عورت کا عورتوں کی امامت کرنا کیسا
    تاریخ: 20 نومبر، 2025
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 189

    سوال

    ہمارے یہاں مخصوص ایام یعنی شب براۃ ،لیلۃالقدر اوررمضان کےدنوں میں صلاۃ و تسبیح ،تروایح و مختلف نوافل کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں خواتین ایک گھر میں جمع ہوکر نوافل ادا کرتی ہیں ایسے موقع پر خواتین اپنے میں سے کسی ایک خاتون کو امامبنا کر اس کی اقتدا میں نماز ادا کرتیہیں ۔تو کیا ایسا کرنا جائزہے ؟

    سائل:محمد احمد نورانی/کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    امت مسلمہ میں ہمیشہ سے امامت صغری ہو یا کبری ،کا حقدارمرد ہی کو ٹھہرایا گیا ہے۔حالات آسان سازگار ہوں یا کٹھن ناگوار ہمیشہ امامت کا فریضہ مردوں کے ہاتھ میںرہا یہاں تک کہ زمانہ نبوی و صدیقیمیں عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت تھی ،وہ مسجد میں آ کرمرد امام کی اقتدا میں نماز ادا کرتی تھیں،مگر یہ کہیں بھی مذکور نہیں کہ کسی عورت نےمردوں کی امامت کروائی ہو ۔سو اس بات پر سب کا اجماع ہے کہعورت مردوں کی امامت نہیں کروا سکتی خواہ فرض نماز ہو یا نفل ۔

    تاہم عورتکے عورتوں کی نماز پڑھنے کے حوالے سے مذاہب اربعہ میں تفصیل ہے:امام شافعیکے نزدیک عورت عورتوں کی امامت کروا سکتی ہے ،اسی طرح امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے ایک روایت مستحب ہونے کی مروی ہے اور ایک عدم استحباب کی ۔جبکہ امام مالک رضی اللہ عنہ عدم جواز کے قائل ہیں۔ڈاکٹر وحبہ الزحیلیلکھتے ہیں:اما ان کان المقتدی نساء فلا تشرط الذکورۃ فی امامھن عند الشافعیۃ والحنابلۃ،فتصح امامۃالمرءۃ للنساء عندھم ترجمہ:بہرحال اگر مقتدی خواتین ہوں تو ان کی امامت میں امام شافعی و احمد کے نزدیکذکورت (امام کا مرد ہونا)شرط نہیں،لہذ ان کے نزدیک عورت کاخواتین کی امامت کروانا درست ہے۔

    مزید لکھتے ہیں :ولا تصح امامۃ النساء عند المالکیۃوتشرط الذکورۃ فی الامام ۔ترجمہ:اور مالکیہ کے نزدیک عورت کی امامت درست نہیںاور امام کا مذکر ہونا شرط ہے۔(الفقہ الاسلامی والادلۃ،جلد 02،صفحہ 1194،مکتبۃ رشیدیہ کوئٹہ)

    احادیث و آثار در امامت ِ نسا ء

    امامت نساء کے حوالے سےمجوزین کے دلائل احادیث و آثار ہیں ،ان میں سر فہرست ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ،ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنھما ہیں کہ انھوں نے خواتین کی جہری و سری نمازوں میں امامت کروائی یہان تک کہ رمضان میں جماعت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ ملتا ہے ۔اسی طرح ایک صحابیہ حضرت ام ورقہ بنت نوفل انصاریہ رضی اللہ عنھاکا عمل ہے کہ انھوں نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی اجازت سے اپنے گھر یا محلےکی عورتوں کی امامت کی ۔اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی اثر ملتاہے کہ آپ نے خواتین کی امامت کو جائز قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کی امام خاتون درمیان میں کھڑی ہو۔

