طلاق دے کر زوجیت سے الگ کرتا ہوں
    تاریخ: 13 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 401

    سوال

    میں نے پہلی طلاق کا نوٹس ( 13.07.2023) بیوی کو بھیجا جس میں یہ الفاظ درج تھے کہ ’’طلاق دیکر اپنی زوجیت سے الگ کرتا ہوں“ یہ الفاظ طلاق نامہ لکھنے والے نے خود لکھے تھے میں نے یہ نوٹس خود پڑھا لیکن دستخط نہیں کئے اور پھر بیوی کو بھیج دیا ،اس میں درج الفاظ سے نیت طلاق اول کے نوٹس کی تھی مذکورہ الفاظ سے طلاق کنایہ کا کوئی علم نہ تھا۔ پھر میں نے اس طلاق نامہ کو ختم کروادیا اور (18.08.2023) کو صلح ہو گئی بیوی میکے تھی میں اپنے گھر تھا۔ صلح کے بعد میاں بیوی کی طرح فون پر رابطہ ہوتارہا، رجوع کے کوئی خاص الفاظ نہیں بولے، لیکن صلح کے وقت ایک صلح نامہ لکھا گیا جس میں درج تھا کہ ’’فریقین میں صلح نامہ ‘راضی نامہ ہو گیا ہے، عمر رفیق مسماة بشریٰ شہباز خان کو اپنے گھر میں آباد کر لیا ہے اور مسماة بشری شہباز خان بھی عمر رفیق کے گھر اپنی مرضی سے آباد ہو گئی ہے ، طلاق نامہ کی کاروائی کو ختم کرنا چاہتے ہیں“۔

    پھر میں نے ( 20.11.2023) کو دوسری طلاق کا نوٹس تیار کروایا اور دستخط کر دیئے جس میں یہ الفاظ درج تھے کہ ’’طلاق دیکر اپنی زوجیت سے الگ کرتا ہوں‘‘ ۔ پھر طلاق لکھنے والے نے کہا کہ پہلی طلاق چونکہ منسوخ ہو چکی ہے اس لئے وہ معاملہ ختم ہو گیا ہے اب جب بھی آپ نے طلاق بھیجنی ہے تو طلاق اول ہی بھیجنی ہے۔ تو میں نے دوبارہ نئے سرے سے پہلی طلاق کا نوٹس جو ختم کروایا تھا وہ نکلوایا اس پر تاریخ تبدیل کروائی یعنی پہلے (13.07.2023) تاریخ تھی تو اس پہ (20.11.2023) کروادی۔ لیکن یہ نوٹس بیوی کو نہیں بھیجا بلکہ اسے ضائع کردیا۔

    پھر (15.01.2024) کو سسرال والے میرے گھر سامان لینے آئے تو انہوں نے طلاق کے نوٹس کا مطالبہ کیا تو میں نے اسی طلاق اول کے نوٹس پر دستخط کر کے نوٹس انہیں دے دیا۔ سسرال والوں نے طلاق اول کے نوٹس پر خود ہی ”اول “ کی جگہ ”دوم“ کر دیا لیکن نیچے عبارت اول کی ہی تھی۔ سسرال والوں نے کہا کہ طلاق اول کا نوٹس مؤثر ہو چکا ہے۔پھر میں نے اسی طلاق اول کا ایک اور پرنٹ لیا اور اس پر گزشتہ ماہ (15.12.2023) تاریخ لکھ دی اور دستخط کر دیئے۔یہ نوٹس پہلے نوٹس کے عوض تیار کیا گیا تھا ٹائم پیریڈ جلدی گزرنے کے لئے تاکہ قانونی طور پر فروری میں تیسری طلاق مکمل ہو سکے،لیکن طلاق سو ئم لکھوائی نہیں۔ اس ساری تفصیل کے بعد کیا شرعی حکم ہے کہ صلح کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟

    نوٹ:طلاق اول کے نوٹس میں شوہر کی نیت طلاق موجود تھی،البتہ طلاق دوم میں نیت نہیں تھی۔

    سائل: شوہرعمر رفیق ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا بیان ہوا تو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں لہذا اب بغیر تحلیلِ شرعی عورت ،شوہر کے لئے حلال نہیں ہو گی۔

    تحلیل ِ شرعیکامطلب یہ ہے کہ جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہوں وہ عدت (یعنی اگر ماہواری آتی ہے تو تین ماہواری آکر ختم ہو جائیں اور اگر حمل کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی تو پھر اس کی عدت وضع حمل یعنی بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اگر بڑھاپے کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی تو اس کی عدت تین ما ہ ہو گی) گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرےاور کم ازکم ایک بار جسمانی تعلق قائم ہونے کے بعدوہ اس کو طلاق دے اورپھر اس کی عدت گذارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ۔

    تفصیل:

    تحریر کے ذریعے طلاق کا حکم ثابت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحریر ایسی ہو کہ جسے عرفی اور شرعی اعتبار سے مکمل تصور کیا جائے اور اُس میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہ ہو۔پھر تحریرِطلاق کی دوقسمیں ہیں:

    (۱) مستبینہ مرسومہ:وہ طلاق نامہ جس میں طلاق کا عنوان اورتمہیدیعنی طلاق دینے کی وجہ، الفاظِ طلاق اور شوہر کے دستخط بھی موجود ہوں جیساکہ فی زمانہ اسٹامپ پیپروالاقانونی طلاق نامہ ہوتا ہے۔اس طرح کے طلاق نامے سے بغیر کسی نیت کے اظہار کے قضاءً طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

