بلانیت دیوار پر طلاق طلاق طلاق لکھنے کا حکم
    تاریخ: 13 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 28
    حوالہ: 402

    سوال

    میرا نام سنیہ ہے۔ میرے شوہر کا نام محمد ایاز ہے۔ 12/4/2024کی صبح 12جمعہ کے دن میں نے ناشتہ بنایا۔ہم سب نے ناشتہ کیا۔میرے شوہر ناشتہ کرکے دوبارہ لیٹ گئے۔میں نے کہا نماز پڑھنے نہیں جانا گیا؟تو ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔تھوڑی دیر بعد انہوں نے کہا ’’طلاق طلاق طلاق‘‘ ۔میں ایک دم چونک گئی ۔میں نے کہا کس کو بولا ہے تم نے؟ میرے بار بار پوچھنے پر نہیں بتایا۔پھر میں نے ان کو جھنجھوڑا تو پیچھے پلٹ کر غصے میں بولے ’’میں نے تجھ کو بولا ہے کیا؟ ‘‘۔میں نے بولا پھر کس کو بولا ہے؟ تو جواب نہیں دیا۔ پھر میں نے بولا کیا سوچ کر بولا ہے بتاؤ تو سہی۔بار بار پوچھنے کے باوجود جواب نہیں دیا۔ تھوڑی دیر بعد سیدھے ہوئے اور بولے’’چلو اپنا بوریا بستر اٹھاؤ اور غرق ہو یہاں سے جاؤ یہاں سے دفعہ ہو چلو جاؤ یہاں سے‘‘۔ وہ الفاظ سارے میری بیٹی نے بھی سنے ہیں، وہ موجود تھی 13 سال کی بالغہ ہے۔ اب کیا مجھے طلاق ہوگئی ہے؟ وہ نشہ کرتے ہیں اور اب کہہ رہے ہیں کہ تجھے نہیں دی میں نے۔

    نوٹ: شوہر سے رابطے پر معلوم ہوا کہ اسکے کسی دوست کا طلاق کا مسئلہ چل رہا تھا اور اسکے ذہن میں وہی بات گھوم رہی تھی تو نیند سے اٹھ کر اس نے دیوار پر طا طا طا لکھا اور پڑھا طلاق طلاق طلاق۔جسے سن کر بیوی نے یہ رد عمل دیا اور اپنے رشتے داروں کو فون کیا کہ طلاق ہوگئی ہے جس پر غصے میں اس نے ’’دفعہ ہو جاؤ‘‘ وغیرہ جملے کہے۔ان الفاظ لکھنے میں اسکی طلاق کی نیت نہیں تھی۔

    سائلہ: سنیہ (زوجہ)۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہاں قضاءً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح بدستور قائم ہے۔

    تفصیل یہ ہے کہ بیویاس مسئلہ میں دعوی کرنے والی ہےلہذا اس پر یہ لازم ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہیوں سے یہ ثابت کردے کہ شوہر نے تین طلاقیں دی ہیں،محض دعوی نہیں سنا جائے گا،جبکہ پوچھی گئی صورت میں بیوی کے پاس صرف اپنی بیٹی گواہ ہے جو کہ نصابِ شہادت (یعنی دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں) نہیں۔اور شوہر نے حلفیہ بیوی کے بیانیہ سے انکار بھی کیا ہے لہذا قضاءً شوہر کے قول کا اعتبار کیا جائے گا اور جھوٹے حلف کی صورت میں گناہ انہیں پر ہوگا۔

    شوہر کا دیوار پر ’’طا‘‘ لکھنا اور اسے طلاق پڑھنا کوئی طلاق واقع نہیں کرتا، کیونکہ یہاں اضافتِ طلاق کی کوئی صورت موجود نہیں۔اسی قسم کا مسئلہ کتبِ فقہ میں موجود ہے کہ کوئی شخص صرف یہ عبارت لکھتا ہے کہ ’’میری بیوی کو طلاق‘‘ اور ساتھ میں اس کا تلفظ بھی کرتا ہے تو جب تک اس جملے سے بیوی کا قصد نہیں کرتا کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

    دلائل و جزئیات:

    نصابِ شہادت کے متعلق ارشادِ باری تعالی ہے:وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ.ترجمہ: اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو ۔ (البقرۃ: 282)

    رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: "البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر".ترجمہ: مدعی پر گواہی اورمنکر پر قسم ہوتی ہے۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب الامارۃ والقضاء،باب الاقضیۃ والشھادۃ،الفصل الاول،2/1110،رقم :3758،المکتب الاسلامی بیروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’بحالت اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو۲ گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی ادا کریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی، پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلا مسموع نہ ہوگا، ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی‘‘۔(فتاوی رضویہ، 12/452-453،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    حدیث مبارکہ میں ہے:"مَنْ حَلَفَ كَاذِبًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ".ترجمہ:جس نے جھوٹی قسم اٹھائی اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا۔(نصب الرایۃ،کتاب الایمان، من حلف یمینا کاذبا،3/292،مؤسسۃ الریان بیروت)