    حدیث امامتِ نساء من جانب ام ورقہ

    1:۔حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، حدثنا الوليد بن عبد الله بن جميع، قال: حدثتني جدتي، وعبد الرحمن بن خلاد الانصاري، عن ام ورقة بنت عبد الله بن نوفل الانصارية، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما غزا بدرا، قالت: قلت له: يا رسول الله، ائذن لي في الغزو معك امرض مرضاكم، لعل الله ان يرزقني شهادة، قال:" قري في بيتك، فإن الله تعالى يرزقك الشهادة، قال: فكانت تسمى الشهيدة، قال: وكانت قد قرات القرآن، فاستاذنت النبي صلى الله عليه وسلم ان تتخذ في دارها مؤذنا، فاذن لها"، قال: وكانت قد دبرت غلاما لها وجارية، فقاما إليها بالليل فغماها بقطيفة لها حتى ماتت وذهبا، فاصبح عمر فقام في الناس، فقال: من كان عنده من هذين علم او من رآهما فليجئ بهما، فامر بهما فصلبا فكانا اول مصلوب بالمدينة.ترجمہ:ام ورقہ بنت عبداللہ بن نوفل انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے عرض کی :یارسول اللہ! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت عطا کیجیے، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پڑھ (حفظ کر)رکھا تھا۔پھر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت چاہی، تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی۔راوی کہتے ہیں:انھوں نے اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مر جانے کے بعد آزاد کر دینے کی وصیت کر دی تھی، چنانچہ وہ دونوں (یعنی غلام اور لونڈی) رات کو ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ وصال فرما گئیں، اور وہ دونوں بھاگ گئے، صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے، (چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی وہ دوتھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔(سنن ابي داؤد، كتاب الصلوة، باب امامة النساء جلد 01،صفحہ 88،مطبوعہ مجتبائی پاکستان)

    حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنھا والی حدیث کا راویولید بن عبد اللہ بن جمیع ہے ۔اور اس سے پانچ طرق سے یہ روایت مروی ہے:

    پہلا طرق :الوليد بن عبد الله بن جميع عن جدتہ وعبد الرحمن بن خلاد الأنصاري، عن أم ورقة بنت عبد الله بن نوفل الأنصارية۔اس طریق سے روایت ( فأذ ن لها)پر اختتام پزیر ہوتی ہے،اس میں امامت کا ذکر نہیں۔اسے بھی ابو داود نے سنن میں ذکر کیا ہے ۔

    دوسرا طریق:عن الوليد بن جميع، عن عبد الرحمن بن خلاد، عن أم ورقة بنت عبد الله بن الحارث۔اس میں امامت کا ذکر موجود ہے۔

    ولید بن جمیع عبد الرحمان بن خلاد سے بیان کرتے ہیں: وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزورها فى بيتها وجعل لها مؤذنا يؤذن لها و أمرها أن تؤ م اهل دارها ترجمہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (ام ورقہ رضی اللہ عنہا) کی ملاقات کے لئے ان کے گھر جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اذان دینے کے لئے ایک مؤذن مقرر کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو ) حکم دیا تھا کہ انہیں (اپنے قبیلے یا محلے والیوں کو) نماز پڑھائیں۔(سنن ابي داؤد، كتاب الصلوة، باب امامة النساء جلد 01،صفحہ 88،مطبوعہ مجتبائی پاکستان)

    تیسرا طریق :الوليد، عن جدتہ، عن أم ورقة بنت عبد الله بن الحارث الأنصاري۔اس میں ولیداپنی دادی سے بلا واسطہ روایت کرتے ہیں۔اسروایت کو مسند احمد میں ،امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں،طبرانی نے معجم الکبیر میں ذکر کیاہے۔

    چوتھا طریق :عن الوليد بن جميع، عن ليلى بنت مالك، عن أبيها، وعن عبد الرحمن بن خلاد، عن أم ورقة۔اسے ابن خزیمہنے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

    پانچواں طریق:الوليد بن جميع , عن أمه , عن أم ورقة۔اسےامام دار قطنی نے اپنی سنن میں روایتکیا ہے ۔

    آخر الذکرچاروں طرق مفہوماایک جیسے ہیں ،تاہمامام دار قطنی کی روایت میں" تؤم اہل دارھا "کی بجائے " وتؤم نساءها"آیا ہے۔روایت ملاحظہ ہو:حدثنا أحمد بن العباس البغوي : ثنا عمر بن شبه : (ثنا) أبو أحمد الزبيري : نا الوليد بن جميع عن أمه عن أم ورقة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن لها أن يؤذن لها و يقام و تؤم نساءها۔ترجمہ :بے شک رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ورقہ (رضی اللہ عنہا) کو اس کی اجازت دی تھی کہ ان کے لئے اذان اور اقامت کہی جائے ا ور وہ اپنی (گھر، محلے کی) عورتوں کی امامت کریں۔(سنن دار قطني جلد1صفحہ 403،مطبوعہ نشر السنہ ملتان)

