمازپڑھنا بھول جائے یا سوتا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آجائے تو نماز پڑھ لے۔( مسلم کتاب الصلوۃ باب قضاء الصلوۃ الفائتۃ حدیث نمبر680 )

    البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:فالاصل فیہ ان کل صلوٰۃفاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبہا فیہ فانہ یلزم قضاؤھا۔ سواء ترکھا عمدا او سھوا او بسبب نوم وسواء کانت الفوائت قلیلۃ او کثیرۃ۔ترجمہ :اصول یہ ہے کہ ہر وہ نماز جو کسی وقت میں واجب ہونے کے بعد رہ گئی ہو ، اس کی قضاء لازم ہے خواہ انسان نے وہ نماز جان بوجھ کر چھوڑی ہو یا بھول کر ، یا نیند کی وجہ سے نماز رہ گئی ہو ۔ چھوٹ جانے والی نمازیں زیادہ ہوں یا کم ہوں (بہر حال قضا لازم ہے )۔( البحر الرائق شرح کنز الدقائق کتاب الصلوۃ باب الترتیب بین الفائتۃ جلد2 ص86)۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 صفر المظفر 1440 ھ/18اکتوبر 2018 ء