Halala ki gharz se kiye gaye nikah ke baad shauhar ko talaq ke liye majboor karna
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب۔ آپ سے یہ سوال عرض ہے کہ ایک لڑکی کو طلاق ہوئی سسرال والوں نے حلالے کا مشورہ دیا تو لڑکی کے والدین نے سابقہ شوہر کے بھائی جو عالمِ دین بھی ہیں ان کی ذمہ داری لگائی انہوں نے اپنے ایک بچپن کے دوست جو بظاہر باشرع تھا امام مسجد بھی تھا لڑکی کا کفو بھی تھا ، اس سے نکاح کروا دیا ۔لیکن اس نے اپنے دوستوں سے غداری کی اور طلاق نہیں دے رہا ۔دوستوں نے بہت سمجھایا اس کو مگر اس نے بات نہ مانی الٹا اس نے لڑکی کو بھی سبز باغ دکھا کے اپنے ساتھ ملا لیا ۔ گاؤں کے بزرگ عالم دین نے اس کو گھر بلایا انہوں نے بھی بہت کہا لیکن اس نے ان کا حیا بھی نہ کیا اور طلاق نہ دی ۔لڑکی کو کہا طلاق مانگو اس نے ان عالمِ دین سے کہا کہ ایسی عورت پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہو جاتی ہے جو بلاوجہ طلاق مانگے ۔ علامہ صاحب نے ان دونوں کو سمجھایا یہ صرف وقتی نکاح تھا اس میں ایسی وعید نہیں ہوتی۔علامہ صاحب نے مرد سے بھی یہ کہا کہ تم نے سامنے سامنے دوستوں سے غداری کی ہے تمہیں پتہ بھی تھا نکاح کیوں کروایا جا رہا ہے مگر اس وقت تمھارے دماغ پہ پردہ پڑا ہوا ہے تمہیں جائز ناجائز کی سمجھ ہی نہیں آ رہی ۔مگر وہ آگے سے ان کو کہتا ہے کہ آپ کا مطالعہ کمزور ہے ۔لڑکی کے والد ،چچا ، بھائی خاندان میں سے کوئی ایک بندہ بھی راضی نہیں کے ہم اس کے ساتھ بھیجیں ۔ 6 ماہ سے لڑکی کو اس سے ملنے بات چیت کرنے سے بھی روکا ہوا مگر پھر بھی وہ طلاق نہیں دے رہا ۔ سب خاندان والے کہتے ہیں ۔اس کے پہلے سے بیوی بچے ہیں آمد ن بھی گزارے لائق ہے ہم اس عورت کی زندگی بھی خراب نہیں کرنا چاہتے نہ ہی اس کی پہلی بیوی کی بد دعا لینا چاہتے ہیں ۔ اور کسی صورت ہم اس کے ساتھ نہیں بھیج سکتے مگر کوئی بات اس پر اثر نہیں کرتی ہم نے صرف حلالے کی غرض سے نکاح کروایا تھا تاکہ یہ واپس پہلے شوہر کے پاس جا سکے ورنہ اس سے نکاح کرنے کی بجائے کوئی اور اچھا رشتہ دیکھ کے کر دیتے ۔کسی نے مشورہ دیا کہ اگر عورت کو راضی کر لیا جائے چاہے پیار سے یا سختی سے تو ہو سکتا ہے وہ عورت کی بات مان کر طلاق دے دے۔ اب ایسے حالات میں کیا کیا جائے کہ لڑکی کو بھی سمجھ آ سکے کہ یہ عارضی نکاح تھا تم گنہگار نہیں ہو گی طلاق مانگ کر اور جب تمھارے والد ، چچا ، بھائی کوئی بھی راضی نہیں تو ان کا بھی حق ہے تم ان کو بھی راضی کرو اور مرد کو بھی سمجھانے کا کوئی طریقہ بتائیں کہ تم سے نکاح صرف حلالے کیلئے کیا تھا جب کوئی بھی راضی نہیں تو تمھارا کام ہی نہیں بنتا کسی دوسرے خاندان کے سکون کو برباد کرنا ۔جن کی بیٹی ہے بھتیجی ہے وہ یہ رشتہ قبول ہی نہیں کرنا چاہتے تو تم کون ہوتے ہو طلاق نہ دینے والے ۔ براہِ مہربانی قرآن وحدیث سے ایسے دلائل دیں کہ ان دونوں کی علیحدگی کیسے کروائی جائے ۔ جزاک اللہ والسلام
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر عقدِ نکاح کے وقت یہ طے کیا گیا تھا کہ حلالہ کے بعد طلاق دی جائے گی، تو ایسا نکاح شرعاً مکروہِ تحریمی اور گناہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لعن اللہ المحلل والمحلل لہ۔حلالہ کرنے والے اور کرانے والے (محلل اور محلل لہ) پراللہ لعنت ہے۔
لیکن اگر زبان سے کوئی شرط نہیں لگائی گئی تھی اور باقاعدہ عام نکاح ہوا (خواہ دل میں نیت تھی)، تو وہ نکاح شرعاً منعقد ہو گیا، لہذا صورتِ مستفسرہ میں دوسرے شوہر کو طلاق دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتاکہ نکاح ایک مستقل رشتہ ہے، لہٰذا اگر دوسرا شوہر طلاق دینے سے انکار کر دے، تو عورت اس کی قانونی اور شرعی بیوی ہی رہے گی بالخصوص اگر عوت اسکے ساتھ رہنے پر راضی ہے تو اس صورت میں خاندان والوں کا طلاق کا مطالبہ از خود ناجائز ہوگا۔لہذا جب تک دوسرا شوہر اسے طلاق نہ دے یا اس کا انتقال نہ ہو جائے اور اس کے بعد عدت مکمل نہ ہوجائے، اس وقت تک وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔
امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے حلالہ کے ساتھ مشروط نکاح کے متعلق سوال کے جواب فرماتے ہیں :شرائط اور چیز ہے اور قصد اور چیز۔ شرط تو یہ کہ عقد نکاح میں یہ شرط لگالے یہ ناجائز وگناہ ہے او رحدیث میں ایسے حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے، اور قصد یہ کہ دل میں اس کا ارادہ ہو مگر شرط نہ کی جائے تو یہ جائز ہے بلکہ اس پر اجر کی امید ہے۔
درمختار میں ہے : (کرہ) التزوج للثانی(تحریما) لحدیث لعن اﷲالمحلل والمحلل لہ(بشرط التحلیل)کتزوجتک علی ان احللک (امااذا اضمرا ذٰلک لا) یکرہ (وکان) الرجل (ماجورا) لقصد الاصلاح ترجمہ:حلالہ کی شرط پر نکاح کہ میں اس شرط پر تجھ سے نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق دے کر حلال کردوں گا دوسرے شخص کا نکاح مکروہِ تحریمہ ہے لیکن دونوں نے اگر دل میں حلالہ کی نیت کی تو مکروہ نہیں، اس صورت میں دوسرا شخص اصلاح کی غرض سے نکاح کرنے پر اجر کر مستحق ہوگا۔(فتاوٰی رضویہ، جلد نمبر 12 ص 408 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: نکاح بشرط التحلیل جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد ِنکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہ تحریمی ہے زوج اول و ثانی اور عورت تینوں گنہگار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائط حلالہ شوہر اول کے ليے حلال ہو جائیگی۔ اور شرط باطل ہے۔ اور شوہر ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگرچہ نیت میں ہو تو کراہت اصلاً نہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے۔(بہارِ شریعت، جلد دوم ،حصہ 8ص 180)۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب