سوال
میرا نام اسامہ ہے۔میری شادی کو تین سال ہو گئے ہیں ،ایک بیٹی ہے جس کی عمر 2 سال ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب میں نے لڑکی والوں کے یہاں رشتے کی بات ڈالی تھی تو ایک لڑکا میرے پاس آیا تھا اور مجھ سے کہا کہ میں لڑکی سے پیار کرتا ہوں وہ بھی مجھ سے پیار کرتی ہے۔آپ رشتہ توڑ دو ۔ میں نے اس سے کہا میں لڑکی سے معلوم کرونگا اگر یہ بات سچ ہوئی تو میں رشتہ ختم کر دونگا ۔ پھر اس کے بعد میں سسرال گیا۔ساس،سسر،سالے اور میری ہونے والی بیوی سے پوچھا کہ یہ بات سچ ہے؟ تو انہوں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کے ہمارا اُس سے کوئی واسطہ نہیں ہے ہم نہیں جانتے۔ پھر میں نے آگے بات بڑھائی ،خوشی خوشی شادی ہوئی ہو ، ماشاء اللہ سے بیٹی ہوئی۔2024-4-19 کو بیوی کو خوشی خوشی اس کے گھر چھوڑ کر آیا ۔پانچ دن بعد انہوں نے واپس آنے کا کہا تھا ۔ مگر انہوں نے وہاں جاکر پتہ نہیں ایسا کیا کیا کہ مجھے جماعت سے کال آئی کہ آپ کی بیوی آپ آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔تو ہم نے کہا کہ سامنے لاؤ بات تو کرواؤ تو نہ جماعت والوں نے صحیح رسپونس دیا نہ ہی سسرال والوں نےصحیح جواب دیا۔پھر دودن پہلے کورٹ سے خلع کا نوٹس آتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ 2024-3-29 سے میری بیوی اُس لڑکے سے رابطے اور ناجائز تعلقات میں ہے۔یہ بات میں نے اپنے سسر،سالے اور سالی سے کہی تو سب نے کہا کہ ہم بے غیرت ہیں، تم غیرت مند ہو تو دے دو طلاق۔اب مجھ سے زبردستی طلاق لے رہے ہیں۔ تو کیا ایسی طلاق مانی جائیگی؟ میں طلاق نہیں دینا چاہتا پر مجھے جیل کی دھمکی دے کر دستخط کروانا چاہ رہے ہیں۔ اگر میں دستخط کر دیتا ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟
سائل: اسامہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شوہر کا بیوی کے ایسے عمل کی بنا پر طلاق دینا جائز و مستحب ہے، البتہ نکاح میں رہتے ہوئے شوہر کی ذمہ داری ہے کہ اپنی قوت و استطاعت کے مطابق بیوی کو ایسے برے کاموں سے بچائے اور اُسے بہتری کی راہ دکھائے۔
نیز سائل کا اندیشہ کہ میں طلاق نامے پر دستخط نہیں کروں گا تو مجھے جیل ہوجائے گی یہ اکراہ شرعی (شرعی جبر) نہیں۔کیونکہ زمینی حقائق کے مطابق فیملی کورٹ خود جلد از جلد بلا اجازت شوہر خلع کے ڈگری جاری کرتی ہے اور برائے نام شوہر کو سمن بھیجتی ہے۔اگر شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوتا تو اسکی غیر موجودگی میں ہی فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔
ہاں اگر اکراہ شرعی پایا جائے (یعنی قتل یا عضو کاٹنےیا ضربِ شدید ایسی مار جس سے انسان بالکل بیکار ہوجائے کی دھمکی دی جائے جس پر دھمکی دینے والا قادر بھی ہو)اور شوہر دل سے نیتِ طلاق نہ رکھے نہ ہی زبانی طلاق دے لیکن طلاق نامے پر دستخط کردے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔اور اگر دستخط کے وقت دل میں طلاق کا ارادہ کر لیا یا دستخط کرنے کے ساتھ اسی وقت یا بعد میں زبان سے طلاق دینے کا اقرار کرلیا تو ان تمام صورتوں میں طلاق واقع ہوجائے گی۔
مسئلہ کی تفصیل:
جبر و زبردستی کی اوّلا دو صورتیں بنتی ہیں:
(۱)عرفی:یعنی لوگ طلاق دینے پر اصرارکریں ،اس سے تو بالاتفاق طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
(۲)شرعی:یعنی قتل یا عضو کاٹنےیا ضربِ شدید(یعنی ایسی مار جس سے انسان بالکل بیکار ہوجائے ) کی دھمکی دی جائے جس پر دھمکی دینے والا قادر بھی ہو تو یہ صورت جبر شرعی کی ہے۔
