سوال
میرا نام رحمت خان ہے میں حیدرآباد کا رہائشی ہوں۔میں نے 10 ماہ پہلے اپنی بیٹی کا نکاح دور کے جاننے والوں میں کیا تھا ۔وہ فیملی دبئی کے رہائش پزیر ہے 15 سال بعد واپس آئے تھے۔انہوں نے میری بیٹی سے اپنے بیٹے سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی تو ہم نے اپنے بڑوں سے مشورہ کر کے صرف نکاح کر دیا رخصتی نہیں کی۔ان کی طرف سے نکاح میں امی اور دو بہنوں نے شرکت کی، ہمارے بھی گواہ تھے اور خلوت صحیح نہیں ہوئی۔دولہا والوں نے کہا کے ہم ایک مہینہ بعد رخصتی لینگے لیکن انہوں نے دو مہینہ بعد بھی رخصتی سے منع کر دیا،بہانے کرنے شروع کر دیے۔جب ہم نے دبئی میں انکوائری کروائی تو وہ فیملی غلط کاموں ملوث نکلی اور جب ہم نے خلع کا کہا تو لڑکے نے 50 لاکھ کی ڈمانڈ کی کہ جو میں نے پیسہ لگایا وہ دو دینگے تو طلاق دوں گا ورنہ نہیں دوں گا۔اب آپ شرعی رہنمائی فرمائیں اور میری بیٹی کی جان چھڑوائیں ،ہم غریب لوگ ہیں۔
سائل:رحمت بمعرفت فرحان۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مسئلہ کی تمہید یہ ہے کہ رشتہ ازدواج ختم کرنے کی مختلف صورتیں ہیں؛ جن میں سے ایک طلاق ہے اور دوسری خلع ۔خلع یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو معاوضے یا حقِ مہر کی پیشکش کرے اور شوہر اسے قبول کر لے۔ یہ دونوں صورتیں شوہر سے متعلق ہیں۔تیسری صورت تفریق یا فسخ نکاح کی ہے، جس کا حق شریعت نے قاضی کو دیا ہے۔ یہاں شوہر کی رضا مندی شرط نہیں۔اگر زوجین معروف طریقے سے نہ ساتھ رہیں اور نہ طلاق ہو رہی ہو نہ ہی خلع دیا گیا ہو تو، اس صورت میں شریعت نے قاضی کو خصوصی حالات میں رشتہ ختم کرنے کا اختیار دیا ہے، جسے فسخِ نکاح یا تفریق کہا جاتا ہے۔
پوچھی گئی صورت میں ایسے شوہر (جو بیوی کو بھلائی کے ساتھ نہیں رکھتا )پر لازم ہے کہ بیوی کو طلاق دے،اسے معلّق (لٹکا کر) رکھنا حرام ہے۔اگر طلاق نہیں دیتا تو کچھ مال دے کر خلع لیں۔اگر مال نہ ہو تو مہر جو ادا نہیں کیا گیا اسکے بدلے خلع لیں۔اس پر بھی راضی نہ ہو اور طلاق لینے کیلئے ہر قسم کے قانونی و شرعی طریقے اپنا چکے ہوں تو بیوی شہر کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ مفتی کے حضور فسخِ نکاح کا دعوی کرے،مفتی قرائن اور گواہوں کی روشنی میں اس کا دعوی سن کر شرع کے مطابق نکاح فسخ کر دے گا کہ سلطان ِاسلام اور قاضی شرع نہ ہونے کی صورت میں شہر کا سب سے بڑ ا سنی صحیح العقیدہ مفتی ان کے قائم مقام ہے۔ اور اس تنسیخ نکاح سے بھی ایک طلاق بائن واقع ہوگی اور عدت گزرنے کے بعد یہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکے گی۔
دلائل و جزئیات:
بیوی کے حقوق پورے نہ کرنا اسے معلق رکھنا حرام ہے،چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’بالجملہ عورت کو نان ونفقہدینابھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سے جماع کرنا بھی واجب جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہو، اور اسے معلقہ کردینا حرام، اور بے اس کے اذن ورضا کے چار مہینے تک ترکِ جماع بلاعذر صحیح شرعی ناجائز‘‘۔(فتاوی رضویہ،13/446،رضافاؤنڈیشن، لاہور)
