اگر اب بولی تو طلاق واجب ہوجائے گی (یمین فور )
    تاریخ: 13 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 35
    حوالہ: 398

    سوال

    میں نے اپنی بیگم کو لڑائی کے دوران یہ جملے بولے کہ اگر آپ اب بولی تو طلاق واجب ہوجائےگی۔پھر وہ رونے لگی تو میں نے کہا کہ اگر آپ اب روئی تو طلاق ہوجائے گی۔تھوڑی دیر بعد وہ آئی اور بولی کہ میری آنکھ سے آنسو آگیا ہے اور میں بول بھی دی ،کیا اب طلاق ہوگئی؟جبکہ میری بیگم نے کہا کہ میں نے یہ بولا ہے: اب اگر تم نے کچھ بولا تو طلاق ہوئی،اگر اب تم روئی تو بھی طلاق ہوئی۔

    نوٹ: فون پر رابطہ سے معلوم ہوا کہ شوہر کے ان جملوں سے مراد ایسا رونا اور بولنامراد تھا جس سے شوہر تنگ ہوتے ہیں، تکلیف ہوتی ہے کہ بیگم عموما اونچی آواز میں بولتی ہیں اور آواز سے روتی ہیں۔

    سائل:سید گوہر حسین قادری(شوہر)،کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،نکاح برقرار ہے۔البتہ آئندہ اس قسم کے جملوں سے احتراز کیا جائے کہ نکاح شیشہ ہے اور طلاق پتھر، شیشہ پر پتھر خوشی سے پھینکے یا کسی کے جبر سے یا خود ہاتھ سے چھٹ پڑے شیشہ ہرطرح ٹوٹ جائے گا۔

    اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ اوّلا صورت مسؤولہ طلاقِ معلق کی ہے یعنی شوہر نے دو طلاقوں کوبیوی کے بولنے اور رونے کی شرط کے ساتھ معلق کیا ہے۔فقہائے کرام علیہم الرضوان کے اجماعی ضابطہ کے مطابق جب طلاق کسی شرط پر معلق کی جائے تو اس شرط کے پائے جانے کی صورت میں فورا طلاق واقع ہوجاتی ہے،لیکن یہاں طلاق کی شرط نہیں پائی گئی کہ مذکورہ جملوں میں شوہر کی مراد یہ تھی کہ اگر اب آپ ایسا روئی یا بولی جس سے مجھے تکلیف ہو یا میں تنگ ہوں تو طلاق۔ جبکہ صورت مسؤولہ میں دونوں شرطیں نہیں پائی گئیں لہذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی نکاح برقرار ہا۔

    ثانیاً نفسِ مسئلہ میں یمین ِفور ثابت ہے۔یعنی شوہر کے قول ’’اگر آپ اب بولی یا روئی‘‘سے وہی مراد ہے جس کے لئے وہ تیار کھڑی تھی صرف اسی بولنے یا اسی رونےپر طلاق ہوگی کیونکہ شوہر کا اس عمل سے روکنا مقصود ہے یہی عرف ہے اور قسم کا مدار عرف پر ہے، اس کا نام یمینِ فور ہے۔یمین فور وہ قسم جس میں کسی قرینہ یا حالف کی نیت سے شرط کا فوری مطالبہ لازم قرار پائے۔امام اعظم امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے یمین الفور کا استنباط فرمایاہے۔یعنی آپ علیہ الرحمہ کے نزدیک قسم کے باب میں صرف لغوی معانی کا اعتبار کافی نہیں بلکہ اس پر عرف بھی جاری ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں کسی قسم میں دلالۃِ فور پائی گئی یا حالف (قسم اٹھانےوالا) کی نیت پائی گئی تو وہاں ’’یمینِ فور‘‘ کا اطلاق ہوگا کہ قسم ٹوٹنے کی شرط فوری ہوگی اور حالف کے آخری وقت (جس میں وہ فعل کرنے سے مایوسی ثابت ہو) تک ممتد نہیں ہوگی۔اس کے تحت جزئیات و تفریعات امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن نے فتاوی رضویہ شریف میں شامل فرمائے۔ نیز نفسِ مسئلہ میں یمین ِفور ثابت ہے۔

    تنویر الابصار میں ہے: "حَلَّفَهُ والٍ لَيُعْلِمَنَّهُ بِكُلِّ داعِرٍ دَخَلَ البَلْدَةَ تَقَيَّدَ بِقِيامِ وِلايَتِهِ".ترجمہ: شہر کے حاکم نے ایک ملازم سے حلف لیا کہ شہرمیں داخل ہونے والے ہر بدمعاش کی مجھے اطلاع دے گا، تو یہ حلف اس حاکم کی ولایت کے قائم رہنے تک مقید ہے۔(تنویر الابصار مع الدر،باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذلک،844/3،دار الفکر)

    اس کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ حصکفی فرماتے ہیں:"بَيانٌ لِكَوْنِ اليَمِينِ المُطْلَقَةِ تَصِيرُ مُقَيَّدَةً بِدَلالَةِ الحالِ ويَنْبَغِي تَقْيِيدُ يَمِينِهِ بِفَوْرِ عِلْمِهِ".ترجمہ:یہ مطلق حلف کو حال کی دلالت کی وجہ سے مقید ہونے کی مثال ہے اس میں یہ بھی قیدہوگی کہ وہ ملازم معلوم ہونے پر فوراً اطلاع دے گا۔ (الدرمختار،باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذلک،844/3،دار الفکر)