پھر شرعی جبر جسے اصطلاح ِفقہ میں ’’اکراہ‘‘کہا جاتا ہے ۔اس سے طلاق واقع ہونے نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں:
(۱)اکراہ تام ملجی:
مار ڈالنے یا عضو کاٹنے یا ایسی مار مارنے کی دھمکی دی جائے کہ جس سے جان یا عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو’’اکراہ تام‘‘ ہے۔اگر اکراہ تام ہو اور طلاق کا معاملہ تحریری صورت میں ہو توشوہر طلاق کی نیت کیے بغیردستخط کر دے توطلاق واقع نہیں ہوتی اور اگر زبانی طلاق کا معاملہ ہوتو طلاق کی نیت نہ بھی کرے تب بھی طلاق ہو جاتی ہے کہ ہم احناف کے نزدیک زبانی طلاق میں اکراہ معتبر نہیں ۔
(۲)اکراہ ناقص غیر ملجی:
جس میں اکراہ تام سے کم کی دھمکی ہو۔یعنی محض ایک دن قید کردینے یا ایسی مار کی دھمکی ہو جس سے جان یا عضو کے تلف ہونے کا خوف نہ ہو۔ اکراہ ناقص سے طلاق پر اثر نہیں پڑتاخواہ طلاق زبانی ہو یا تحریری،یعنی دونوں ہی صورتوں میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
شریف اور بدمعاش کے درمیان جیل قید کی دھمکی اور اکراہ تام کا اطلاق:
ایک دن کی قید (حبس غیر مدید)کا اکراہِ ناقص یا تام ہونا لوگوں کے عرف و عادت پر محمول ہے کہ جس اکراہ سے شریف لوگ تکلیف کا شکار ہوتے ہوں،شریف آدمی کے حق میں ایسا اکراہ تام ہوگا اور بدمعاش کے حق میں ناقص۔ہمارے عرف میں بھی شریف آدمی چاہے ایک دن کیلئے سہی جیل میں رہنے سے سخت تکلیف کا شکار ہوتا ہے، حتی کہ محض پولیس اہلکاران کا گھر یا دوکان پر آجانا ہی تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔لہذا ایسے شخص کے حق میں جیل قید کی دھمکی اکراہ تام شمار کی جائے گی اور اس صورت میں بھی بلا نیت طلاق نامے پر دستخط طلاق واقع نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ صورت مسؤولہ میں اکراہ شرعی کی کوئی صورت موجود نہیں۔کیونکہ اکراہ میں مکرِہ (اکراہ کرنے والا) کا اپنی دھمکی پر قادر ہونا ضروری ہے جبکہ فیملی کورٹ کے پاس شوہر کو قید کرنے کے بذاتہ اختیارات نہیں ہوتے،لہذا اکراہ شرعی نہ ہوا۔
دلائل وجزئیات:
طلاق دینے کی مختلف صورتوں کے متعلق صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’طلاق دینا جائز ہے مگر بے وجہِ شرعی ممنوع ہے اور وجہِ شرعی ہو تو مباح بلکہ بعض صورتوں میں مستحب مثلاً عورت اس کو یا اوروں کو ایذا دیتی یا نماز نہیں پڑھتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ بے نمازی عورت کو طلاق دے دوں اور اُس کا مہر میرے ذمہ باقی ہو، اس حالت کے ساتھ دربارِ خدا میں میری پیشی ہو تو یہ اُس سے بہتر ہے کہ اُس کے ساتھ زندگی بسر کروں۔ اور بعض صورتوں میں طلاق دینا واجب ہے مثلاً شوہر نامرد یا ہیجڑا ہے یا اس پر کسی نے جادو یا عمل کردیا ہے کہ جماع کرنے پر قادر نہیں اور اس کے ازالہ کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ ان صورتوں میں طلاق نہ دینا سخت تکلیف پہنچانا ہے‘‘۔(بہار شریعت،2/110،مکتبۃ المدینہ کراچی)
اکراہ تام کی تعریف علامہ ابو الفضل عبد اللہ بن محمود الموصلی (المتوفی:683ھ) فرماتے ہیں:"(وَ) لَا بُدَّ (أَنْ يَكُونَ الْمُكْرَهُ بِهِ نَفْسًا أَوْ عُضْوًا) كَالْقَتْلِ وَالْقَطْعِ. (أَوْ مُوجِبًا غَمًّا يَنْعَدِمُ بِهِ الرِّضَا)".ترجمہ : جس کے ذریعے مجبور کیا گیا ضروری ہے کہ وہ جان یاعضوہو جیسے قتل کر دینا اور عضو کاکاٹ دینا وہ چیز ایسے غم کا موجب ہو جس سے رضا مندی منعدم ہو جا سکتی ہو۔(الاختیار لتعلیل المختار،کتاب الاکراہ،2/50،دار الفیحاء)