    (۲)مستبینہ غیرمرسومہ: وہ طلاق نامہ جو طلاق کے عنوان ،سبب ِطلاق کے بیان ،شوہر کے دستخط کے بغیر ہو یاان میں سے کسی بھی ایک چیز کے بغیر ہو یا فی زمانہ سادہ کاغذ پر ہو یا میسج پر ۔ اس طرح کے طلاق نامے پر نیت کے ساتھ ہی قضاءً طلاق واقع ہوگی۔

    پوچھی گئی صورت میں’’ طلاق دیکر اپنی زوجیت سے الگ کرتا ہوں ‘‘سے طلاق رجعی واقع ہوئی کہ یہ صریح رجعی ہے۔جملہ’’اپنی زوجیت سے الگ کرتا ہوں‘‘طلاق میں شدت پیدا نہیں کرتا بلکہ طلاق کا نتیجہ بیان کرتا ہے،چنانچہ پہلے طلاق نوٹس مستبینہ غیرمرسومہ جس میں نیت کی احتیاجی تھی جو کہ باقرارِ شوہر موجود بھی تھی لہذا نیت کی وجہ سے بغیر دستخط کے پہلی طلاق رجعی واقع ہوگئی۔

    پھر یاد رہے کہ طلاق رجعی میں عورت نکاح سے اس وقت نکلتی ہے جب عدت مکمل ہوجائے لیکن چونکہ صورت مسؤولہ میں (18.08.2023) کو رجوع کرلیا گیا تو عورت نکاح میں واپس آگئی کہ عدت ابھی باقی تھی۔اسکے بعد اسی سابقہ جملے سے ( 20.11.2023) کو دوسرا طلاق نوٹس بنوایا جس پر دستخط بھی کردئے گئے لہذا یہ مستبینہ مرسومہ طلاق نامہ ہوا جس میں بلا نیت بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،پس یہ دوسری طلاق ہوئی۔بعدہ طلاق اول کا نوٹس دوبارہ پرنٹ کرکے نئے سرے سے (15.12.2023) تاریخ لکھی گئی اور دستخط بھی کر دیئےگئے تو یہاں تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی۔

    کتب فقہ میں ایک سے زائدطلاقیں دینے میں پہلی طلاق کے بقیہ طلاق سے ملحق ہونے نہ ہونے کی 16 صورتیں بیان کی جاتی ہیں۔جن میں سے ایک صورت یہ ہے کہ صریح رجعی صریح رجعی کو لاحق ہوتی ہے ،یعنی اگر عدت میں تین رجعی طلاقیں دے دیں تو تینوں واقع ہوجائیں گی، یہی صورت سوال میں موجود ہے لہذا تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور بغیر تحلیل شرعی واپسی کی کوئی راہ نہیں۔

    دلائل و جزئیات:

    اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا : فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ.ترجمہ: ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں ۔ اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے‘‘۔(البقرۃ: 230)

    اس آیت کر یمہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد".ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔ ( تفسیرروح المعانی،2/729،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان تحلیل شرعی کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’حلالہ کے یہ معنی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے... وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،12/84،رضا فاؤنڈیشن کراچی)

    تحریری طلاق کے متعلق علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"الْكِتَابَةُ عَلَى نَوْعَيْنِ: مَرْسُومَةٍ وَغَيْرِ مَرْسُومَةٍ، وَنَعْنِي بِالْمَرْسُومَةِ أَنْ يَكُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا يُكْتَبُ إلَى الْغَائِبِ. وَغَيْرُ الْمَرْسُومَةِ أَنْ لَا يَكُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا ... غَيْرَ مَرْسُومَةٍ إنْ نَوَى الطَّلَاقَ يَقَعُ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ كَانَتْ مَرْسُومَةً يَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَى أَوْ لَمْ يَنْوِ".ترجمہ:’’ کتابت طلاق کی دو قسمیں ہیں (۱ )مر سومہ (۲)غیر مرسومہ، اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق نامہ کا عنوان ہو اور تمہید ہو جیسے کسی غائب کو خط لکھاجاتا ہے ۔اورغیر مر سو مہ سے ہما ری مراد یہ ہے کہ جس پر طلاق نامہ کا عنوان نہ ہو،اور وجوہِ طلاق بھی بیان نہ کی جائیں... تحریر طلاق اگر غیرمرسومہ ہو اورشوہر نے طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر نیت نہ کی تو طلاق واقع نہ ہو گی ۔ اورتحریر ِطلاق اگر مرسومہ ہے (جیساکہ مروجہ قانونی طلاق نامہ بمع دستخط) اس کے سبب طلاق واقع ہو جائے گی چاہے طلاق کی نیت ہویا نہ ہو‘‘۔ ( ردالمحتار، 4/455،مکتبہ امدادیہ ملتان)

    علامہ شیخ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی (المتوفی:1004ھ) فرماتے ہیں:"الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ".ترجمہ: طلاقِ صریح طلاقِ صریح کولاحق ہوتی ہے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،3/306،دار الفکر)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:28شوال المکرم 1445 ھ/8مئی 2024ء