    امورقہ والی حدیث کے راوی

    ولید بن عبد اللہبن جمیع،اور ان کے استاد عبد الرحمان بن خلاد ،اور ولید بن عبد اللہ کی والدہ لیلی بنت مالک ،اسی طرح ولید کی دادی ان چاروںکے حوالےسے بعض لوگ جرح کرتے ہوئے ان کومجہول الحال قرار دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ولید بن عبد اللہثقہ ،صدوق ہے،امام مسلم وغیرہدیگر محدثین نے اپنی صحیح میں اس سے روایات لی ہیں ۔چناچہ صاحبِ تقریب التہذیب علامہ ابن احجر عسقلانی نے اسےصدوق قرار دیا ہے۔( تقريب التهذيب : 7432)

    اسی طرح علامہزیلعی نے نصب الرایہ میں ان دونوں کی بابت کہا کہ :قُلْت: ذَكَرَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ۔ترجمہ :ابن حبان نے ان دونوں کا ثقات میں ذکر کیا ۔(نصب الراية لأحاديث الهداية ،جلد 02،صفحہ 32)

    اسی طرح ابن الجارود نے عبد الرحمان بن خلاد کی بابت کہا کہ یہ ثقہ و صحیح الحدیث ہے ۔لہٰذا ان دونوں پر "مجہول الحال " والی جرح ناقابل قبول ہے ۔اسی طرح ولید کی والدہ لیلی بنت مالک کی بھی توثیق ابن خزیمہ اور ابن الجارود نے کی ہے۔ (فراجع الیھما)

    حدیث امامت نساء من جانب سیدہ عائشہ

    1:۔المستدرک للحاکم میں ہے کہ :عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إدْرِيسَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تُؤَذِّنُ وَتُقِيمُ، وَتَؤُمُّ النِّسَاءَ، فَتَقُومُ وَسَطَهُنَّ.ترجمہ :سیدہ عائشہ اذان دیتیں ،اقامت کہتیں،اور اور عورتون کی امامت ان کے درمیان میں کھڑے ہو کر کرتیں۔(حاکم، المستدرک، 1 : 320، رقم : 731)

    امام حاکم نے اس روایت پر کوئی کلام نہیں کیا باوجود اس کے کہ اس سےپہلے ولید بن عبد اللہ والی روایت پرآپ کا کلام موجود ہے۔

    اسی حدیث کو عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں ایک اور طریق سے روایت کیا ہے،روایت ملاحظہ:

    2:۔أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ عَنْ رَيْطَةَ الْحَنَفِيَّةِ أَنَّ عَائِشَةَ أَمَّتْهُنَّ، وَقَامَتْ بَيْنَهُنَّ فِي صَلَاةِ مَكْتُوبَةٍ۔ترجمہ:حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے عورتوں کی امامت کی اس حال میں کہ آپ ان کے درمیان کھڑی ہوئیں فرض نماز میں ۔(المصنف عبد الرزاق،رقم الحدیث : 5086 )

    اسی سند کے ساتھ امام دار قطنی اور امام بیہقی نے روایت کی مگر اس میںلفظ یہ" فَقَامَتْ بَيْنَهُنَّ وَسَطًا"ہیں۔علامہ زیلعی علیہ الرحمہ امام نووی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :قَالَ النَّوَوِيُّ فِي "الْخُلَاصَةِ": سَنَدُهُ صَحِيحٌ۔ترجمہ:امام نووی نے خلاصہ میں کہا کہ اس کی سند صحیح ہے ۔(نصب الراية لأحاديث الهداية ،جلد 02،صفحہ 31)یہ روایت اور بھی طریق سے مذکور ہے جسے ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنفمیں ذکر کیا ہے۔

    3:۔اماممحمد علیہ الرحمہ نے امام اعظم ابوحنیفہ سے روایت کی ہےکہ : مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أنہا کانت تؤم النساء في شہر رمضان، فتقوم وسطا۔ترجمہ :سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا رمضان کے مہینے میں عورتروں کی امامت کرواتیں اور ان کے درمیان میں کھڑی ہوتیں ۔ (کتاب الآثار، باب المرأۃ تؤم النساء، وکیف تجلس في الصلاۃ؟جلد 1صفحہ 208)