    وقوعِ طلاق میں قصدِ سبب کااعتبار لازم ہے، علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں:"وَلَا بُدَّ مِنْ الْقَصْدِ بِالْخِطَابِ بِلَفْظِ الطَّلَاقِ عَالِمًا بِمَعْنَاهُ أَوْ بِالنِّسْبَةِ إلَى الْغَائِبَةِ كَمَا يُفِيدُهُ فُرُوعٌ: هُوَ أَنَّهُ لَوْ كَرَّرَ مَسَائِلَ الطَّلَاقِ بِحَضْرَةِ زَوْجَتِهِ وَيَقُولُ: أَنْتِ طَالِقٌ وَلَا يَنْوِي طَلَاقًا لَا تَطْلُقُ، وَفِي مُتَعَلِّمٍ يَكْتُبُ نَاقِلًا مِنْ كِتَابِ رَجُلٍ قَالَ: ثُمَّ وَقَفَ وَكَتَبَ امْرَأَتِي طَالِقٌ وَكَلَّمَا كَتَبَ قَرَنَ الْكِتَابَةَ بِالتَّلَفُّظِ بِقَصْدِ الْحِكَايَةِ لَا يَقَعُ عَلَيْهِ... وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ إذَا قَصَدَ السَّبَبَ عَالَمًا بِأَنَّهُ سَبَبٌ رَتَّبَ الشَّرْعُ حُكْمَهُ عَلَيْهِ أَرَادَهُ أَوْ لَمْ يُرِدْهُ إلَّا إنْ أَرَادَ مَا يَحْتَمِلُهُ. وَأَمَّا أَنَّهُ إذَا لَمْ يَقْصِدْهُ أَوْ لَمْ يَدْرِ مَا هُوَ فَيَثْبُتَ الْحُكْمُ عَلَيْهِ شَرْعًا وَهُوَ غَيْرُ رَاضٍ بِحُكْمِ اللَّفْظِ وَلَا بِاللَّفْظِ فَمِمَّا يَنْبُو عَنْهُ قَوَاعِدُ الشَّرْعِ".ترجمہ:طلاق کے وقوع کیلئے لفظِ طلاق سے بیوی کو قصدِ خطاب یا اسکی غیر موجودگی میں نسبتِ طلاق ضروری ہے اس حال میں کہ شوہر الفاظِ طلاق کے معنی کو سمجھتا ہو ۔جیسا کہ اس اصول کا افادہ ان فروعات سے ہوتا ہے۔ اور وہ یہ ہیں کہ کسی نے بیوی کی موجودگی میں مسائلِ طلاق کا تکرار کیا اور کہا کہ ’’تو طلاق والی ہے‘‘ لیکن طلاق کا قصد نہیں کیا تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔دوسری مثال کہ شاگرد کسی کی کتاب سے عبارت نقل کرتا ہے پھر کچھ وقت ٹھہر کر لکھتا ہے ’’میری بیوی کو طلاق ‘‘ اور جب جب عبارت لکھتا ہے ساتھ زبان سے بقصدِ حکایت اس کا تلفظ بھی کرتا ہے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔حاصل کلام یہ ہے کہ جب شوہر سببِ طلاق کو جانتے بوجھتے اس کا قصد کرتا ہےتو وقوعِ طلاق کا حکم اس پر مرتب ہوگا چاہے ارادہ کرے یا نہ کرے سوائے یہ کہ ایسی بات کا ارادہ کرے جس کا احتمال موجود ہو۔بہرحال جب شوہر سببِ طلاق کا قصد نہیں کرتا یا اسے جانتا ہی نہیں تو شرعی طور پر عدمِ وقوعِ طلاق کا حکم ثابت ہوجائے گا اگرچہ وہ لفظ یا اسکے حکم سے راضی نہ ہو،اسی مسئلے سے قواعدِ شرع متفرع ہوتے ہیں۔(فتح القدیر،باب ایقاع الطلاق،4/4،دار الفکر، شرح الأحكام الشرعية في الأحوال الشخصية لمحمد قدري باشا،الصیغ التی یقع بہا الطلاق،1/301،دار الکتب العلمیۃ)

    علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"كَتَبَ نَاقِلًا مِنْ كِتَاب امْرَأَتِي طَالِقٌ مَعَ التَّلَفُّظِ... فَإِنَّهُ لَا يَقَعُ أَصْلًا مَا لَمْ يَقْصِدْ زَوْجَتَهُ".ترجمہ:کتاب سے عبارت نقل کرتے ہوئے شوہر نے لکھا ’’میری بیوی طلاق یافتہ ہے‘‘ اور ساتھ میں ان لفظوں کو زبان سے ادا بھی کیا تو اصلاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ اس نے بیوی کا قصد نہیں کیا۔(رد المحتار،باب صریح الطلاق،3/250،دار الفکر)

    معلوم ہوا کہ اگرچہ الفاظِ طلاق صریح ہوں لیکن اضافت (جسے فقہائے کرام نے قصدِ سبب سے تعبیر فرمایا) نہ پائی جائے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 11ذو القعدہ 1445 ھ/20مئی 2024ء