سوال
میں عبداللہ ولد منصور احمدنے اپنی بیوی نور العین ولداسلام الدین کو طلاق دی ہے ۔ لیکن جس ماحول میں یہ الفاظ کہے گئے ہیں وہ میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ اسطرح سے ہوا کہ میں گزشتہ3 مہینے سے کراچی میں اپنی والدہ کے پاس رہ رہا ہوں ۔ زوجہ راولینڈی میں ہے۔ اُس نے میری غیر موجودگی میں خلع کے پیپر عدالت میں لگا دئیے ۔مورخہ 2023-10-22 کو میں کراچی سے راولپنڈی اپنی بیوی کو منانے کے لئے گیا۔ وہاں تقریباً آدھا گھنٹہ تک میں اُس سے معافیاں مانگتا رہا ۔ وہاں دو افراد (مرد) اور موجود تھے ۔
جب میں اپنے گھر کے دروازے سے اندر داخل ہونے کیلئے دروازہ کھول رہا تھا ۔ تو کوئی سفید روشنی میرےجسم سے ٹکرائی۔ اور مجھے جھٹکا سا لگا تھا ،لیکن میں نے نظر انداز کر دیا دیا ۔ اور بیوی کو منانے نے کے لئے معافی مانگتا رہا ،لیکن میری بیوی نہیں مانی ۔تو میں واپس جانے کے لئےسیڑھیوں کی طرف آیا۔آدھی سیڑھیاں اتر کر اچانک میری آنکھیں بند ہوگئی اور مجھے لگا کہ میں گہری نیند کی حالت میں ہوں،جس کو شاید وہاں موجود افراد اور میری بیوی نے محسوس بھی نہیں کیا ہو۔چند لمحوں کے بعد جب میری آنکھیں دوبارہ کھلی تو وہ دونوں افراد اور میری بیوی کہہ رہے تھے کہ تم نے کئی بار طلاق طلاق کے الفاظ کہے ہیں۔جبکہ مجھے بالکل نہیں معلوم کہ میں نے کچھ کہا ہےکہ نہیں کہا ہے۔میرا دماغ بھی سن ہوگیا تھا ۔میں تو اپنی بیوی کو منانے گیا تھا نا کہ طلاق دینے ۔ اگر طلاق دینی ہوتی تو وہ میں فون پر بھی دے سکتا تھا ۔
آپ سے گزارش ہے کہ مجھے بتائیے کہ طلاق ہوئی ہے کہ نہیں ہوئی ہے؟
حلفیہ بیان: میں عبد الله ولد منصور احمد حلفیہ یہ تمام باتیں لکھوا رہا ہوں کہ میری کیفیت اور دیگر تمام باتیں بالکل سچ ہیں۔طلاق کے الفاظ بولنے کا میرا کوئی ارادہ یا نیت بالکل نہیں تھی ۔
نوٹ:زوجہ سے فون پر رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ شوہر نے 4بار طلاق طلاق طلاق طلاق کا جملہ کہا ہے جس کے دو مرد گواہ بھی موجود ہیں۔پھر گواہان سے رابطہ ہوا تو ایک گواہ کے مطابق شوہر نے کہا:’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ 4بار کہا۔البتہ دوسراگواہ اپنے بیان میں متذبذب ہےکہ شوہر نے یا تو کہا:’’طلاق طلاق طلاق طلاق‘‘یا ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ 4بار یا ’’میری طرف سے طلاق ہے‘‘ 4بار۔نیز شوہر کے پاس نفی طلاق کے گواہ نہیں۔
سائل: عبد الله ولد منصور احمد ،کورنگی کراسنگ ،کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں تین طلاقیں مغلظہ واقع ہوچکی ہیں۔شوہر تین طلاق دینے کی وجہ سے سخت گناہ گار اور حرام کےمرتکب ہوئےاس پراللہ تعالی کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنا لازم ہے۔اب بغیر تحلیلِ شرعی عورت ،شوہر کے لئے حلال نہیں ہو گی۔
تحلیل ِ شرعیکامطلب یہ ہے کہ جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہوں وہ عدت (یعنی اگر حیض آتا ہے تو تین حیض آکر ختم ہو جائیں اور اگر حمل کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو پھر اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اگر بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین ما ہ ہو گی) گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرےاور کم ازکم ایک بار جسمانی تعلق قائم ہونےکے بعد وہ اس کو طلاقدے اور پھر اس کی عدت گذارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ۔
مسئلہ کی تفصیل:
جب طلاق دینے نہ دینے میں شوہرو بیوی کا اختلاف ہوجائے تو ثبوت ِ طلاق گواہان کے ذریعے ہوتا ہے۔ہاں اگر شوہر نفی طلاق کے گواہان لے آئے تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔صورت مسؤولہ میں شوہر کے پاس نفی کے گواہ نہیں جبکہ بیوی نے ثبوتِ طلاق کے دو گواہ پیش کئے جن کا بیان سوال میں گزرا۔نیز اگرچہ گواہان کے الفاظ مختلف ہیں لیکن معنی ایک ہے (یعنی شوہر کا 4 بار طلاق دینا)اور یہ معتبر ہے کیونکہ گواہیوں کا باعتبار معنے متفق ہونا ضرور ہے کہ جب لفظ کا اختلاف معنی کو مختلف نہ کرے،لہذا تین طلاقیں مغلظہ واقع ہوچکی ہیں۔
دلائل وجزئیات:
اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا : فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ.ترجمہ: ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں ۔ اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے‘‘۔(البقرۃ: 230)
اس آیت کر یمہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد".ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔ ( تفسیرروح المعانی،2/729،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )
گواہان کے وہ الفاظ جو معنی کو مختلف نہ کرے مقبول ہے،چنانچہ سید احمد بن محمد بن اسماعيل الطحطاوی الحنفی (المتوفی:1231ھ) فرماتے ہیں:"واختلاف لفظهما الذي لا يوجب اختلاف المعنى لا يضر (( منح )) كالنكاح والتزويج والهبة والعطية ". ترجمہ:الفاظِ شہادات کا وہ اختلاف جو معنی مختلف نہ کرے ثبوت کومضر نہیں ایسا ہی منح میں ہے جیسا کہ نکاح و شادی ،تحفہ و عطیہ۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،8/426،المکتبۃ الوحیدیۃ پشاور)
طلاق میں شوہر و زن کا اختلاف ہوجائے تو اسکے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’بحالت اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو2 گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی ادا کریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی، پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلا مسموع نہ ہوگا، ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی‘‘۔(فتاوی رضویہ، 12/452-453،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 13 جمادی الاول1444 ھ/28 نومبر2023ء