    مسئلہ امامت نساء من جانبسیدہ ام سلمہ

    مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ، أَنَّهَا رَأَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَؤُمُّ النِّسَاءَ تَقُومُ مَعَهُنَّ فِي صَفِّهِنَّ ترجمہ :حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا عورتوں کی امامت کرواتیںاس حال میں کہ آپ ان کے ساتھ ان کی صف میں کھڑی ہو تیں۔

    اس سند کے بارے کہا گیاکہ یہ سلسلۃ الذہب کی طرح ہے ،اس میں ام الحسنراویہ آئی ہیں،جن کے متعلق ابن حزم لکھتے ہیں کہ : هي خيرة ثقة الثقات یعنی یہثقات میں بہترین ثقہ ہیں۔

    مسند امام شافعی اور اسی طرح مصنف میں سند صحیح کے ساتھ روایت ہے کہ :أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عن عمار الذهبي عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ قَوْمِهِ، يُقَالُ لَهَا: حُجَيْرَةُ بِنْتُ حُصَيْنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا أَمَّتْهُنَّ، فَقَامَتْ وَسَطًا۔ترجمہ :حجیرہ بنت حصین سے مروی ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے عورتوں کی امامت کی اس حال میںکہ آپ ان کے بیچ میں کھڑی ہوئیں۔(مسند امام شافعی ،جلد 01صفحہ53، دار الكتب العلمية، بيروت)

    علامہ زیلعی نے امام نووی کے حوالے سے لکھا کہ کہ وہ فرماتے ہیں :سَنَدُهُ صَحِيحٌ۔(نصب الراية لأحاديث الهداية ،جلد 02،صفحہ 32)

    ثبوت امامت نساء والی احادیث کی تنسیخ

    حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے عمل کی بابتکہا گیا کہ یہ ابتدائے اسلام پر محمول ہے کہ شروع میں اجازت تھی ،جس پر نقض وارد کرتے ہوئے علامہ ابن ہمام نے صاحب غایہ شرح ہدایہ علامہسروجی کا اقتباسنقل کرتے ہیں کہ :یہبات تاریخی لحاظ سے درست معلوم نہیں ہوتی اس لیے کہ سیدہ طیبہطاہرہ کی شادی مبارک نو سال کی عمر میں ہوئی اور اس کے بعد نو سال آپحضور علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت عالیہمیں رہیں ،اور یقیناامامت بعد از بلوغت ہی کی ہو گی: فَأَيْنَ ذَلِكَ مِنْ ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ ترجمہ :تو یہ ابتدائے اسلام سے کہاں ہوا؟۔

    سو اس بابت یہ بھی کہا گیا کہ جو احادیث امامتِ نسواں کے جواز پر دلالت کرتی ہیں وہ تمام منسوخہیں،جن کی ناسخ احادیث اس مضمون کی ہیں کہ جن میں عورت کے کمرے میں نماز پڑھنے کوصحن میں نماز پڑھنے سے افضل قرار دیا اورکوٹھری میں نماز پڑھنے کو بیت میں نمازپڑھنے سے بہتر فرمایا گیا ۔

    عن عبدالله بن مسعود: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلاةُ المرأةِ في بيتِهاأفضلُ مِن صلاتِها في حُجرتِها، وصلاتُها في مَخدَعِها،أفضلُ مِن صلاتِها في بيتِها۔ ترجمہ :عبد اللہ ابنمسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: عورت کا اپنےکمرے میں نماز اس کے صحن میں نماز اداکرنے سے افضل ہے، اور اس کا اپنی کوٹھری نماز پڑھنا اپنے کمرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔(سنن ابو داؤد ، رقم الحدیث : 570)

    صحیح ابن خزیمہ میں ہے:عن عبد اللہ عن النبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال «إنَّ أَحَبَّ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ إلَى اللَّهِ فِي أَشَدِّ مَكَان فِي بَيْتِهَا ظُلْمَةً۔ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں عورت کی سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہے جو اس کےگھر کے پوشیدہ ترینجگہ میں ہو۔(باب أمرالنساء بخفض أبصارهنّ،جلد: 02 ، صفحہ :816، المکتب الإسلامي)

    یاد رہے کہ نسخ میں ناسخ کےمنسوخ سےمتاخر ہونے کے ساتھ ساتھضروری ہوتا ہے کہ دونوں کے مابین تطبیق ممکن نہ ہو ۔اور اگر دونوں کے مابین تطبیق ممکن نہہو تو پھر تخصیص کی جانب جایا جاتا ہے ، البتہ اگر تخصیص بھی ممکن نہ ہو تو پھر نسخ کیجانب اصولِ تنسیخ کی روشنی میں جایا جاتا ہے۔