اکراہ ناقص کی تعریف علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"وَنَوْعٌ لَا يُوجِبُ الْإِلْجَاءَ وَالِاضْطِرَارَ وَهُوَ الْحَبْسُ وَالْقَيْدُ وَالضَّرْبُ الَّذِي لَا يُخَافُ مِنْهُ التَّلَفُ، وَلَيْسَ فِيهِ تَقْدِيرٌ لَازِمٌ سِوَى أَنْ يَلْحَقَهُ مِنْهُ الِاغْتِمَامُ الْبَيِّنُ مِنْ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ أَعْنِي الْحَبْسَ وَالْقَيْدَ وَالضَّرْبَ، وَهَذَا النَّوْعُ مِنْ الْإِكْرَاهِ يُسَمَّى إكْرَاهًا نَاقِصًا".ترجمہ:دوسری قم وہ ہے کہ جس سے لاچارگی اور اضطرار لازم نہ آئے اور وہ ہے قید یا بیڑیاں ڈالنا اور ایسی مار کہ جس سے جان یا عضو کے تلف ہونے کا خوف نہ ہو ۔اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں ۔سوائے یہ کہ مجبور شخص کو ان چیزوں یعنی قید و بند اور مار سے واضح طور پر غم اور پریشانی لاحق ہو جائے۔اکراہ کی اس قسم کو اکراہ ناقص کیا جاتا ہے۔(بدائع الصنائع،کتاب الاکراہ،7/175،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
تحریرِ طلاق پر اکراہِ تام کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی، علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "فَلَوْ أُكْرِهَ عَلَى أَنْ يَكْتُبَ طَلَاقَ امْرَأَتِهِ فَكَتَبَ لَا تَطْلُقُ لِأَنَّ الْكِتَابَةَ أُقِيمَتْ مَقَامَ الْعِبَارَةِ بِاعْتِبَارِ الْحَاجَةِ وَلَا حَاجَةَ هُنَا، كَذَا فِي الْخَانِيَّةُ".ترجمہ: اگر خاوند کو اپنی بیوی کو طلاق لکھنے پر شرعی جبر کیا گیا تو اس نے مجبور ہوکر لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی، کیونکہ کتابت کو تلفّظ کے قائم مقام حاجت کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور یہاں اس کی حاجت نہیں ہے، ایسا ہی خانیہ میں ہے۔(ردالمحتار ،کتاب الطلاق،3/236،دار الفکر بیروت)
ایسا ہی فتاوی ہندیہ، فتاوی قاضی خان اور فتاوی رضویہ میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،1/379،دار الکتب العلمیۃ،فتاوی قاضی خان،کتاب الطلاق،2/419،قدیمی کتب خانہ) (فتاوی رضویہ،17/385،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
شریف آدمی کی ایک دن کی قید کو علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) نے اکراہ تام قرار دیا،آپ فرماتے ہیں:" (أَوْ حَبْسٍ) أَوْ قَيْدٍ مَدِيدَيْنِ بِخِلَافِ حَبْسِ يَوْمٍ أَوْ قَيْدِهِ أَوْ ضَرْبٍ غَيْرِ شَدِيدٍ إلَّا لِذِي جَاهٍ ".ترجمہ: اگر حبس ِ مدید یا قیدِ مدید پر اکراہ کیا گیا (تواکراہ تام ہے)برخلاف اس کے کہ ایک دن کے حبس یا قید یا معمولی مار پر اکراہ کیا گیا (تو وہ اکراہ تام نہیں) سوائے باعزت شریف شخص کیلئے (کہ اس کے حق میں ایک دن کا حبس و قیدیا معمولی مار بھی اکراہ تام ہے)۔(الدر المختار،کتاب الاکراہ،6/130،دار الفکر بیروت)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’کمرہ میں بند کرنے پر اکراہ شرعی پایا گیا یعنی زید کو ضرر رسانی کا اندیشہ ہوا اور اس نے بند کرنے والوں کو ضرر پر قادربھی سمجھا اس صورت میں اگراس نے طلاق نامہ پر انگوٹھا لگا دیا مگر نہ دل میں طلاق دینے کا ارادہ کیا اور نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو طلاق واقع نہ ہوئی‘‘۔(فتاوی فیض الرسول ،2/117،شبیر برادرز)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 25 ذو القعدہ 1445 ھ/3 جون 2024ء