خلع کی تعریف علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) نے یوں بیان ہوئی: "وَفِي الشَّرْعِ: أَخْذُهُ الْمَالِ بِإِزَاءِ مِلْكِ النِّكَاحِ".ترجمہ: شریعت میں خلع کامعنیٰ یہ ہے کہ شوہرکا نکاح کی ملکیت کو زائل کرنے کے بدلے میں مال لینا۔ (فتح القدیر ،4/210،دار الفکر)
اسی طرح امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’خلع شرع میں اسے کہتے ہیں کہ شوہر برضا ئے خود مہر وغیرہ مال کے عوض عورت کو نکاح سے جدا کردے تنہا زوجہ کے کیئے نہیں ہو سکتا ‘‘۔(فتاوی رضویہ 13/264،رضافاؤنڈیشن لاہور)
سلطان ِاسلام اور قاضی شرع نہ ہونے کی صورت میں شہر کا سب سے بڑ ا سنی صحیح العقیدہ مفتی ان کے قائم مقام ہے ،سیدی امام عبد الغنی بن اسماعیل النابلسی رحمہ اللہ (المتوفی:1143ھ)بحوالہ ’’العتابی‘‘ فرماتے ہیں:"إذا خلا الزمان من سلطان ذي كفاية فالأمور موكلة إلى العلماء ويلزم الأمة الرجوع إليهم باتباع علمائه فإن كثروا فالمتبع أعلمهم فإن استووا أقرع بينهم".ترجمہ:جب زمانہ احکام نافذ کرنے والے سلطان سے خالی ہوجائے تو تمام امور علماء کے سپرد ہوں گے اور لوگوں کا ان کی طرف رجوع کرنالازم ہوگا۔اور وہ ولی ہوجائیں گے۔پس جب تمام لوگوں کا ایک عالم کے پاس جمع ہونا مشکل ہو۔تو ہر ضلع اپنے علماء کی اتباع کرے گا۔اوراگر کثیر ہوں توزیادہ علم والے کی پیروی کی جائے۔اگر برابرہوں توان کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے۔(الحديقۃ النديۃ،2/153،دار الكتب العلميۃ بيروت)
قاضی ِ شرعکو صرف فسخِ نکاح کا اختیار ہے،علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"فَإِذَا امْتَنَعَ نَابَ الْقَاضِي مَنَابَهُ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَلَا بُدَّ مِنْ طَلَبِهَا لِأَنَّ التَّفْرِيقَ حَقُّهَا وَتِلْكَ الْفُرْقَةُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ".ترجمہ: جب شوہر طلاق دینے سے رُک جائے توقاضی خود اس شوہر کا قائم قام ہوکر دونوں میں تفریق کردے اور عورت کا مطالبہ کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ بیوی کا حق ہے، اور یہ تفریق و تنسیخ طلاق بائن ہوگی۔(الہدایہ،2/273،دار احیاء التراث العربی)
اسی طرح الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"إنْ اخْتَارَتْ الْفُرْقَةَ أَمَرَ الْقَاضِي أَنْ يُطَلِّقَهَا طَلْقَةً بَائِنَةً فَإِنْ أَبَى فَرَّقَ بَيْنَهُمَا... وَالْفُرْقَةُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ".ترجمہ: اگر بیوی جدائی چاہتی ہے تو قاضی شوہر کو طلاق بائن دینے کا حکم دے۔اگر شوہر انکار کرے تو قاضی دونوں میں تفریق کردے یہ فرقت طلاق بائن ہوگی۔(الفتاوی الہندیۃ،1/524،دار الفکر)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:10صفر المظفر 1445 ھ/16 اگست 2024ء