    یہاں پر جن احادیث کو ناسخ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے ان میں تاریخی لحاظ سے تاخر کا ثبوت ضروری ہے۔اور اگر تاخر ثابت بھی ہو جاتا ہے تو پھر بھیایسے معنی پر محمول کرنے کی کوشش کی جائے گی جس سےدونوں کے مابین تطبیق کی راہ نکل سکے۔

    چناچہ احادیث میں نسخ کے حوالے سےابو بكر محمد بن موسى الحازمي ہمدانی متوفى 584ھ اپنیشہرہ آفاق کتاب الاعتبار میں لکھتے ہیں : هَلْ يُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا أَمْ لَا؟ فَإِنْ أَمْكَنَ الْجَمْعُ جُمِعَ، إِذْ لَا عِبْرَةَ بِالِانْفِصَالِ الزَّمَانِيِّ مَعَ قَطْعِ النَّظَرِ فِي التَّنَافِي، وَمَهْمَا أَمْكَنَ حَمْلُ كَلَامِ الشَّارِعِ عَلَى وَجْهٍ يَكُونُ أَعَمَّ لِلْفَائِدَةِ كَانَ أَوْلَى صَوْنًا لِكَلَامِهِ عَنِ النَّقْصِ.وَلِأَنَّ فِي ادِّعَاءِ النَّسْخِ إِخْرَاجَ الْحَدِيثِ عَنِ الْمَعْنَى الْمُفِيدِ، وَهُوَ عَلَى خِلَافِ الْأَصْلِ ۔ترجمہ: دونوں احادیث کے مابین تطبیق ممکن ہوگی یا نہیں۔پس اگر تطبیق ممکن ہو تو تطبیق دی جائے گی ۔اس لیے کہ انفصال زمانی کا کوئی اعتبار نہیں، تنافی والی صورت سے قطع نظر کرتےہوئے۔اور جب شارح کے کلام کو ایسی صورت پر محمول کرنا ممکن ہو جو فائدہ کو زیادہ عام ہو تو یہی صورت اولی ہو گی، کیوں کہ اس میں شارح کے کلام کو نقص سے بچانا ہے ،مزید یہ کہ نسخ کا دعوی کرنے میں حدیث کو معنی مفید سے نکالنا ہے جو کہ خلاف اصل ہے۔(الاعتبار في الناسخ والمنسوخ من الآثار صفحہ: 7)

    صحیح یہ ہے کہ ان احادیث سے حکم جواز(امامت نساء) کو منسوخ قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا اس لیے کہ ان احادیث کا ما حاصل حکمِ افضلیت ہے،جو کہ جماعت سے مانع نہیں اس لیے کہ ممکن ہےایک بند کمرے میں چار سے پانچ عورتیں حدود و قیود میں جماعت کروا سکیں !سو اس طرح جماعت کے ساتھ ساتھ افضل پر بھی عمل ہو گیا ۔ لہذا یہاں پر دونوں طرح کی احادیث کے مابین تطبیق ممکن ہے۔

    اگر علی تقدیر التسلیم ان احادیثکو ناسخ بھی مان لیں تب بھی یہ نسخ مفضل منہ(امامتنساء کے سنت ہونے)کا ہو گا ،اصل حکم ِ جواز کا نسخ نہیں کہلائے گا ۔چناچہ محقق علی الاطلاق علامہ کمال ابن ہمام علیہ الرحمہ نے اس پر طویل بحث کرتے ہوئے فرمایاکہ ان احادیث کو حکما منسوخ نہیں قرار دے سکتے اس لیے کہ ناسخ کیتعیین مشکل ہے۔ لکھتے ہیں :كُلُّهَا يَنْفِي ثُبُوتَ النَّسْخِ ۔ترجمہ:یہ تمام احادیث (جن بطور ناسخ مذکور ہوئیں)ثبوت ِ نسخ کی نفی کرتی ہیں ۔