    تنویر الابصار میں ہے: "لَوْ حَلَّفَ رَبُّ الدَّيْنِ غَرِيمَهُ أَوْ الْكَفِيلُ بِأَمْرٍ الْمَكْفُولَ عَنْهُ أَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ الْبَلَدِ إلَّا بِإِذْنِهِ تَقَيَّدَ بِالْخُرُوجِ حَالَ قِيَامِ الدَّيْنِ وَالْكَفَالَةِ".ترجمہ:قرض خواہ نے مقروض یا مقروض کے بنائے ہوئے ضامن سے حلف لیا کہ تو میری اجازت کے بغیر شہرسے باہر نہ جائے گا، تو یہ حلف قرض اور ضمانت کی بقاء تک مقید قرار پائے گا، قرض یا ضمانت ختم ہوجانے کے بعد حالف کو اجازت کی ضرورت نہ رہے گی۔(تنویر الابصار مع الدر ،باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذلک،845/3،دار الفکر)

    اسی میں ہے: "لَوْ حَلَفَ لَا تَخْرُجُ امْرَأَتُهُ إلَّا بِإِذْنِهِ تَقَيَّدَ بِحَالِ قِيَامِ الزَّوْجِيَّةِ".ترجمہ:خاوند نے قسم اٹھائی کہ بیوی اجازت کے بغیر باہر نہ جائیگی، تو یہ حلف بھی زوجیت کے قیام تک محدود ہوگا۔ ( تنویر الابصار مع الدر ،باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذلک،845/3،دار الفکر)

    یمین فور کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’یمین الفور جسے خاص فکر بلندثریا پیوند امام الائمہ مالک الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے استنباط فرمایا اور دیگر ائمہ کرام قدست اسرار ہم نے بحکم الفقہاء کلہم عیال لابی حنیفۃ (تمام فقہاء ابوحنیفہ کی عیال ہیں) اس جناب کا اتباع کیا اس کے مسائل اسی اصل جلیل تخصیص بالغرض پر مبنی ہیں متون وشروح وفتاوائے مذہب میں صدہا فروع اس پر مبنی ہیں مثلاً: (۱) عورت باہر جانے کوہوئی، شوہر نے کہا باہر جائے تو تجھ پر طلاق، عورت بیٹھ گئی اور دوسرے وقت باہر گئی، طلاق نہ ہوگی۔تنویر ودر میں ہے: شرط للحنث فی قوله ان خرجت مثلا فانت طالق او ان ضربت عبدک فعبدی حر لمرید الخروج والضرب، فعله فورا لان قصده المنع عن ذلک الفعل عرفا، ومدار الایمان علیه وهذہ تسمی یمین الفور تفرد ابو حنیفة رحمه اﷲ تعالی باظهارها ولم یخالفه احد. جب بیوی باہر نکلنے یا غلام کو مارنے کے لئے تیار ہو اس وقت خاوند اگر کہے کہ تو نے مارا یا باہر نکلی تو تجھے طلاق ہے، تو مارنے اور باہر نکلنے سے وہی مراد ہے جس کے لئے وہ تیار کھڑی ہے صرف اسی مارنے پر یا اسی نکلنے پر طلاق ہوگی کیونکہ خاوند کا اس عمل سے روکنا مقصود ہے یہی عرف ہے جبکہ حلف کا مدار یہی عرف ہے، اس کا نام یمین فور ہے جس کے اظہار اور بیان میں امام ابوحنیفہ متفرد ہیں اور کسی نے ان کی مخالفت نہ کی۔ (۲) زید نے عمرو سے کہا’’میرے ساتھ کھا نا کھالو‘‘۔ عمرو:’’میں کھاؤں تو عورت مطلقہ ہو‘‘۔ کل زید کے ساتھ کھانا کھایا طلاق نہ ہوگی۔ تنویر ودر: وكذا فی حلفه إن تغدیت فکذا بعد قول الطالب تعال تغد معی شرط الحنث تغدیہ معه ذلک الطعام المدعو الیه. یوں ہی اگر کھانے پر دعوت دینے والے کے جواب میں کوئی کہے’’اگر میں کھانا کھاؤں تو بیوی کو طلاق ہے‘‘ تو یہاں بھی طلاق ہونے کےلئے جس کھانے پر دعوت دی گئی اسی کو دعوت دینے والے کے ساتھ کھانا شرط ہے۔ (۳) عورت کو جماع کےلئے بلایا اس نے انکار کیا، شوہر نے کہا ’’اگر میرے پاس اس کوٹھری میں نہ آئی تو تجھ پر طلاق‘‘ عورت آئی مگر اس وقت مرد کی شہوت ساکن ہوچکی تھی، تو طلاق ہوگئی۔اشباہ ودر: إن للتراخی إلا بقرینة الفور، ومنه طلب جماعھا فابتْ فقال إن لم تدخلی معی البیت فانت طالق فدخلت بعد سکون شهوته حنث. لفظ’’ان‘‘ تراخی کےلئے استعمال ہے مگر جہاں فور کا قرینہ پایا جائے تو تراخی مراد نہ ہوگی، اسی فور پر قرینہ کی مثال یہ ہے کہ خاوند نے بیوی کو جماع کیلئے طلب کیا تو بیوی کے انکار پر خاوند نے کہا تو میرے کمرے میں داخل نہ ہوئی تو طلاق ہے۔ تو فوراً داخل نہ ہوئی بلکہ خاوند کی شہوت وخواہش ختم ہونے کے بعد داخل ہوئی تو طلاق ہوجائے گی‘‘۔(فتاوی رضویہ،13/148-151،رضا فاؤنڈیشن لاہور، ملتقطاً)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 7 شوال المکرم 1444 ھ/28 اپریل2023ء