janazah gah ko masjid mein aur masjid ko janazah gah mein tabdeel karna kaisa
سوال
ایک جامع مسجدجس کے ساتھ جنازہ گاہ بھی ہے اور یہ مسجد ایک تاریخی اور مرکزی مسجد ہے اب انتظامیہ مسجد کو مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں اس طرح کہ جنازہ گاہ کو مسجد اور مسجد کو جنازہ گاہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
سائل :محمد لقمان :بہاولپور
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ جب زمین مسجد کے طور پر وقف ہو چکی ہے، تو یہ ہمیشہ تحت الثریٰ سے لے کر آسمان کی بلندی تک مسجد ہی ہے۔ لہٰذا، اس کی مسجدیت ختم کر کے اسے مکمل طور پر جنازہ گاہ بنا دینا ناجائز اور حرامِ قطعی ہے۔ اسی طرح وہ زمین جسے واقف نے جنازہ گاہ کے لیے وقف کر دیا ، اسے مسجد بنانا وقف میں تبدیلی ہے، اور وقف میں تبدیلی کرنا قطعی طور پر جائز نہیں۔
وقف کی تبدیل جائز نہیں اس بارے ' فتاوٰی ہندیہ 'میں ہے:’’لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلايجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف‘‘.ترجمہ: وقف کواس کی ہیئت سے تبدیل کرنا،جائز نہیں، لہذا گھر کو باغ بنانا ، سرائے کو حمام بنانا او ر ر باط کو دکان بنانا ،جائز نہیں، ہاں جب واقف نے نگہبان پر معاملہ چھوڑ دیا ہو کہ وہ ہر وہ کام کرسکتاہو، جس میں وقف کی مصلحت ہو، توجائز ہے۔(الفتاوٰى الھندیہ،الباب الرابع عشر في المتفرقات،ج:2،ص:490،دارالفکر بیروت)
وقف جس مصرف پر کیا جائے اسے اسی مصرف پہ باقی رکھنا لازم و ضروری ہے اس بارے 'ردالمحتار 'میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ‘‘. ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔(رد المحتار، کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)
اسی بارے اعلٰی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:”مسلمانوں کو تغییر وقف کا کوئی اختیار نہیں، تصرف آدمی اپنی ملک میں کر سکتا ہے، وقف مالک حقیقی کی مِلک خاص ہے، اس کے بے اذن دوسرے کو اس میں کسی تصرف کا اختیار نہیں۔(فتاوی رضویہ، جلد16 ،صفحہ 232،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
والله تعالى اعلم بالصواب