    بر سبیل تسلیم فرماتے ہیں:وَبِتَقْدِيرِ التَّسْلِيمِ فَإِنَّمَا يُفِيدُ نَسْخَ السُّنِّيَّةِ، وَهُوَ لَا يَسْتَلْزِمُ ثُبُوتَ كَرَاهَةِ التَّحْرِيمِ فِي الْفِعْلِ بَلْ التَّنْزِيهَ وَمَرْجِعُهَا إلَى خِلَافِ الْأَوْلَى، ۔ترجمہ :اور اگر تسلیم کر لیا جائے (کہ وہ احادیث منسوخ ہیں )تب بھی یہ نسخ سنیت کے منسوخ ہونے کا فائدہ دے گا ۔اور فعل (امامت نساء)میں مکروہ تحریمی کو مستلزم نہیں ہو گا ،بلکہ یہ مکروہ تنزیہی کو مستلزم ہے اور مکروہ تنزیہی کا مرجع خلاف اولی ہے ۔۔(فتح القدیرشرح الھدایۃ،جلد 01،صفحہ 353، دار الفكر)

    مسئلہ امامت نساء بابت احناف کی آرا علل کی روشنیمیں

    احناف کے نزدیک عورت کا عورتوں کی امامت مکروہ تحریمی ہے خواہ نمازفرض ہویا نفل ۔چناچہ علامہعلاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وَ يُكْرَهُ تَحْرِيمًا (جَمَاعَةُ النِّسَاءِ) وَلَوْ التَّرَاوِيحَ۔ترجمہ:اور عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے اگرچہ نماز تروایح ہو (تنویر الابصارمع الدر المختار،جلد 1صفحہ 565،دار الفکر بیروت)

    اور اس کراہت کی دو علتیں بیان کی جاتی ہیں:۔ عورت امام مقتدیوں سے مقدم ہو گی یا ان کے درمیانکھڑی ہو کر جماعت کروائے گی ۔(1)اگر خواتین کے بیچ میںکھڑی ہو گی تو تقدمکا ترک لازم آئے گا جو کہمکروہ تحریمی ہے اس لیے کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام سے تقدم مواظبت کے ساتھ ثابت ہے،اور مواظبت کا تقاضاوجوب ہے،اور ترکِ وجوب مکروہتحریمی ہے۔ چناچہ صاحب فتح القدیر علامہ ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:لِأَنَّ مُقْتَضَى الْمُوَاظَبَةِ عَلَى التَّقَدُّمِ مِنْهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَا تَرْكِ الْوُجُوب فَلِعَدَمِهِ كَرَاهَةَ التَّحْرِيمِ۔ترجمہ:کیوں کہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے بلاترک اس تقدم پر موظبت کا مقتضی وجوب ہے۔لہذا اس کے عدم کی بنا پر کراہت تحریمی لازم آئے گی۔(فتح القدیرشرح الھدایۃ،جلد 01،صفحہ 351، دار الفكر)

    اسی طرح خاتون امام کے درمیان میں کھڑےہونے کی ایک علت ننگوں کے ساتھ مشابہت بھی قرار دی گئی ہے کہ جب چند لوگ بے لباس ہوں ،اور ایسی جگہ ہیں جہاں بدن چھپانے کی کوئی اور چیز بھی نہ ہو اور نماز کا وقت آ گیا تو حکم یہ ہے کہ سب بیٹھ کر تنہا نماز پڑھیں گے ۔اور اگر جماعتکروانے پر مصر ہوں تو پھران کا امام ان کے درمیانکھڑا ہو گا ۔

    (2)اور اگر امام عورت مقدم ہو گی تو ایسی صورت میںسترِ عورت کے نمایاں ہونے کا مسئلہ لازم آئے گا کہ جب آگے کھڑی ہو گی تو رکوع و سجود کرتے وقت ستر واضحنظر آئے گا نیز کسی نہ کسی عضوکے کھلنے کا بھی خدشہ ہے۔

    تاہم صاحب فتح القدیر نےاس عبارت (وَلَا كَشْفَ عَوْرَةٍ فَكَيْفَ بِالْعَارِي الْمُتَعَرِّضِ لِلنَّظَرِ)سے ایک اعتراض واردکیا کہ جب عورت کا ستر کامل ہو ۔سر سے پاؤں تک ملبوس ہو اور نامحرموں سے بھی بچنے کا اہتمام ہو (جیسے آ ج کل گھروں یامدرسوں میں جب خواتین جماعتکروائیں اور وہاں کوئی بھی نامحرم مرد موجود نہ ہو۔)تو اس صورتمیں ستر کے کھلنے والی علت تو معدومہو جائے گی لہذا حکم ِکراہت بھی نہیں ہونا چاہیے؟

