سوال
مجھے میرے شوہر نے تین دفعہ سادے پرچے پر لکھ کر طلاق دی ہے اور اس سے پہلے بھی غصے میں آکر منہ سے بھی کہا ہے دو سے تین دفعہ کہ ’’میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں‘‘ اور میں ابھی بھی اپنے شوہر کے ساتھ ہوں میرا دل نہیں مانتا ان کے ساتھ رہنے کو۔انکی اس حرکت کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں۔اب آپ بتائیں کہ مجھے طلاق ہوچکی ہے یا نہیں؟
نوٹ: شوہر کے بیان کے مطابق،اس تحریرسے پہلے بھی کئی بار شوہر طلاق دے چکا ہے جس کے الفاظ بھی صحیح یاد نہیں ہاں جو الفاظ بتائے وہ صریح ہیں جیسا کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ اور ’’میں نے تمہیں طلاق دی‘‘ اسکے کچھ عرصے بعد مزید ایک تحریر میں اپنا نام اور زوجہ کا نام مع ولدیت لکھ کر ’’میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں‘‘ تین بار لکھا جسے زوجہ،بھائی،شوہر کے والد وغیرہ کو بھی دکھایا پھر اسے پھاڑ دیا ۔اسکے بعد بھی زبانی طلاق کئی بار دی۔یہاں شوہر نے تین طلاق اور مذکورہ جملوں سے نیت طلاق کا بھی اقرار کیا۔
سائل:سیدہ صباحت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں تین طلاق ِمغلظہ واقع ہوچکی ہیں۔شوہر تین طلاق دینے کی وجہ سے سخت گناہ گار اور حرام کےمرتکب ہوئے اس پراللہ تعالی کی بارگاہ میں سچی توبہ لازم ہے۔اب بغیر تحلیلِ شرعی عورت ،شوہر کے لئے حلال نہیں ہو گی۔
تحلیل ِ شرعی یہ ہے کہ جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہوں وہ عدت (یعنی اگر حیض آتا ہے تو تین حیض آکر ختم ہو جائیں اور اگر حمل کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو پھر اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اگر حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین ما ہ ہو گی) گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرےاور کم ازکم ایک بار جسمانی تعلق قائم ہونےکے بعد وہ اس کو طلاقدے اور پھر اس کی عدت گذارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ۔
مسئلہ کی تفصیل:
اس تحریر سے قبل اگر شوہر نے تین بار زبانی طلاق دی ہے تو تینوں واقع ہوگئیں ۔
اگر یہ نہ بھی ہوں تو مذکورہ تحریر سے بھی تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔ تحریر عندالشرع خطاب کے درجے میں ہے ۔تحریر کے ذریعے طلاق کا حکم ثابت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحریر ایسی ہو کہ جسے عرفی اور شرعی اعتبار سے مکمل تصور کیا جائے اور اُس میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہ ہو۔پھر تحریرِطلاق کی دوقسمیں ہیں:(۱)مرسومہ۔(۲)غیر مرسومہ۔یہاں طلاق غیر مرسومہ ہے، یہ وہ طلاق نامہ ہے جو طلاق کے عنوان ،سبب ِطلاق کے بیان ،شوہر کے دستخط کے بغیر ہو یاان میں سے کسی بھی ایک چیز کے بغیر ہو یا فی زمانہ سادہ کاغذ پر ہو یا میسج پر ۔ اس طرح کے طلاق نامے پر نیت کے ساتھ ہی قضاءً طلاق واقع ہوتی ہے اور یہاں شوہر کی جانب سے نیت ِطلاق کا اقرار ثابت ہے لہذا قضاءً تین طلاق واقع ہوچکی ہیں۔
دلائل و جزئیات:
اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا : فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ. ترجمہ: ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں ۔ اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے‘‘۔(البقرۃ: 230)
اس آیت کر یمہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد".ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔ ( تفسیرروح المعانی،2/729،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )
طلاق کی عدتکی اقسام کے متعلق فتاویٰ سراجیہ میں ہے: "المطلقة تعتد بثلاث حیض ان کانت من ذوات الحیض وبثلاثة اشهر ان کانت من ذوات الاشهر کالآیسة والصغیرة عدة الحامل ان تضع حملها. ملخصا".ترجمہ:اگر طلاق یافتہ عورت کو حیض آتا ہو تو وہ تین (کامل)حیض کے ساتھ عدت گزارے گی اور (جس کو حیض نہیں آتا)تین مہینوں کے ساتھ عدت گزارے گی اگر عورت مہینوں والی ہے جیسے آئسہ(بوڑھی)اورنابالغہ،حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔(فتاویٰ سراجیہ،ص:231،مکتبہ زمزم)
تحریری طلاق کے متعلق علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"الْكِتَابَةُ عَلَى نَوْعَيْنِ: مَرْسُومَةٍ وَغَيْرِ مَرْسُومَةٍ، وَنَعْنِي بِالْمَرْسُومَةِ أَنْ يَكُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا يُكْتَبُ إلَى الْغَائِبِ. وَغَيْرُ الْمَرْسُومَةِ أَنْ لَا يَكُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا ... غَيْرَ مَرْسُومَةٍ إنْ نَوَى الطَّلَاقَ يَقَعُ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ كَانَتْ مَرْسُومَةً يَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَى أَوْ لَمْ يَنْوِ".ترجمہ:’’ کتابت طلاق کی دو قسمیں ہیں (۱ )مر سومہ (۲)غیر مرسومہ، اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق نامہ کا عنوان ہو اور تمہید ہو جیسے کسی غائب کو خط لکھاجاتا ہے ۔اورغیر مر سو مہ سے ہما ری مراد یہ ہے کہ جس پر طلاق نامہ کا عنوان نہ ہو،اور وجوہِ طلاق بھی بیان نہ کی جائیں... تحریر طلاق اگر غیرمرسومہ ہو اورشوہر نے طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر نیت نہ کی تو طلاق واقع نہ ہو گی ‘‘۔ ( ردالمحتار، 4/455 ،مکتبہ امدادیہ ملتان)
مفتی محمد وقار الدین رحمہ اللہ (المتوفی:1413ھ) سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں لکھ کر دے۔ مثال کے طور پر اس طرح لکھا کہ میں باہوش و حواس طلاق دے رہا ہوں ، طلاق دے رہا ہوں ، طلاق دے رہا ہوں لکھے بھی اور زبانی بھی کہے ۔ لیکن یہ لکھنا اور بولنا اپنی رضامندی سے نہیں بلکہ زبر دستی اور جان سے مارنے کی دھمکی سے ہو تو کیا حکم ہوگا؟
اسکے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا:’’صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور یہ بیوی اپنے شوہر پر حرمت مغالطہ سے حرام ہو گئی ۔ اب ان دونوں کا نکاح بھی بغیر حلالہ شرعی نہیں ہو سکتا ہے‘‘۔(وقار الفتاوی،3/178، بزم وقار الدین کراچی) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 19 ذوالحجۃ 1444 ھ/8جولائی 2023ء