    تو اس اعتراض کاجواب خود ہی دیتے ہیں : ثمَّ ثُبُوتُ كَرَاهَةِ تَقَدُّمِهَا وَهِيَ بِهَذَا السِّتْرِ الْمَذْكُورِ إنَّمَا يَتِمُّ الِاسْتِدْلَال عَلَيْهِ بِفِعْلِ عَائِشَةَ فَقَطْ لَمَّا أَتَتْ، فَإِنَّهَا مَا تَرَكَتْ وَاجِبَ التَّقَدُّمِ إلَّا لِأَمْرٍ هُوَ أَوْجَبُ مِنْهُ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ مَا هُوَ، ترجمہ:عورت امام کے تقدم کی کراہت کا ثبوت اس ستر مذکور کے ساتھ(یعنی جب سر سے پاوں تک ملبوس ہو)پر استدلال فقط حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے فعل سے مکمل ہو جائے گا جب آپ نے امامت کروائی(تو آپ نے تقدم کو ترک کیا)۔کیوں کہ آپ نے تقدم کے واجب کو محض کسی ایسے امرکی وجہ سے چھوڑا ہے جو اس تقدم سے زیادہ مناسب تھا ۔واللہ اعلم وہ امر کیا ہے؟(فتح القدیرشرح الھدایۃ،جلد 01،صفحہ 352، دار الفكر)

    اسی طرح علامہ اکمل الدین بابرتی نے بھی اس کا جواب دیا کہ أن ذلك نادر لا حكم له على أن ترك التقديم بالسنة والتعليل لا يضاهيها۔ترجمہ:یہ نادر صورت ہے جس کا کوئی حکم نہیں با ایں طور کہ ترک تقدم سنت کی وجہ سے ہے اورتعلیلاس کے مشابہ نہیں ہے۔(عنایہ تحت القدیر،جلد 01،صفحہ 364،دار الفکر)

    لیکن علامہ عینی نے کہتے ہیں کہ اسصورت کو نادر کہنا درست نہیں ،چناچہ فرماتے ہیں: قلت: لا نسلم أنه نادر؛ لأن المرأة شأنها التستر في كل الأحوال ولا سيما في الصلاة خصوصا إذا أمت، فإنها تحترز عن انكشاف شيء من أعضائها غاية الاحتراز، فحينئذ لا يوجد كشف أصلا فضلا عن زيادته۔ترجمہ:میں کہتا ہوں ہم تسلیم نہیں کرتے کہ یہ صورت نادر ہے ،اس لیے کہ عورت کی شان یہ ہے کہہر حالت میں اپنے آپ کو چھپائے رکھے ۔اور نماز کے معاملہ میں خاص طور پر جب وہ امامت کرے،تو وہ اپنے اعضامیں سے کسی عضو کے ظاہر ہونے سے بہت بچتی ہے ۔پس جب معاملہ ایسا ہے تو اب اصلا کوئی کشف نہ پایا گیا چہ جائیکہ زیادتی کشف ہو ۔(البنایہ شرح ہدایہ جلد 02صفحہ338، دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)

    محاکمہ:

    تاہم اگر اگر عورت وسط میں کھڑی ہو تو فقط تقدم کا ترک لازم آئے گا اورتقدم کا ترک سیدہ عائشہ و ام سلمہ رضی اللہ عنھما سے مروی ہے۔نیز حکم تقدم عورتوں کے حق میں نہیں بلکہ مردوں کے حق میں ثابت ہے،ورنہ سیدہعائشہ و ام سلمہ کی نمازوں کا کیا حکم ہو گا؟کیوں کہ تقدم کا اعتبار توپھر ان کے حق میں بھی ہونا چاہیے تھا۔اور ان جلیل القدر ہستیوں سے یہ بات کجا ہے کہ وہ اپنی نمازوںکو کراہت کے ساتھ ادا فرماتی ہوں !

    سو مناسبمعلوم ہوتا ہے کہ اس تقدم کا اعتبار عورتکے حق میں کرنے کی بجائے مردوں کے حق میں کیا جائے،جیسا کہ علامہ عینی صاحب بنایہ لکھتے ہیں: فكيف يكون قيام الإمام وسطهن محرما، وقد فعلته عائشة وأم سلمة، وروي عن ابن عباس - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فلقائل أن يقول: ارتكاب المحرم فيه في حق الرجال دون النساء، إذ لو كان مطلقا لما كان يجوز الصلاة۔ترجمہ:امام عورت کا عورتوںکی صف کے بیچ میں کھڑا ہونا کیسے مکروہ ہو گا حالنکہ سیدہ عائشہ و سیدہ ام سلمہ صف کےدرمیان میں کھڑی ہوئیں۔اور ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے ،پس قائل کو چاہیے کہ یوں کہے کہ اس میں مکروہ تحریمی کا ارتکاب مردوں کے حق میں ہے نہ کہ عورتوں کے ۔(البنایہ شرح ہدایہجلد 02صفحہ337، دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)

    عہد حاضر کے مفتیان کرام کامؤقف

    ہمارے زمانے کے معتمد مفتیان کرام علمائے عظام مثلاً مفسر قرآن شارح صحیحین علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ ، مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن دامظلہ،تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی دام برکاتہم العالیہ ،مفتی رفیقالحسن حسنی ظلہ العالی وغیرہا دیگر مفتیان کرام نے اس مسئلہ میں تخفیف دی ہے ۔مفتی منیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں:ہمارے عہد کے مفتیان کرامدینی مصلحت اور ضرورت کے تحت موقع کی مناسبت سے کسی ایک موقف پر رائے دے سکتے ہیں ۔(تفہیم المسائل،جلد 06صفحہ،121 ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

    حالات حاضرہ میںتخفیف کے اسباب

    ہمارے ہاں خواتین میں حفظ کے رجحان کا کم ہونایا حفظ کرنے کے بعد ان کا بھول جانا اس کے من جملہ اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہمردوں کی طرح خواتین کے لیے مواقع نہیں،وہ یوں کہ حفاظ جو پورا سال قرآن نہیں پڑھتے وہ بھی رمضان سے پہلے دور شروع کر دیتے ہیں کہ رمضان میں تروایحپڑھانی ہے۔جبکہ خواتین کے ہاں ایسا کوئی سلسلہ نہیں یہی وجہ ہے حفاظ کے نسبت حافظات جلد بھول جاتی ہیں کہ سنانے کی فکر نہیں ہوتی۔اور یہ بات واضح ہے کہ جو حفاظ پورا سال قرآن نہ پڑھتے ہوں لیکن رمضان میں تراویح سناتے ہوں تو انہیں قرآن یاد رہتا ہے۔

    خواتین میں اجتماعی عبادت کا رجحان مردوں کی نسبت زیادہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہماری خواتین ان راتوں میں خاص طور پر رمضان میں تروایح کے نام پر ،دروس قرآن کے نام پر کہیں بھی جانے کو تیار ہو جاتی ہیں ۔بعض سادہ لو ایسی ہوتی ہیں جنھیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ کس کی محفل یا مجلس ہے یہاں تککہ بد مذہبوں کی مجالس میں چلی جاتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہکل تک جو گھرانے سنی تھے آج وہ بد عقیدہ لوگوں کے دام میں آ کر بد مذہب ہو چکے ہیں ۔

    جن ذرائع کو بند کرنے کے لیے پابندیاں عائد کی گئیں،کیاوہ ذرائع بند ہیں؟ یقینا ہر گز نہیں !!ہماری خواتین بازار وں میں ،شاپنگ مالز میں ریسٹورنٹ میں ہر جگہ جا رہی ہیں عوام تو عوام خواص کی بھی خواتین اس ابتلا میں مبتلا ہیں تو ایسے حالات میں محلے میں موجود کسی گھر میں با پردہ ہو کر تمام حدود و قیودکے ساتھ مخصوص دنوں میں اجتماعی عباداتکا سلسلہ کریں تو اس کی گنجائش ہونی چاہیے!

    حکم شرعی:

    ہمارے نزدیک عورت کی امامت جائز مگرخلاف اولی ہے۔ خواتین کا نماز تراویح کا یوں اہتمام کرنا اس طرح کہ اس میں غیر شرعیحرکات(عورتوں کی آواز کا بلند ہونا جنھیں غیر محرم سنیں،یا اس جگہ غیر محارم مردوں کا آنا جانا ہو)نہ ہوںتو جائز ہے ،اسی طرح جمعہ کے دن یا بڑی راتوں میں خواتین جو نماز تسبیح کا اہتمام کرتی ہیں یہ بھی مذکورہشرائط کے ساتھ جائز ہے۔ایسے کرنے سے وہ گنہگار نہیں ہوں گی ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب